وفا ہے زیست کا حاصل قسط نمبر7

(Farah Ejaz, Karachi)

پانچ سال بعد وہ واپس لوٹا تھا۔ سب کچھ بدل سا گیا تھا۔ زبیر چاچا کا پورشن بھی اور اس کا والد کا پورشن بھی۔ اس کی پہلی ملاقات بھی انہی سے ہوئی تھی۔ وہ بڑے ریزرو انداز میں اس سے ملے تھے۔ شفق چاچی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ بہت ہی سرد مہری کا مظاہرہ کیا تھا انہوں نے اس کے ساتھ. سلام کا جواب بھی روکھے پیکھے انداز میں دیا تھا۔ خیر اسے پہلے سے ہی اندازہ تھا اور توقع بھی۔ تعجب تو اسے اپنی ماں پر ہوا تھا۔ جو بظاہر خوش دلی سے اس سے ملی تھیں مگر وہ محبت ان کے لہجے ان کے رویہ میں مفقود تھی جو کبھی اس کے لیے کسی زمانے میں اس حادثے سے پہلے موجود تھی۔ خیر وہ یہاں والدین کی محبت کی وجہ سے نہیں لوٹا تھا بلکے وہ تو حنین اور بھیا جانی کا حال معلوم کرنے آیا تھا۔ اتنے سالوں میں بھی اس کی چپقلش بغض و کینہ بھیا جانی کے ساتھ ویسا ہی تھا جیسا پہلے تھا۔ کہیں ایک کمینی سی خواہش تھی اس کے دل میں کہ ایک بار ان کے اداس اور برباد چہرے کو دیکھ لے۔


"السلام و علیکم ڈیڈ."

"وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ کیسے ہو؟"

"فائن ۔۔۔۔۔"

"کیا تم اپنی ماں سے ملے ہو؟"

"جی ۔۔۔۔ "

"ہممم ! آج رات کا ڈنر ہمارے ساتھ ہی کر لو۔"

"جی شیور۔"

"بیوی کو ساتھ نہیں لائے اپنی۔"

"وہ ٹوؤر پر گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔ ابروڈ ۔۔۔۔ میں بھی اس ہفتے کے بعد چلا جاؤنگا۔"

"ہممم ! ٹھیک.. تم ساتھ نہیں گئے؟"

"ایکچوئیلی میری ایک امپورٹنٹ میٹنگ تھی اسی لیے ساتھ نہیں جا سکا۔"

"سنا ہے کافی کامیاب بزنس مین بن گئے ہو۔"

"جی ہاں میرا بزنس کافی پھیل چکا ہے پورے ملک میں بھی اور ابروڈ بھی۔"

وہ بڑے مغرورانہ انداز میں بول رہا تھا۔ تو وہ صرف مسکرا کر رہ گئے تھے۔

"بھیا جانی نظر نہیں آرہے۔"

"ہاں وہ اپنی بیوی کے ساتھ باہر گیا ہوا ہے ۔۔۔۔ رات کھانے پر تمہاری ملاقات ہوجائے گی اس سے۔"

ابھی دونوں باپ بیٹے میں بات ہو ہی رہی تھی کہ ثریہ بیگم بھی لاؤنج میں ان کے پاس آکر بیٹھ گئی تھیں۔

وہ ماں کو نظر انداز کرتا ہوا صفدر صاحب سے باتوں میں لگا رہا۔

"بھیا جانی کیسے ہیں؟"

ٹھیک ہے۔ بہت خوش اور مطمعین ہے ۔۔۔۔۔ اللہ کے فضل سے۔"

اس دفع ثریہ بیگم بولی تھیں۔ تو ان کی بات سن کر انہیں دیکھا تھا اس نے۔

"کیا میرا کمرہ ویسا ہی ہے جیسا میں چھوڑ کر گیا تھا۔؟"

"کونسا والا ۔۔۔۔ لائبریری والا یا پرانا کمرہ؟" وہ بغور اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے اس سے بولی تھیں۔

"اوب ویسلی ۔۔۔۔ میرا کمرہ تو لائبریری میں تبدیل کردیا گیا تھا۔"

"ہممم! ہاں تمہاری تمام چیزیں ویسے کی ویسے ہی وہاں موجود ہیں ۔۔۔ بابا جان نے تمہارے کمرے کو کسی کو ہاتھ بھی لگانے نہیں دیا ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔۔ تم کو بھی ان کے انتقال کی خبر دے دی گئی تھی ۔۔۔۔ تم نہ ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور نہ ہی تدفین میں۔"

"وہ میں ۔۔۔۔ (رک کر ) ابروڈ میں تھا ڈیڈی نے مجھے بتا دیا تھا۔میں دو مہینے بعد لوٹا تھا واپس تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔"

"یہ ڈیڈی کون ہے۔"

"ثاقب لودھی مائی فادر ان لو (سسر)۔"

"اچھا۔"

"کیا میں اپنا کمرہ دیکھ سکتا ہوں؟"

وہ اپنی ماں سے گھبرا رہا تھا۔ ان کی چھبتی نظریں مستقل اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اٹھے اور یہاں سے واپس اپنے عالیشان محل نما بنگلو لوٹ جائے۔ لیکن ابھی وہ بھیا جانی کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس بدصورت حنین کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس لیے اپنے کمرے کی بات کی تھی۔

"ہاں دیکھ لو۔"

صفدر صاحب بولے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ وہ جب اس کمرے جو کبھی اس کا اور حنین کا مشترکہ کمرہ تھا کے دروازے پر پہنچا تو وہ تمام گزرے پل ایک فلم کی طرح اس کے ذہن کی اسکرین پر چلنے لگے تھے۔ تو وہ آپ ہی آپ مسکرانے لگا تھا۔ اسے حنین کو اذیت دینے میں خوشی محسوس ہوتی تھی۔ اور اسے اذیت میں دیکھ کر اسے لگتا تھا کہ وہ بھیا جانی کو اذیت دے رہا ہو۔ وہ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا۔ کمرے میں سب کچھ ویسا ہی تھا۔ اس کی ذاتی استعمال کی تمام چیزیں قرینے سے رکھی تھیں۔ کیبنٹ کھول کر دیکھی تو اس میں بھی اس کے کپڑے ھینگ ہوئے وے تھے۔ البتہ حنین کی تمام جیولری کپڑے اور ذاتی استعمال کی اشیاء وہاں سے ہٹا دی گئی تھیں۔

"میں تمہیں ایک دفع دیکھنا چاہتا ہوں حنین ۔۔ ہنہ ۔۔ کہ تم کس حال میں ہو ۔۔۔۔ شکل تو بگڑ چکی تھی تمہاری اور قسمت بھی۔"
وہ زیر لب بڑ بڑایا تھا۔ اور ایک کمینی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلی تھی۔

××××××××××××

دروازے پر کسی کے دستک دینے پر وہ جو بیڈ پر اپنے لیٹے سورہا تھا اٹھ بیٹھا۔


"کون؟"

پھر کسی نے دوبارہ دستک دی تو اسے یاد آیا کہ کمرہ تو ساؤنڈ پروف ہے۔ اس لیے بیڈ سے اٹھ کر دروازے کے قریب پہنچا اور دروازہ کھول دیا۔

"ساب (صاحب ) جی وہ جی ڈائیننگ روم میں بڑے ساب (صاحب ) آپ کو بلا رہے ہیں۔"

"اچھا تم چلو ۔۔۔۔۔ میں آرہا ہوں۔" یہ کہہ کر دروازہ بند کرتا ہوا پلٹا تھا ۔ اور اپنی قیمتی رسٹ واچ پر ٹائم دیکھا تھا۔

"اوہ ! اتنی دیر تک سوتا رہا میں۔۔ وہ بھی تین گھنٹے ۔۔۔۔ بھیا جانی بھی آچکے ہونگے۔"

سلمان کا خیال آتے ہی وہ تیزی سے واش روم کے اندر گھس گیا تھا۔ پھر جلدی سے فریش ہوکر باہر آیا تھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے مرر کے سامنے کھڑا ہوکر اپنے بالوں میں کنگھی کرنے لگا۔ بال کافی سے زیادہ گر چکے تھے۔ کسی زمانے میں اس کے بال کافی گھنے اور چمکدار تھے مگر اب ۔ خیر ہیر ٹرانسپلانٹ کی بدولت اس کی یہ خامی چھپ گئی تھی۔

وہ جب ڈائیننگ روم میں پہنچا تو صفدر صاحب زبیر صاحب ثریہ بیگم اور شفق چچی کو ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے دیکھا۔ مگر نہ وہاں حنین تھی اور نہ ہی سلمان اور ان کی بیگم۔ کچھ مایوسی تو ہوئی مگر چپ چاپ جاکر صفدر صاحب کے بائیں جانب خالی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔

"السلام علیکم."

"وعلیکم السلام!"

"وعلیکم!"

"بھیا جانی ابھی تک نہیں آئے۔"

"آگیا ہے وہ ۔۔۔۔۔ بس آتے ہونگے وہ سب۔"

"السلام علیکم!"

"لو آگئے ہمارے برخوردار۔"

چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا اس نے۔ سلمان مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے۔ پھر اسے دیکھ کر چونکے تھے۔ شاید انہیں اس کے آنے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ خیر ان کا چونکنا چند سیکنڈ کا تھا۔ پھر وہ نارمل انداز میں باوقار انداز میں قدم اٹھاتے قریب ٹیبل کے پہنچے تھے۔

"وعلیکم السلام بیٹے کیا حال ہیں؟ بہت جلد لوٹ آئے تم لوگ کچھ دن اور رہتے۔"

"بس زبیر چاچا آپ کی بیٹی صاحبہ کا ہی دل نہیں لگا آپ سب کے بغیر۔"

"السلام علیکم ۔۔۔۔۔ میر کیسے ہو ۔۔۔۔ کافی عرصے بعد تم سے ملاقات ہو رہی ہے۔" بہت ہی فارمل سا لہجہ تھا ان کا۔ نہ کوئی گرم جوشی نہ ہی لہجے میں چاشنی۔

"وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں۔"

اتنے میں ہی دو بچے دوڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔

"السلام علیکم !دادو نانو دادا جانو۔"

"نانا جانو کو کوئی نہیں بھولا میں ۔۔۔ ماما سے بولا تھا مجھے جانا ہے گھر۔

"میں بھی۔"


اتنے کیوٹ اور خوبصورت بچوں کو دیکھ کر وہ حیران ہوگیا تھا۔


"یہ کس کے بچے ہیں؟"

"سلمان اور حنین کے بچے ہیں میر۔" ثریہ بیگم بولیں تو نوالہ حلق میں اٹک گیا تھا اس کے ۔۔۔۔۔

"پپ پانی۔"

سامنے بیٹھے سلمان نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا تھا۔ فوراً ان سے پانی کا گلاس لے کر غٹا غٹ پی گیا تھا۔

"بھیا جانی اور حنین ۔۔۔۔۔ بھیا جانی نے حنین سے شادی کرلی ۔۔۔۔ اس بدصورت عورت سے جسے میں نے چھوڑ دیا تھا۔"

"السلام علیکم۔" وہ حنین کی آواز کو ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔ پلٹ کر دیکھا تھا اسے ۔ اور کچھ دیر کے لیے شاکڈ ہی رہ گیا۔ یہ وہ حنین نہیں تھی جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ یہ تو کوئی اور حنین تھی۔ بے انتہا خوبصورت اور باوقار سی۔ اس حنین کی تو شکل بگڑ چکی تھی مگر۔

حنین بھی اسے دیکھ کر چونکی تھی۔ مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پالیا تھا۔ اور باوقار انداز میں چلتی ہوئی سلمان کے ساتھ والی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی تھی۔ تھوڑی سی کپکپاہٹ سی تھی ہاتھوں میں مگر سلمان نے بڑی محبت سے اپنا ہاتھ اس کے کپ کپاتے ہاتھ پر رکھا تھا۔ اور نظروں کی زبان سے اسے اپنے یقین اپنی وفا کا احساس دلایا تھا۔ حسد کی آگ میں جھلستے میر نے بھی یہ منظر دیکھا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ پھر سے حنین کو سلمان سے چھین لیتا۔ مگر اب شاید یہ ممکن نہیں رہا تھا۔


××××××××××××××

باقی آئندہ ۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 633 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farah ejaz

Read More Articles by farah ejaz: 145 Articles with 134042 views »
My name is Farah Ejaz. I love to read and write novels and articles. Basically, I am from Karachi, but I live in the United States. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: