ایک نظر پیار کی - قسط نمبر: 3

(Sana Waheed, )

میرون اور فان کلر کے کنٹراس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ تھی ہی ہزاروں میں ایک لیکن ایک معذوری نے اسکی خوبصورتی کو بے وقعت کردیا تھا۔ شاید غزوان نے اسکی چھپی ہوئ خوبصورتی بھانپ لی تھی جبھی تو رقیہ کو زبردستی اس رشتے کے لئے قائل کیا یہاں تک کے گھر چھوڑ کر جانے کی دھمکی بھی دے دی۔تب وہ اس شادی کے لئے راضی ہوئیں ۔ غزوان اپنے گھر میں تیسرے نمبر پر تھا۔ اس سے بڑے ایک بھائی اور بہن کی شادی ہو چکی تھی۔ اس سے چھوٹا ایک بھائ فیضان اور بہن ثوبیہ تھی۔ ثوبیہ اپنی دوست امبرین کی چوائس اور لائف اسٹائل سے بے حد متاثر تھی اس لئے غزوان کی شادی اس سے کروانا چاہتی تھی۔ لیکن غزوان بہت پہلے سے مہرش کو اپنے دل میں بسا چکا تھا۔ اس لئے رقیہ نے اپنے دوسرے بیٹے فیضان کا رشتہ امبرین کے ساتھ طے کردیا تھا۔۔ مہرش ہمیشہ سادہ ہی رہتی تھی۔ بننا سنورنا ، اچھا نظر آنا ان سب باتوں کو رخشندہ اور شہزین کے بار بار سمجھانے کے باوجود وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ آج پارلر سے تیار ہوئ تو ہر نگاہ اس پر ٹھہر رہی تھی۔ پھوپھو کو بھی اطمینان ہوگیا تھا کے انکی بہو کم از کم دیکھنے میں نابینا نہیں لگتی لیکن دل سے ابھی تک قبول نہیں کیا تھا انہوں نے مہرش کو۔
تمہارا سیل فون خراب ہوگیا ہے کیا؟ غزوان نے اسٹیج پر بیٹھ کر پہلا سوال کیا۔
نہیں تو۔ اس نے بے ساختہ جواب دیا۔
تو پھر میری کال کیوں ریسیو نہیں کر رہیں؟
اس بار مہرش کے پاس جواب نہیں تھا۔
اوہ اچھا۔ غلطی میری ہی ہے۔ جب تمہیں موبائیل کے بارے میں سمجھا رہا تھا تو ایک بات بتانا بھول گیا تھا۔ غزوان نے اسے خاموش دیکھ کر خود ہی جواب دیا۔
کونسی بات؟؟؟
یہی کے کال ریسیو کرنے پر بیلنس نہیں لگتا۔۔۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اور جواب میں مہرش بےساختہ ہنسی تھی۔
ہنستی رہا کرو تمہاری ہنسی دیکھنے تو میں ماموں جان کے گھر آتا تھا۔ اسکی بات سن کر مہرش کی ہنسی سنجیدگی میں بدل گئ تھی۔
آپ مجھ سے ہمدردی میں یہ شادی کر رہے ہیں نا؟
ہمدردی؟ وہ اپنی محبت کے اس نام پر حیران تھا۔
جی ہاں۔ آپ جب بھی گھر آتے تھے اور مجھے کام کرتا ہوا دیکھتے تھے تو مجھ سے ہمدردی تو کرتے تھے۔ مہرش کپڑے گیلے ہو گئے ہیں چینچ کرلینا۔۔۔۔۔ تھک گئ ہوگی ریسٹ کرلینا۔۔۔ اتنی گرمی میں اتنا سب کچھ بنانےکی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔مہرش نے اسکے جملے دہرائے جن کی وجہ سے اسے غزوان زہر لگتا تھا۔
یار ان سب باتوں میں ہمدردی کہاں ہے مجھے تو تمہاری فکر ہوتی تھی اس لئے کہتا تھا ہر وقت کام میں یا پڑھائی میں بزی رہتی ہو اپنا خیال بھی رکھا کرو اور میری محبت کو تم ہمدردی سمجھتی ہو مہرش میرے لئے تو تم مثال ہو۔۔ غزوان اسکی بات سن کر حیران تھا۔
مہرش کو شروع سے لگتا تھا کے غزوان اس پر ترس کھا کر یہ باتیں کرتا ہے اسی لئے وہ اس کا سامنا کرنے سے گبھراتی تھی۔ درحقیقت دوسروں کے لہجے میں اپنے لئے ترس یا ہمدردی محسوس کرنا اسکے لئے تکلیف دہ احساس تھا۔ حالانکہ لوگوں کا یہ ردعمل فطری تھا مگر وہ ایسے لوگوں سے کتراتی تھی۔ اور آج سے پہلے غزوان بھی انہیں لوگوں میں شامل تھا البتہ احزم کا مزاج مختلف تھا۔ وہ اسکی ہر چیز کی فراخ دلی سے تعریف کرتا چاہے وہ اسکی گھر داری کے حوالے سے ہو یا پڑھائی کے حوالے سے شاید اسی لئے مہرش نے رخشندہ کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا تھا۔ لیکن اب غزوان اور احزم دونوں کے حوالے سے غلط فہمی دور ہو چکی تھی ۔۔۔
سب ہی رشتے دار رخشندہ اور رقیہ کو مبارکباد دے رہے تھے اور رخشندہ دل ہی دل میں اپنی بیٹی کی نظر اتار رہی تھیں۔ وہ جانتی تھیں اس دور میں اچھی بھلی لڑکی کو اپنے وضع کردہ حسن کے پیمانے میں تولہ جاتا ہے۔ انکی بیٹی تو پھر ایک حس سے محروم تھی۔ایسے میں غزوان جیسا جیون ساتھی اسکی خوش نصیبی ہی تو تھی۔بس انہیں فکر تھی تو اپنی نند اور انکے باقی بچوں کی غزوان کی بڑی بہن راحیلہ کے علاوہ سب ہی الگ تھلگ بیٹھے تھے جیسے کسی غیر کی منگنی میں آئے ہوں۔ رسم کے دوران بھی کسی نے خوش دلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
آپا یہ رقیہ باجی کچھ ناراض ہیں کیا؟ تابندہ بھانپ گئیں تھیں۔
ارے نہیں بس تمہیں تو پتا ہے انکی عادت ہے۔
دیکھ لیں آپا بیٹی کا معاملہ ہے۔
کیا کروں تابندہ۔ جنید کی بہن ہیں اور تمہیں تو پتا ہے وہ اپنی بہن کی کسی بات کو نہیں ٹالتے۔ اور پھر سچ پوچھو تو۔۔۔۔ غزوان سے بہتر ہم سفر نہیں مل سکتا مہرش کو کم از کم وہ اسکی معذوری کو اسکی کمزوری تو نہیں سمجھتا اور رہی بات رقیہ کی تو مجھے یقین ہے میری بیٹی سب کا دل جیت لے گی آخر کیا کمی ہے اس میں۔۔۔ رخشندہ نے دل کی بھڑاس نکال دی تھی۔
ہاں کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں آپا۔ بیٹیاں تو آپ کی دونوں ہی بہت پیاری ہیں۔۔ انہوں نے آئندہ کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنی بہن سے تعلقات خراب نہیں کرنے تھے انہیں ۔ اپنے اکلوتے بیٹے کے شادی غیر خاندان میں کرنے سے وہ بھی ڈرتی تھیں۔
کیا ہوا امی آپ نے بات کی خالہ سے۔ احزم نے دونوں بہنوں کو بات کرتے دیکھا تو رخشندہ کے جاتے ہی پوچھنے آگیا۔
ارے نہیں ابھی موقع نہیں ہے۔ ایک دو دن میں فون پر بات کروںگی۔
کس سے بات کریں گی آپ خالہ؟ اتنی دیر میں شہزین بھی وہاں آچکی تھی۔
کسی سے نہیں بھئ۔ ہر کوئ مہرش کی تعریف کر رہا ہے۔ اصل خوبصورتی تو ہماری شہزین میں ہے۔ تابندہ نے پیار سے بولا ۔
نہیں خالہ جان آپی آج واقعی بہت پیاری لگ رہی ہیں۔
ہاں لیکن ایسی خوبصورتی کا کیا فائدہ جسے وہ خود نہ دیکھ سکے۔ احزم نے مسکرا کر بولا۔ شہزین کے دل کی کلیاں کھل اٹھی تھی آج خالہ اور احزم کی توجہ کا مرکز وہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی آئندہ



 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 514 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Waheed

Read More Articles by Sana Waheed: 22 Articles with 12507 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: