‎بیٹے کے جرم کی سزا بہو کو کیوں؟

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

بر صغیر کی تاریخ میں ایک واقعہ درج ہے کہ سلطان شیر شاہ سوری کے دور میں ایک روز اس کا بیٹا ہاتھی پر بیٹھا آگرہ کی گلیوں میں گھوم رہا تھا ۔ اسی دوران اس کی نظر ایک مکان کے اندر پڑی جہاں ایک عورت نہا رہی تھی ۔ شہزادے نے رک کر بدقماشی سے پان کا بیڑہ اس کی طرف پھینکا ۔ عورت اپنی اس ذلت پر بہت مغموم ہوئی اور خود کشی کرنے پر تیار ہو گئی ۔ اس کے مہاجن شوہر نے اسے روکا اور فریاد لے کر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہؤا اور اسے شہزادے کی کارستانی کی دہائی دی ۔ بادشاہ نے غضبناک ہو کر اسی وقت اپنا فیصلہ سنایا کہ مہاجن بھی اسی طرح ہاتھی پر سوار ہو کر شہزادے کے گھر جائے جہاں اس کی بیوی کو برہنہ کر کے اس کے سامنے لایا جائے اور یہ بھی اسی طرح پان کا بیڑہ اس پر پھینکے ۔ تمام خلقت بادشاہ کے اس فیصلے پر دم بخود رہ گئی ۔ درباری امراء و زعماء نے شہزادے کی ناموس کی خاطر بادشاہ کی بہت منت سماجت اور سفارش کی مگر وہ نہیں مانا اور اپنے فیصلے پر مصر رہا ۔

ہاتھی پر سوار ہونے کے باعث شہزادے کی نظر گھر کے اندر نہاتی ہوئی عورت پر پڑ گئی یہ ایک غیر ارادی فعل تھا ۔ شاید غربت کی بناء پر مکان کی چار دیواری بوسیدہ و شکستہ ہو چکی ہو اور غسل خانہ بھی برائے نام ہی ہو اور اس وقت بےپردگی کا باعث بن گیا ۔ اور فاصلہ اس قدر کم تھا کہ اوباش شہزادے نے اپنے اختیار اور رسوخ کے زعم میں پان کا بیڑہ عورت کے جسم پر پھینکا یہ ایک نہایت ہی قبیح اور ناقابل معافی فعل تھا ۔ اب ذرا کوئی بتائے کہ اس خباثت میں اس کی بیوی کا کیا قصور تھا؟ بادشاہ اپنے لوفر بیٹے کے کرتوت کی سزا اپنی بیگناہ بہو کو کیوں دے رہا تھا؟ بھرے دربار میں کسی کی بیٹی کے بارے میں اس نے اتنا شرمناک حکم کیوں جاری کیا؟ اور پھر اس پر اڑ گیا یہ کیسا انصاف تھا جو کسی عادل و منصف فرمانروا کی بجائے کسی مطلق العنان ڈکٹیٹر کا فیصلہ نظر آ رہا تھا ۔

اکثر ہی لوگ اپنی تحریروں میں اس واقعے کا ذکر بڑے فخر سے کررہے ہوتے ہیں اور بادشاہ کے اس فقید المثال انصاف کی داد دیتے تھکتے نہیں ۔ اس کی جو بھی حکمت عملی ہو مگر اتنا تو طے تھا کہ مدعی مہاجن کبھی بھی اس فیصلے پر عملدرامد کے لئے راضی نہیں ہو گا ۔ اور پھر ہؤا بھی یہی بیچارہ غریب مہاجن بادشاہ کے "عدل" سے متاثر و ممنون ہو کے اس کے قدموں میں گر گیا اور اپنے دعوے سے دستبردار ہؤا ۔ اور بدلے میں اسے ایک جاگیر عطا کی گئی ۔

واقعے میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ بادشاہ نے خود اپنے بیٹے کو کیا سزا دی؟ اس کی حرکت سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک عادی اوباش تھا اتفاقاً نظر پڑ جانا اور بات ہے مگر وہ گھٹیا حرکت اس نے قصداً کی تھی جس کا خمیازہ اس کی بیوی بھگتنے جا رہی تھی ۔ بس ایک سوال ہے کہ یہی بیہودہ حرکت اگر بادشاہ کا داماد کرتا تو کیا وہ تب بھی اپنی بیٹی کے بارے میں بھی یہی حکم جاری کرتا جو اس نے اپنی بہو کے بارے میں جاری کیا؟
(رعنا تبسم پاشا)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1315 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 125 Articles with 802465 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: