انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائزیشن (ارلو ) کے تحت دنیا بھر میں ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا۔ اظہارِ خیال ....... ارشد قریشی

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
ارلو پاکستان کے ذمہ داروں کا کہنا ہے الحمداللہ اب ہم اس مقام پر آچکے ہیں کہ آپ دنیا کہ کسی بھی ملک میں رہنے والے ریڈیو سامع سے اگر دریافت کریں کے کیا آپ جانتے ہیں کہ ارلو کہاں کی ریڈیو تنظیم ہے تو فوری آپ کو جو جواب سننے کو ملے گا وہ یہ کہ جی پاکستان کی ۔ یہی ہماری انتھک محنت کا ثمر ہے ۔ 90 کی دہائی کے بعد پاکستان ریڈیو سامعین کی سرگرمیوں میں بہت پیچھے چلا گیا تھا لیکن اب الحمداللہ ہمارے ایک ایک ممبر نے دن رات محنت کرکے اسے دوبارہ ریڈیو کی دنیا میں صف اول میں لاکھڑا کیا ہے۔آج دنیا بھر میں ریڈیو سامعین ارلو کے دیے سلوگن " ریڈیو ماضی نہیں مستقبل ہے " کے پرچم تلے متحد ہیں ۔

انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائزیشن (ارلو) کے تحت گذشتہ روز دنیا بھر میں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا ۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں ریڈیو سے وابستہ افراد تیرہ فروری کو ریڈیو کا عالمی دن جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ اس روز دنیا بھر کی نشرگاہوں سے سامعین کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں ۔ جہاں دنیا بھر میں ریڈیو کے سننے والے سامعین جوش و جذبے سے اس دن کو مناتے ہیں وہیں پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے ریڈیو کے عالمی دن کو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

عالمی سطح پر ریڈیو سامعین کی منظم نمائندہ تنظیم انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائزیشن (ارلو) پاکستان نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس دن کو انتہائی جوش و خروش سے منایا ۔ ارلو پاکستان کی جانب سے تین روزہ تقریبات کا آغاز 11 فروری سے کردیا گیا تھا ۔ سوشل میڈیا جو اس وقت لوگوں تک رسائی کا سب سے موثر ذریعہ ہے اس کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے خصوصی ایونٹ صفحہ بنایا گیا جس پر دنیا بھر سے ریڈیو سامعین اور ارلو ممبران کو مدعو کیا گیا ۔ تین روز تک اس خصوصی صفحہ پر جس کا عنوان " ہمیں ریڈیو سے پیار ہے " تھا دنیا بھرکے ریڈیو سامعین کی سرگرمیاں جاری رہیں ۔ جہاں ریڈیو کے متوالوں نے ریڈیو کے اور ریڈیو کے عالمی دن کے حوالے سے نہ صرف اپنے تاثرات ایک دوسرے سے شئیر کیے بلکہ مختلف نشریاتی اداروں کی جانب سے ملنے والی اشیاء کو بھی نمائش کے لیے پیش کیا ۔ اس صفحہ پر ریڈیو سامعین کی خوبصورت یادوں اور ولولہ انگیز پیغامات سے دنیا بھر کے سامعین محظوظ ہوئے ۔

ارلو پاکستان کی جانب سے اس سال بھی دنیا بھر کے سامعین اور کسی بھی حوالے سے ریڈیو سے وابستہ رہنے والی شخصیات کو " ورلڈ لسنرز ایوارڈ 2020 " سے نوازا گیا ۔ ارلو پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ تعریفی سرٹیفکیٹ ان شخصیات کو جاری کیے جاتے ہیں جو ریڈیو کی ترقی و بقا کے لیے سرگرم ہیں یا ماضی میں رہے ہیں ۔ اس کے لیے ارلو پاکستان کا شعبہ اطلاعات و سوشل میڈیا سیل سال بھر ایسے لوگوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے جو کسی بھی حوالے سے ریڈیو کے لیے کام کر رہے ہوں ۔ ارلو پاکستان کا کہنا ہے ہم نہ صرف ریڈیو سے وابستہ شخصیات کو بلکہ ان نشریاتی اداروں کو بھی یہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں جو اپنے سننے والوں سے گہرے روابط رکھتے ہیں ۔ تنظیم کا یہ ماننا بھی ہے کہ دنیا بھر میں سینکڑوں سامعین کو سرٹیفکیٹ جاری کرنا ایک وقت طلب اور دشوار کام ہوتا ہے لیکن جب دنیا بھر کے سامعین اسے سوشل میڈیا پر نمائش کے لیے پیش کرتے ہیں اور اپنے ممالک کے دوستوں کو دکھاتے ہیں کہ یہ سرٹیفکیٹ پاکستان سے جاری کیا گیا ہے تو اپنے وطن کی اس پذیرائی کو دیکھ کر تمام تھکن دور ہوجاتی ہے اور ہماری پوری ٹیم پھر سے تازہ دم ہوجاتی ہے۔

ارلو پاکستان کے ذمہ داروں کا کہنا ہے الحمداللہ اب ہم اس مقام پر آچکے ہیں کہ آپ دنیا کہ کسی بھی ملک میں رہنے والے ریڈیو سامع سے اگر دریافت کریں کے کیا آپ جانتے ہیں کہ ارلو کہاں کی ریڈیو تنظیم ہے تو فوری آپ کو جو جواب سننے کو ملے گا وہ یہ کہ جی پاکستان کی ۔ یہی ہماری انتھک محنت کا ثمر ہے ۔ 90 کی دہائی کے بعد پاکستان ریڈیو سامعین کی سرگرمیوں میں بہت پیچھے چلا گیا تھا لیکن اب الحمداللہ ہمارے ایک ایک ممبر نے دن رات محنت کرکے اسے دوبارہ ریڈیو کی دنیا میں صف اول میں لاکھڑا کیا ہے۔آج دنیا بھر میں ریڈیو سامعین ارلو کے دیے سلوگن " ریڈیو ماضی نہیں مستقبل ہے " کے پرچم تلے متحد ہیں ۔

ارلو پاکستان کے سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے جس کے تحت اس تنظیم کے تمام سوشل میڈیا فورم پر سامعین کے گروپ تشکیل دیے گئے ہیں جہاں روزآنہ کی بنیاد پر سامعین ایک دوسرے سے ریڈیو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ تنظیم کی ممبر شپ بھی آن لائن فارم کے ذریعے کی جاتی ہے یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ تنظیم کا ممبر بننے کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی تنظیم نے کبھی کسی بھی تقریب کے لیے کسی ممبر یا کسی بھی ذریعے سے کوئی فنڈ لیا بلکہ ممبران اپنے شوق سے اپنی مدد آپ کے تحت تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں ۔ ارلو ممبران کی جانب سے ریڈیو کے عالمی دن کے حوالے سے تحریر کردہ مضامین بھی اس بار کئی ملکی و غیر ملکی اخبار و ویب سائٹ کی زینت بنے ہیں ۔

اس مرتبہ بھی ارلو پاکستان کی سوشل میڈیا ٹیم نے ریڈیو کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی لوگو اور سوشل میڈیا فورم کے لیے کئی دیدہ زیب اسٹیکرز کا اجراء کیا جس میں دنیا بھر سے ریڈیو سامعین نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ گذشتہ روز ارلو پاکستان نے ریڈیو کے عالمی دن کے حوالے سے کراچی سے فیس بل لائیو کے ذریعے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جس میں دنیا بھر کے سامعین نے شرکت کی ، تقریب میں نہ صرف ریڈیو کے عالمی دن کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا بلکہ ریڈیو سے متعلق ایک کتاب " ریڈیو کے عالمی ادارے اور فروغ اردو " کی رونمائی بھی کی گئی جسے تنظیم کی فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ممبر ڈاکٹر سمیرا اکبر صاحبہ نے تحریر کیا ہے ۔تقریب کے اختتام پر ارلو پاکستان کے عہدیداروں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ ریڈیو کے عالمی دن کے حوالے سے آئندہ برس محمکہ ڈاک کی جانب سے خصوصی ٹکٹ کا اجراء کیا جائے تاکہ اس دن کو منانے اور ریڈیو کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جائے۔

ارلو پاکستان کے عہدیداران نے ان تمام نشریاتی اداروں ، اخبار و جرائد، ٹیلیویژن چینلز، دنیا بھر کے سامعین اور ارلو ممبران اور ریڈیو سے وابستہ شخصیات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہم سے ذاتی طور پر رابطہ کیا اور ہماری سرگرمیوں کی تعریف کی ۔ جبکہ خصوصی طور پر ان نشریاتی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ہماری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اپنے معمول کے پروگراموں میں تبدیلی کرکے ہماری سرگرمیوں کو نشر کیا ، ہمارے انٹرویو اور رپورٹس نشر کیں یہان تک کہ ہماری سرگرمیوں کا عالمی خبروں میں ذکر کیا ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 139 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 115 Articles with 63907 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: