عید عاشقاں آیا اور گیا

(Muhammad Nafees Danish, )

لو جناب مجازی محبوبوں کا عالمی دن آیا اور چلا گیا ، حسب معمول ہمارے قلمی دوستوں نے اس کی حقیقت کا، نقصانات وغیرہ کا ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی اپنے قلم سے ڈھنڈورا خوب پیٹا اور اخبار کی زینت بنیں اور پھر ایک دم یخ بستہ ہو کر آرام سے بیٹھ گئے،مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ مختلف عنوانات سے دنوں کو منانے اور اس میں رنگ ریلیاں رچانے کے کلچر کوخوب فروغ دیا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں بہت سی خرافات، واہیات اور بد اخلاقی وبے حیائی کو پھیلانے کے منصوبے بنائیں جارہے ہیں،جب تک ہم اس کی جڑ کو نہیں کاٹے گئے اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ ہمارے معاشرے میں رسم و رواج اور مذہبی اور قومی تہواروں سے ہٹ کر من گھڑت تہواروں کو جوش و خروش سے منانے کی بہت پرانی بیماری ہے، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ مغربی تہذیب نے بہت سے بے ہودہ رسوم ورواج کو جنم دیا اور بد تہذیبی اور بد کرداری کے نئے نئے طریقوں کو ایجاد کیا، جس کی لپیٹ میں اس وقت پوری دنیا ہے اور بطور خاص مسلم معاشرہ اس کی فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ چنانچہ ان ہی میں ایک 14 فروری کی تاریخ ہے جس کو ” عید عاشقاں“ یا ”یومِ محبت“ کے نام سے منایا جاتا ہے اور تمام اخلاقی حدود کوپامال کیا جاتا ہے، بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور تہذیب وشرافت کے خلاف کاموں کو انجام دیا جاتا ہے، ناجائز طور پر اظہار محبت کے لیے اس دن کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ چند سال قبل یہ لعنت اس درجہ ہمارے معاشرہ میں عام نہیں تھی، لیکن اب رفتہ رفتہ نوجوان طبقہ اس کا غیر معمولی اہتمام کرنے لگا ہے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء وطالبات میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے اور گویا کہ یہ دن ان کے لیے دیگر تمام دنوں سے زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا، کیونکہ اس دن وہ اپنی آرزو کی تکمیل اوراپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں اور غیر شرعی وغیراخلاقی طور پر محبت کا راگ الاپ سکتے ہیں، جب کہ شرعی اوراخلاقی، نیز معاشرتی اعتبار سے اس کی بہت ساری خرابیاں اور مفاسد ہیں، لیکن ان تمام کو بالائے طاق رکھ کر جوشِ جنون اور دیوانگی میں اس دن کو منانے کی فکروں میں اضافہ ہی ہوتاجارہا ہے۔

محبت کرنے کا میں انکار نہیں کرتا بلکہ اس طریقہ کار کا انکار کرتا ہوں، جو ہمارے معاشرہ میں رواج پکڑ چکا ہے ؛ کیونکہ محبت یہ ایک طبعی امر ہے کہ آدمی کو جس سے محبت ہو وہ اس سے ملاقات کا مشتاق بھی بہت ہوتا ہے۔

اگر ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات چڑھتے سورج کی مانند واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت، پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ مگر قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ’’محبت‘‘ کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے۔ صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے حقیقی محبت کا اظہار کرنا چاہے تو وہ بھی تذبذب کا شکار رہتا ہے جبکہ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ جس سے محبت ہو اس سے محبت کا اظہار بھی کیا جائے۔ اس تمام صورت حال کا سبب فقط اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ اسلام نے محبت کی تمام راہیں متعین فرما دی ہیں۔ جہاں محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے وہیں ہمارے معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں بھی پیدا ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا منایا جانا ہے۔ ہر سال 14 فروری کو جوش و خروش سے یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

اس تہوار بد کا آغاز بہرحال جیسے بھی ہو اور جس مقصد کے لیے بھی ہو، لیکن میرے نزدیک آج اس تہوار بد نے ایک طوفان بے حیائی برپا کر دیا ہے، عفت وعصمت کی عظمت اور رشتہ نکاح کے تقدس کو پامال کر دیا اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں آزادی اور بے باکی کو پیدا کر دیا ہے، معاشرہ کو پراگندہ کرنے اور حیا واخلاق کی تعلیمات کی دھجیاں اڑانے کی اورجنسی بے راہ روی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، برسر عام اظہار محبت کے نت نئے طریقوں کے ذریعہ شرم وحیا، ادب وشرافت کو ختم کر ڈالا، اس کی وجہ سے جو نہایت شرم ناک واقعات رونما ہو رہے ہیں اور تعلیم گاہوں اور جامعات میں جس قسم کی بے حیائی بڑھتی جارہی ہے اس کے لیے بعض قلم کاروں نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں؛ تاکہ اس بے ہودگی سے نوجوان نسل کو روکاجاسکے۔

آپ اس بات کا بھی انکار نہیں کرسکتے کہ ویلنٹائن ڈے نے پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بے دردی کے ساتھ بدامن اور داغ دار کیا ہے، اخلاقی قدروں کو تہس نہس کیا ہے ،رشتوں، تعلقات اور احترام انسانیت تمام چیزوں کوپامال کیا ہے، لال گلاب اور سرخ رنگ اس کی خاص علامت ہے ،پھول کی تقسیم اور اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ کا تبادلہ بھی اظہارِ محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے، بڑے پیمانے پر اس کی تجارت ہوتی ہے اور ہوس پرست اس کو منھ بولے دام میں خریدتے ہیں۔ منچلوں کے لیے ایک مستقل تفریح کا سامان بن گیا۔ ویلنٹائن کی جھوٹی محبت کا انجام کیا ہوتا ہے اس کو مختصر جملوں میں بیان کیا ہے : عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا ، محبت کی شادی کا درد ناک انجام، خاوند کے ہاتھوں محبوبہ کا قتل ۔ عشق کی خاطر بہن نے بھائی کا قتل کر دیا۔ محبوب سمیت حوالات میں بند۔ محبت کی ناکامی پر دو بھائیوں نے خود کشی کر لی۔ محبت کی ناکامی …نوجوان ٹرین کے آگے کود گیا، جسم کے دو ٹکڑے۔ ناکام عاشق نے لڑکی کو والدین، چچا او رایک بچی سمیت قتل کر ڈالا۔ یہ وہ اخباری سرخیاں ہیں جو نام نہاد محبت کی بنا پر معاشرتی المیہ بنیں اور آئے روز اخبارات کی زینت بنتی جارہی ہیں۔

یہ وہ تلخ حقائق ہیں،جس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے عنوان سے پوری دنیا میں کیا تباہی مچائی جاتی ہے اور کس طرح ایمان واخلاق سے کھیلا جاتا ہے، معاشرہ کو بے حیا بنانے اور نوجوانوں میں بے غیرتی اور بے حیائی کو فروغ دینے میں اس دن کی کیا تباہیاں ہیں، اس حقیقت سے کسی عقل منداور سلیم المزاج انسان کو انکار نہیں ہو سکتا کہ اس وقت پوری دنیا میں بے حیائی کو پھیلانے اور بد کاری کو عام کرنے کی منصوبہ بند کوششیں ہو رہی ہیں ، نوجوانوں کو بے راہ کرنے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں سے جذبہٴ ایمانی کو کھرچنے اور حیا واخلاق کے جوہر سے محروم کر دینے کے یہ دن اور رسم و رواج طرح کے بہت سے حربے اسلام دشمن طاقتیں استعمال کر رہی ہیں۔ امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کو ان تمام لغویات اور واہیات قسم کی چیزوں سے بچنا ضروری ہے اور معاشرہ کو پاکیزہ بنانے اوراخلاق وکردار کو پروان چڑھانے کے لیے اس طرح کے بے حیائی کو فروغ دینے والے دنوں کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے اوراس کے بالمقابل اسلام کی حیا کی پاکیزہ تعلیمات کو عام کرنے، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹی کے ماحول میں بالخصوص اور نوجوان اپنے احباب اور دوستوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ اس دن کو بے حیائی کا دن اوربے حیائی کو عام کرنے کی ترغیب دینے کا دن بتانے کی کوشش کریں، ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچائیں جو کسی بھی اعتبار سے معاشرہ میں بے حیائی کے پھیلنے کا ذریعہ بنیں اور دنیا والوں کو اسلام کی بلند ترین تعلیمات کا خوب صورت نمونہ پیش کرنے والے بنیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 169 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nafees Danish

Read More Articles by Muhammad Nafees Danish: 17 Articles with 2241 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: