دو باتیں

(Amir jan haqqani, Gilgit)

1.دنیا میں مال و دولت سے زیادہ علم و تہذیب کی طرف کشش کی بہتات ہے.مال کی افادیت سے انکار نہیں مگر دنیا علم و شخصیت کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے.ان لوگوں کا پروفائل نکال کر دیکھ لیا جائے جن کے پاس دولت ہے اور جن کے پاس علم ہے. دولت والے کیساتھ صرف معاملہ کیا جاسکتا ان میں دلچسپی نہیں لی جاسکتی، علم والوں کے آستانے پر سب ہی حاضر ہوتے ہیں. اور جن کے پاس علم و دولت دونوں جمع ہوجائے، وہ نور علی نور ہے..

2.قدیم زمانے میں معیشت کا تمام تر منبع مرد ہوتے، اس لیے کہ مرد طاقت کا منبع ہوتے، یعنی طاقت کا انحصار قوت جسمانی پر ہوتا تھا.تب حکومت اور معیشت مردوں کے دائیں بائیں گھوم رہی ہوتی.آج معیشت کا منبع مرد نہیں عورت بھی ہے. کیونکہ آج کی عورت بھی طاقتور ہے، طاقت کا منبع اب قوت جسمانی کے بجائے قوت عقلی ہے. اور عقل کے استعمال میں اب عورت مرد سے آگے نکل چکی ہے اس لیے طاقتور بھی بن گئی ہے.ہمارے جیسے قبائلی علاقوں میں اب بھی معاملہ پرانا ہےمگر اب یہ انداز جاتا رہے گا. تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 89 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 306 Articles with 149880 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: