حکمت آمیز باتیں تینتیسواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBukhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں یا اپنے لئے مشعل راہ بھی بنا سکتے ہیں

ایک ایسا شخص ہے جو ہمارے سب مسئلے حل کرا دیتاہے۔
وہ شخص کوئی اور نہیں ہم خود ہی ہوتے ہیں۔
ہم سوچتے ہیں کہ کوئی آکر حل کرائے گا مگر وہ نہیں آتا اور ہم سائل کا شکار رہتے ہیں۔

محبت اپنوں سے بھی کرنی چاہے جب آپ کے اپنے محبت سے محروم رہیں تو پھر آپ کو غیرت کے نام پر قتل ہی ہونا پڑتا ہے۔

#14_فروری محبت کا عالمی دن ہے اس دن ہم ضروری نہیں کہ جنس مخالف سے ہی اظہار محبت کریں ہم اپنی جنس کے ہر فرد سے محبت و عقیدت کا اظہار کر کے اُس کو یہ احساس کیوں نہیں دلواتے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا بس حوصلہ رکھو ہماری محبت تمہاری ساتھ ہے۔محبت مانگو نہیں بلکہ عطا کروتومحبت ملتی رہے گی۔

آخر کب تک لڑکیاں چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر زخمی دل کے ساتھ زندگی بسر کریں،محبت کے نام پر کب تک الو بنایا جائےگا؟
ایک اور لڑکی کے آنسو و کرب نے مجبور کر دیا کہ قلم اُٹھایا جائے کاش محبت کو ہم سمجھ سکیں
یہ کون سی محبت ہے کہ
ہوس پوری نہ ہو تو محبوب کو چھوڑ دیا جائے؟؟؟؟

آج کل کی نوجوان نسل بدترین گمراہی کا شکار ہو چلی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنی ذمہ کا احساس کرتے ہوئے تربیت کریں اورنکاح کم عمری میں کریں۔ کیونکہ نکاح ہی گمراہی سے نجات اورکامیابی کا زینہ ہے۔

اچھی زندگی گذارنے کے لئے خوش رہنا، خوشی دینا اور کامیابی کے ساتھ لوگوں کو بھی کامیاب کرانا ہے۔

رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لئے کسی بھی فرد کو براہ راست نشانہ بنا کر مفادات حآصل کرنا ایک قابل مذمت عمل ہے مگر سیاست میں سب جائز ہے۔

شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور ہر شہادت آزادی کی شمع کو مزید جلاتی ہے، حریت پسند ہر قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور بڑی قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے شہدا کو یاد رکھتی ہے۔
شہادت نصیب سے ملتی ہے تو شہید زندہ و جاوید ہو جاتا ہے اور قوم انہی کی قربانی سے آزاد ہوتی ہے۔

ہر فرد اپنی سوچ رکھتا ہے اور کچھ بھی کہہ سکتا ہے یہ سوچ لیا جائے کہ ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے تو خود پر قابوپایا جا سکتا ہے مزید یہ سوچا جائے کہ یہ وقت بھی گذر جائے گا ہمیں پرسکون رکھتا ہے۔

سزا کا مقصد محض احساس دلوانا ہوتا ہے کہ آپ نے جو کیا وہ غلط تھا اور یہ کسی اور کو بھی سمجھانے کا اشارہ ہوتا ہے کہ آپ نے غلطی کی تو آپ بھی بھگتو گے، سزا چاہے چند پل کی ہو وہ رہتی سزا ہے۔

دوسرا نہیں جھک رہا تو آپ جھک کر رشتہ بچا سکتے ہیں مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عمر بھر کے رشتے اعتبار پر قائم ہوتے ہیں اگر کوئی نا قابل اعتبار ہو جائے تو پھر ساتھ محض دکھاوئے کا ہوتا ہے۔کسی پر اعتبار کرنا ہی آپ کے ظرف کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسروں کی عزت کو روند دینے والے کبھی احترام کے مستحق نہیں بنتے ہیں۔

لڑکی کے میکے میں اگر آس کو حد سے زیادہ تحفظ دیا جانے لگے تو مسائل جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔

محبت بن صلہ کے چاہے جانے اورخوشی دینے کا نام ہے یہ تو محبت کی توہین ہے کہ آپ محبوب کو برباد کریں یا اسکی خوشی میں خوش نہ ہوں اور خود کو تماشہ بنوایں محبت کرنا چاہیے وہ ملے نا ملے۔

محبت تو دائمی رہنے والی شے ہے مگر روگ اس کو بنا لیا جائے تو محبت مار ڈالتی ہے ورنہ محبت زندہ و جاوید رکھتی ہے۔

دانش مر جائے تو پھر جاہلیت مارڈالتی ہے یہی سب سمجھ جائیں تو معاشرہ سدھر جائے۔

نیت بدل جائے تو پھر نتائج بھی حسب توقع حاصل نہیں ہوا کرتے ہیں۔

مسلسل گمراہی سے راہ نجات کی طرف آنا یہ ظآہر کرتا ہے کہ انسان آزمایا جا رہا ہے اوربرائی کا احساس واپس سیدھی راہ کی جانب دھیکلتا ہے۔

دوسروں پر انگلی اُٹھانے والے اپنی غلطیوں کو بھول جاتے ہیں۔

معافی مانگ لینا بری بات نہیں ہے مگر ہم تعلق توڑنے کے لئے ضد پر قائم رہتے ہیں مگر بچانے کے لئے جھکتے نہیں ہیں۔

ہر انسان کو اپنے اعمال پر توجہ دینی چاہیے کون کیا کرتا ہے سے صرف نظر کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 350 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 283 Articles with 229228 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer and Motivator.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: