ایک نظر پیار کی قسط نمبر :2

(Sana Waheed, )

شہزین کمرے میں آئی تو مہرش کا موبائل بج رہا تھا۔
غزوان کالنگ۔۔۔۔ اسکے ٹاک بیک آپشن سے آواز آرہی تھی۔ یہ موبائل اسکے گریجویشن پر جنید اور رخشندہ نے اسے گفٹ کیا تھا۔ اورغزوان نے ہی اسکا ٹاک بیک آپشن آن کرکے اسےموبائیل فون کا استعمالسکھایا تھا۔
آپیآپ کال کیوں ریسیو نہیں کر رہیں؟ غزوان بھائ کتنی بار کال کر چکے ہیں آپکو۔
مجھے بات نہیں کرنیکسی سے۔ تم ڈسٹرب ہو رہی ہو تو جاو یہاں سے۔ وہ بیڈپر لیٹے ہی بڑبڑائ۔
افوہ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے۔ آپدونوں بات نہیں کریں گے توایک دوسرے کو سمجھیں گے کیسے۔۔۔۔۔ آپی آپ خوش تو ہیں نا اس رشتےسے؟ شہزین انٹر میںتھی اسے اندازہ ہوگیا تھا کے جب سے مہرش کا رشتہطے ہوا ہے وہ اداس ہے۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ تم غلط سمجھ رہی ہو بس مجھے نیند آرہی ہے سونے دو مجھے۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں تھیں لیکن نیند کا آنا محال تھا دل و دماغ پر ایک ہی شخص سوار تھا
احزم۔۔۔۔۔۔ شاید اسی کی بے رخی کی سزا تھی جو وہ غزوان کو دینا چاہتی تھی۔ اس دن کی تلخ یاد آنسو بن کر اسکا تکیہ بھگو رہی تھی احزم کا کہا گیا ایک ایک لفظ اسے اپنی معذوری اور کمزوری کا احساس دلا رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی دھن میں مگن چھت پر کپڑے سکھا رہی تھی اسی لئے شاید اسے احزم کے آنے کا اندازہ نہیں ہوا۔ ورنہ اپنی چھٹی حس سے وہ معمولی سی آہٹ بھی سن لیتی تھی۔
کیا بات ہے جناب۔ آج چھٹی حس چھٹی پر گئ ہوئ ہے۔ احزم اسکے قریب جاکر گویا ہوا۔
اوہ۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ تم کب آئے۔ وہ گھبراکر بولی۔
اوپر تو بس ابھی آیاہوں۔ لیکن نیچے کافی دیر سے بیٹھا تھا۔ تمہاری بہن کے ساتھ سر کھپا رہا تھا۔ اب تو سر میں درد بھی ہونے لگا ہے۔ سوچا تم تو پتا نہیں کب نیچے آو خود ہی اوپر آکر تمہیں چائے کا کہہ دوں ۔
مجھ سے کیوں؟ اپنی اسٹوڈینٹس سے کہو وہی بلاتی ہے تمہیںاپنی اسٹڈی میںہیلپ کے لئے۔ وہی بنا کر دے گی تمہیں چائے۔ اس نے بالٹی اٹھا کر سائیڈ میں رکھی۔(شہزین کے پیپرز ہو رہے تھے اورفزکس، کیمسٹری کے لئے وہ اکثراحزم کو بلا لیتی تھی)
اسکے ہاتھ کی چائےپینے سے بہتر ہےمیں پیناڈول ہی کھا لوں۔ اورتمہیں تو پتا ہے میں صرف تمہارے ہاتھ کی چائےپینے کے لئے اسے پڑھانے آتا ہوں۔ احزم نے سفید جھوٹبولا۔
اچھا بابا تم جاو نیچے میںآتی ہوں ۔ اس نے ہار مانی احزم مسکراتا ہوا چلا گیا۔
وہ نیچے اتر کر آئی جب غزوان سے اسکی ٹکر ہوگئ۔
او ہواحزم دیکھ کر نہیں چل سکتےتم۔۔۔۔اس نے بمشکل خود کو سنبھالا۔
سوری تمہیں لگی تو نہیں۔ غزوان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اوہ۔ غزوان آپ۔۔۔۔ میںسمجھی احزم ہے آپ کب آئے؟ پھوپھو اور ثوبیہ بھی آئی ہیں کیا؟وہ آواز پہچان کر بولی۔
غزوان اکیلا کم ہی آتا تھا۔ وہ ذیادہ تر اپنی امی یا بہن ثوبیہ کے ساتھ ہیآتا تھا۔ ثوبیہ اور شہزین میں اچھی دوستی تھی ۔ اور رقیہ اکثر اپنے بھائی جنید سے ملنے آتی رہتی تھیں۔
نہیں آج اکیلا ہی آیاتھا امی نے کھیر بنا کر بھیجی ہے مامو جان کے لئے۔
اچھا۔ آپ اندر بیٹھیں میںچائے لیکر آتیہوں۔
نہیںمجھے جانا ہے۔اور تم چائے بنانے سے پہلے کپڑےچینج کرلینا۔ اس نے مہرشکے گیلے کپڑوںپر نظر ڈالتے ہوئے ہوئے کہا اور چلا گیا۔
مہرش سر جھٹک کرکچن میں آگئ۔ چائے اور بسکٹ ٹرےمیں سجا کر وہ ڈرائنگ روم کے پاس پہنچی تھی جب اندر سے اسے احزم کی آواز آئی۔
آپ فکرمت کریں خالہ جان۔ مہرشکے لئے اچھا رشتہ مل جائے گا۔ آپ منع کر رہی ہیںورنہ میرا ایک دوست ہے اسکی بیوی کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔ ایک بیٹا ہےاچھی سیلری ہے۔ گھر بھی اپنا ہے۔ اگر آپ اور خالو جان ایگری ہوںتو۔۔۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہو بیٹا؟ اپنی اتنی خوبصورت اور سلیقہ مند بیٹیکی شادی ایک بچے کے باپ سے کردوں؟
سلیقہ مند ہونے سے کیا ہوتا ہے خالہآخر آپ یہ بھی تو دیکھیں مہرشنابینا ہے۔ اس حقیقت سے نظریں نہیںچرائی جا سکتیں۔ جیسا لڑکاآپ چاہ رہی ہیں ویسا کیسے ملے گا۔ وہ آج سارے مان ختم کرنے آیا تھا شاید۔۔۔۔
مہرش نے خود کو بمشکلسنبھالا۔ چائے کی ٹرے اسکے ہاتھوں سے گرتےگرتے بچی تھی۔ وہ اپنے آنسو روک کر بڑی مشکل سے کمرے میں گئ تھی پھر چائے کی ٹرے رکھ کر رکی نہیں تھی وہ۔۔ آنکھوںسے معذورتھی دل بھرپور ڈھڑکتا تھا اسکے سینے میں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد سے اس نے احزم کا سامنا کرنا چھوڑ دیا تھا۔
اور صرف اسکا ہینہیں رخشندہکا بھی یہی حال تھا۔ انہوں نے اپنی ذندگیوقف کردی تھی مہرش کی ذندگی بنانے کے لئے۔ اور آجانکا بھانجا ہی انکی محنت پر پانی پھیر گیا تھا۔ رخشندہ کو اندازہ تھا مہرشکے نابینا پن سے اس میں جو کمی ہےوہ اسکی غیر معمولی ذہانت سے پوری کی جاسکتی ہے۔ وہ پڑھائی میںہمیشہاچھےنمبرز لاتی تھی۔ گھر داری میں تواسکا کوئی ثانی نہیں تھا اور یہ سب کچھ آسان نہیں تھا مہرشکی سلیقہ مندی انکے عظیم حوصلے کی مرہون منت تھی اور اس بات کی گواہی انکے اور جنید کے سبھی رشتےدار دیتےتھےلیکنان سب باتوں کے باوجود معاشرہانکی بیٹیکو اپنے قابل بیٹوں کے لائق نہیں سمجھتا تھا ۔ جنید کئ بار انہیں یہ بات سمجھا چکے تھے۔ مہرشایم ۔اے فائنل ائیر میں تھی اور انکے حساب سے اسکی شادیہو جانی چاہیے تھی۔ دیکھ لو رخشیاپنی بہن کے آسرےمیں مہرشکی عمر مت نکال دینا۔
کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہیں میں نے کئ بار تابندہ سے اشاروں میں بات کی ہے لیکناس نے ہمیشہ تسلی ہی دی ہے کوئ جواب نہیں دیا۔ میں احزم سے بات کرونگی۔
اور آج بڑےمان سے انہوں نے احزم سے بات کی تھی اور جواب نے سب کچھ سمجھا دیا تھا۔ اس بات کے کچھ ہی دن بعد رقیہ اور وقار غزوانکا رشتہلے آئے۔ اور رخشندہاور جنید نے مہرشسے رسمی اجازت لے کر ہی ہاں کردی تھی۔
باقی آئندہ

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 525 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Waheed

Read More Articles by Sana Waheed: 24 Articles with 13862 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: