ناول وطن یا کفن ۔۔۔۔قسط نمبر 9۔ ۔۔

(Shafaq kazmi, Karachi)

ناول وطن یا کفن قسط نمبر 9۔ ۔۔۔مصنفہ شفق کاظمی

نوٹ رائیٹر کی اجازت کے بغیر پوسٹ کرنا منع ہے

سب کریو روم میں بیٹھے تھے شہروز بار بار فیصل کو تنگ کر رہا تھا۔واؤ آج تو بہت مزہ آئے گا میں نے تو سوچ لیا ہے۔آج میں بریانی کھاؤں گا۔رول پراٹھا بھی کھاؤں گا اففف پیزا وہ کیسے بھول سکتا ہوں میں۔۔یا اللّه لوگوں کو روز ایسے سزا ملے تو کتنا مزہ آجاۓ۔۔

ہضم نہیں ہوگا دیکھ لینا۔۔تیرے پیٹ میں درد ہو جاۓ گا۔فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل نے غصہ سے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔

بددعائیں نہیں دیں جناب G-suit پہنیں اور دعا کریں۔۔۔فلائٹ لائن کی طرف جانے کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔۔۔

تجھے تو میں بعد میں دیکھ لونگا شہروز کے بچے تیرا ٹائم بھی آئے گا۔۔۔۔ فیصل نے G-Suit پہنتے ہوۓ کہا۔۔اور منہ بناتے ہوۓ اپنے ایئر كرافٹ کی طرف آگیا۔۔۔۔۔سکون سے پری فلائٹ چیک کرنے کے بعد کریو چیف سے ہاتھ ملایا
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم پڑھتے ہوۓ کاک پٹ میں بیٹھ گیا ۔۔ابھی فیصل صاحب سکون کا سانس لے ہی رہے تھے کے مشن لیڈر ونگ کمانڈر بھی آگئے۔اور فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل صاحب کے ایئر كرافٹ کی بیک سیٹ پہ بیٹھ گئے۔۔۔۔

اففف میرے خدایا میری تو قسمت ہی خراب ہے جو مجھے ایسا سی او ملا۔فیصل نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

کچھ کہا آپ نے فیصل صاحب۔۔۔۔قسمت کیا۔۔ ونگ کمانڈر نے فیصل کی بات ٹھیک سے سنی نہیں تھی۔۔۔۔

نہیں نہیں سر میرے کہنے کا مطلب تھا کہ آج کا دن تو میرے لئے بہت ہی اچھا ہے۔۔۔آج آپ میرے ایئر کرافٹ میں ۔۔۔۔واؤ سر۔۔۔۔

اوکے اوکے ٹھیک ہے۔۔۔ سارے چیک پرفارم کئے آپ نے۔۔۔۔۔

جی سر کر لئے۔۔۔۔فیصل نے مسکراہتے ہوۓ کہا۔۔۔

اچھا تو اب آپ کو خاص دعوت نامہ دینا پڑھے گا کے جناب فلائٹ لیفٹیننٹ صاحب آپ انجن سٹارٹ کریں اور ای ٹی سی سے اجازت لیں
Don't you remember I am.formation leader and we have to take off first...

یا اللّه غلطی کردی ایئر فورس میں آکر۔۔فیصل نے بڑبڑاتے ہوئے جہاز کا انجن سٹارٹ کیا

ایگل ون ٹو ڈیلٹا: پرمشن ٹو ٹیکسی۔۔
ڈیلٹا ٹو ایگل ون: کلیرڈ ٹو ٹیکسی ٹو رن وے۔

ایگل ون۔۔۔کاپی اوور۔۔فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل ایئر کرافٹ کو رن وے پر لے آئے۔۔۔۔۔ایئر کنٹرولر سے اجازت لیکر اڑان بھری۔۔۔بادلوں کے بیچ مینورز میں فیصل نے ڈیفنسیوپوزیشن لی آج دشمن کے حملے کو ناکام بنانے کی ایکسرسائیز تھی۔۔۔جس میں فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل نے ڈیفنڈ کرنا تھا اور فلائٹ لیفٹیننٹ شہروز اٹیک پوزیشن میں تھے۔۔۔۔آج کی ٹریننگ میں فیصل نے کامیابی سے دشمن کے حملے کو ناکام بنایا اور دونو ایئر کرافٹ واپس نارمل فارمیشن میں آگئے۔۔۔۔۔۔

Welldone faisal i am impressed....
ونگ کمانڈر نے مسکراہتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

تھنک یو سو مچ سر۔۔۔۔فیصل نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

فلائٹ کے دوران اچانک ریڈیو پہ آواز آئی۔۔۔۔۔ تھنک یو سر آج ایک عرصہ بعد کچھ اچھا کھانے کو ملے گا۔۔۔۔۔اللّه آپ کو خوش رکھے سر۔۔۔۔

کاش تم میرے سامنے ہوتے تو میں تمہارا گلہ دبا دیتا۔۔۔۔فیصل نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔مشن بخوبی پورا ہوگیا اور سب ایئر كرافٹ حفاظت سے اتر آئے۔۔۔۔۔

۔................
السلام عليكم عاید صاحب کیسے ہیں آپ۔۔۔۔۔بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔۔۔۔۔۔فہیم نے مٹھائی کا ڈبہ عاید ابان کو پیش کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔فہیم عاید ابان کے کولیگ تھے اور محلے میں بھی رهتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
ارے فہیم یہ مٹھائی کیوں۔۔۔اور مبارک کس لئے۔۔۔۔میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔۔۔عاید ابان نے حیرانگی سے فہیم کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔

ارے جناب تم نے امرحہ بیٹی کا رشتہ کردیا بتایا بھی نہیں اور اب انجان بن رہے۔۔۔کم سے کم بتا تو دیتے۔۔۔۔فہیم نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔

نہیں ایسا تو نہیں ہے امرحہ بیٹی کا تو کہیں بھی رشتہ نہیں کیا ابھی ہم نے وہ تو ابھی پڑھ رہی ہے۔۔۔۔۔
لیکن امرحہ نے اپنے واٹس ایپ پر کسی آرمی والے کی تصویر لگائی ہوئی تھی اور ہر وقت آرمی کے سٹیٹس بھی لگاتی رہتی۔۔۔۔۔ہمیں لگا شاید اس آرمی والے کے ساتھ رشتہ ہوگیا ہے امرحہ کا۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔امرحہ کو دراصل آرمی بہت پسند ہے اس وجہ سے انٹرنیٹ سے ڈاون لوڈ کرتی رہتی لگاتی رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔عاید ابان نے مسکراہتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔

ویسے کہنا تو نہیں چاہئے لیکن تم۔ میرے دوست ہو تو کہ دیتا ہوں عاید۔۔۔۔۔۔امرحہ لڑکوں کی ڈی پی لگاتی ہے ۔۔۔۔۔۔سب کو یہی لگتا ہے امرحہ کا کسی آرمی والے کے ساتھ چکر چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔امرحہ بیٹی کو سمجھاوّ۔۔۔۔۔۔وہ ان چکروں میں نہ پڑھے۔۔۔۔۔ویسے بھی بیٹی ذات ہے۔۔۔۔یہ سب لڑکیوں کے لئے مناسب نہیں۔۔۔فہیم تو کہہ کے چلا گیا تھا۔۔۔لیکن سننے والے کا دل چیر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔ایک غیرت مند باپ کبھی برداشت نہیں کرتا کے کوئی بھی اس کی بیٹی کے مطلق کوئی بھی بات کرے۔۔۔۔۔ہمارے معاشرے کے لوگ کسی صورت جینے نہیں دیتے۔۔۔۔
عاید ابان گہری سوچ میں چلے گئے۔ادھر معاشرے کی باتیں برداشت نہیں ہوتی تھی ادھر بیٹی کے جذبہ اور محبت کے آگے ہار جاتے تھے۔۔۔۔۔۔

۔............
آفیسر میس کے لان میں فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل کی طرف سے ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔۔۔۔۔

سر کھانا کھانے سے پہلے دعا کرتے ہیں۔۔۔۔۔فلائٹ لیفٹیننٹ شہروز نے شرارتی انداز میں کہا۔۔۔۔
اب ضرور یہ کچھ الٹا کہنے والا ہے۔۔۔۔فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل شہروز کو گھورتے ہوئے بڑبڑایا

جی جی ضرور۔۔۔۔۔شہروز آپ ہی دعا کروائیں۔۔۔ونگ کمانڈر عبداللّه نے شہروز کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

جی سر۔۔۔۔۔۔بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم....یا اللّه فلائٹ لیفٹیننٹ کو مزید نیند عطا فرماۓ۔۔۔تاکہ ہم ایسے پارٹیز روز روز انجوائے کریں۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔

شہروز کی اس دعا پہ سب بے ساختہ ہنسے۔۔۔۔۔۔کوئی حال نہیں شہروز تیرا فلائٹ لیفٹیننٹ فیصل نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔۔سب نے ہنسی خوشی کھانا کھایا۔۔۔۔
چل شہروز بیٹا کھانا کھا لیا نہ اب تجھے میں روم میں پوچھتا ہوں ۔،۔۔۔ہاہاہا جناب پہلے گارڈ ڈیوٹی تو کر کے آؤ آج کی پھر مجھے پوچھنا۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے )
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 244 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafaq kazmi

Read More Articles by Shafaq kazmi: 78 Articles with 27808 views »
میرا نام شفق کاظمی ہے ۔۔۔۔میں کراچی سے ہوں ۔۔۔۔میں آفیشل۔ لیکھاری ہوں ۔۔۔نیوز پیپر میں بھی لکھ رہی ہوں ۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ میں شاعری بھی کرتی ہوں .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: