میں نے پِھر اصرار کیا کہ اس کے بعد اپنے گھر چلی جانا، لیکن اس نے میری بات نا مانی

(Alishbah bint e usman, Karachi)

آج جب میں اپنے گھر کے راستے میں تھی تب میری گاڑی جسمیں میں موجود تھی خراب ہو گئی۔ گاڑی سڑک کے کِنارے کھڑی تھی کہ میں نے اپنی طرف ایک بچی کو آتے دیکھا، میرے نزدیک آتے ہی اس نے مجھے شیشہ نیچے کرنے کو کہا۔ اس کے ہاتھ میں موجود پھولوں کے خوبصورت گجرے میں نے دیکھ لئے تھے۔ چونکہ بارش کافی تیز تھی تو میں گاڑی کا شیشہ نیچے کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک میری نظر اس کی آنکھوں پر پڑی، اگلے ہی لمحہ مجھے لگا میرا دم گھٹ جائے گا۔۔۔

چمکتی صاف شفاف خوبصورت آنکھوں میں کیا نہیں تھا؟ اس کی خوبصورت گھنیری پلکوں پر موجود بارش کی وہ بوندیں اور کون جانے بارش کی بوندیں یا بارش میں بارش کے خوف سے آئی لڑی جو چھم چھم لال رخساروں پر بہنے کو تیار تھی یا شاید بہہ رہی تھی۔۔۔

-ایسے جیسے کسی سمندر کی لہریں، جو ساحل پر آنے کے لئے کتنی بے چین ہوتی ہیں اور پھر ہر آنے والی لہر پہلی والی سے زیادہ طاقتور، زیادہ تیز

-ایسے جیسے رگوں میں روانی سے بہتا خون، جس کی روانی میں ذرا سی کمی یا زیادتی ہو جائے تو انسان بیمار کہلانے لگتا ہے

-ایسے جیسے کسی دریا کا پانی، جس کی گہرائی میں انسان گیا تو واپس آنے کی کوئی امید بھی باقی نہیں رہتی

-ایسے جیسے دِل کے دھڑکنے کی رفتار، جس میں کمی بیشی انسان برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔

میں نے شیشہ نیچے کرتے ہی اس سے اس کا نام پوچھا جو اس نے 'زینت' بتایا پھر میں نے اس سے کہا 'زینت بارش اتنی تیز ہے آپ نے گھر نہیں جانا؟ بھیگ رہی ہو ساری، گھر جاؤ فوراً سے'۔ وہ مسکرائی اور کہنے لگی 'آپ یہ لے لیں'۔ میں نے پھر اسرار کیا کہ 'اس کے بعد اپنے گھر چلی جانا'۔ وہ پھر مسکرائی اور کہنے لگی 'گھر؟ کون سا گھر؟ اور آپ کہہ رہی تھیں نا کہ بھیگ جاؤ گی، میں اگر گھر گئی تو گھر میں بھی بھیگ جاؤں گی۔ آپ بس دعا کر دیں کہ یہ بارش جلد رک جائے۔ یہ بارشیں ان کے لئے ہوتی ہیں جن کے گھر پکے ہوتے ہیں۔ اچھی بھی انہیں ہی لگتی ہیں۔ ہم جیسوں کا بارشوں سے کیا واسطہ؟ آپ کو پتہ ہے کتنا خوفناک منظر ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر میں موجود ہوں اور اوپر سے پانی ایسے گِرے جیسے آپ کے سر پر چھت ہی نہیں ہے۔ بارشیں بہت ڈراؤنی ہوتی ہیں، یہاں سڑک پر رہنا اچھا لگتا ہے، مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اوپر کھلا آسمان ہے تو نیچے کھڑے شخص کو بھیگنا ہی ہوگا'۔ اور ساتھ ہی جو آنسو اس نے بہت دیر سے ضبط کئے ہوئے تھے وہ بارش کی برستی بے رحم بوندوں کی طرح پھر سے روانی پکڑ چکے تھے۔ اوپر بادل گرج رہے تھے اور نیچے موتی زینت کی آنکھوں سے کسی آبشار کی طرح بہہ رہے تھے۔

اس دِن، اس لمحہ مجھے اِس بات کا احساس ہوا کہ یا خدا ہم کِس قدر نا شکرے لوگ ہیں؟ تو ہمیں دے دے کے نہیں تھکتا اور ہم نا شکری کرتے نہیں تھکتے۔ ہم اپنی زندگی میں آنے والی ذرا سے مشکل سے ہی گھبرا جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دنیا میں ایسے بھی موجود ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات تک سے محروم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہماری زندگی مشکل ہے، کیوں؟ کیونکہ ہمیں ہماری پسند کا موبائل فون نہیں مِل سکا؟ کیوں؟ کیونکہ ہم اپنے پسند کے کپڑے نہیں خرید سکے؟ ہماری زندگی مشکل ہے کیونکہ ہم اپنی پسند کی جاب حاصل نہیں کر سکے؟ نہیں! قطعاً نہیں۔۔۔

زندگی ان سب چیزوں سے بالاتر ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 976 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Alishbah bint e usman
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Jesa suna wesa paya is article ko
By: Shazim bhatti, Lahore on Jan, 31 2020
Reply Reply
0 Like
Acha hey .
By: Ali Haider, Sheikhupura on Jan, 31 2020
Reply Reply
0 Like
Heart wrenching reality penned down with brilliance !
By: Hamza Nomani, Karachi on Jan, 31 2020
Reply Reply
0 Like
Very well written
Ham waqae bhot nashukray hen
Allah taala ham sabko behtar rah pe chalne ki tofeeq ata kre
By: Wadeed, Karachi on Jan, 31 2020
Reply Reply
0 Like
It's just brilliant . Keep it up
By: Wasif , Lahore on Jan, 31 2020
Reply Reply
0 Like
Language: