فلاح انسانیت اور منھج نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم

(Muhammad Irfan, Islamabad)

حضور شفیع محشر سید العالمین محمد مصطفیٰ علیہ الصلوآۃ و التسلیم نے جہان آب و گل میں قدم رنجا فرمایا تو زندگی کے جملہ گوشے نور سے مخمور ہو گئے۔ ہدایت ضلالت کی جگہ راہ پا گئی، جہالت کی ظلمت علم و نور کی کرنوں سے نا پید ہو گئی، زمانے کی جاھل ترین قوم مہذب زندگی کے جمیع شعبوں میں امام بن گئی۔ نیز انسانیت کے جملہ پہلو جو جاں بلب تھے ان کو حیات جاویداں مل گئی۔ چونکہ حضور علیہ الصلواۃ و التسلیم کی نورانی تعلیمات کا مدعیٰ ہی فلاح انسانیت ہے اسی لیے مذکورہ بالا تحسینیات کا ظہور ہونا ایک فطر تی تقاضا تھا جس کا مظاھرہ مدینہ طیبہ کے اسلامی معاشرے میں پوری آب و تاب کیساتھ ہوآ۔
فلاح انسانیت فی الحقیقت ہر اس انسانی رویے کا نام ہے جس کا تعلق بلواسطہ یا بلاواسطہ معاشرے کے دیگر افراد کی بہتری کا اہتمام کرنے سے ہو چاہے یہ رویے انفرادی ہوں یا اجتماعی، سماجی اور معاشرتی ہوں یا معاشی اور سیاسی، پس ان کا مطمع نظر افراد معاشرہ کی بہتری سے مربوط ہونے کا نام فلاح انسانیت ہے۔ معاشرہ جب افراتفری اور بدامنی کا شکار ہو تو ان رویوں کا مقصد اگر معاشرے کے امن و امان اور استحکام سے منسلک ہو تو انہیں فلاح کا نام حقیقت پر مبنی ہے۔
زیر نظر اس تحقیقی مضمون میں ان تمام حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے جہاں تعلیمات نبوی ﷺ فلاح انسانیت کے باب میں نمایاں اور بے مثل واقع ہوئی ہیں۔ فلاح انسانیت کا مطالعہ احادیث بنویﷺ کی روشنی میں درج ذیل دو پیلوؤں کے حوالہ سے کیا جاتا ہے۔
انفرادی رویوں کی اصلاح
انفرادی رویے کسی بھی معاشرے کے باسیوں کی پہچان ہوتے ہیں۔ اگر یہ اعلٰی اقدار اور عدل و انصاف کے حامل ہونگے تو معاشرے کا نہ صرف حسن دوبالا ہو گا بلکہ اس کا استحکام بھی یقیینی ہو گا اور انسانی فلاح کی بنیادیں بھی مضبوط ہونگیں۔ حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے انفرادی رویوں کو حسین بنانے کیلیے درج ذیل ترغیبات دی ہیں:
ظلم کسی بھی قسم کا ہو حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے اسکی حوصلہ شکنی فرما کر فلاح انسانیت کا حسین درس دیا ہے۔ اس سلسلے میں حضرتْ أَبِو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضى الله عنه رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سے روایت فرماتے ہیں
‏" إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ لأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا ‏"‏‏.‏
جب مومن جہنم سے خلاصی پا لیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان سے ان مظالم کا قصاص لیا جائے گا جو ان کے درمیان دنیا میں تھے یہاں تک کہ جب انہںں پاک اور صاف کر دیا جائے گا تو انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں مُحَمَّدٍ سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی جان ہے وہ اپنے درجے میں جنت کے کم ترین درجے میں ہو گا۔
ظلم کی حوصلہ شکنی ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما کی روایت کردہ درج ذیل حدیث طیہ میں بھی کی گئی ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ ‏ "‏ اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ‏"‏‏.‏


سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا تو ارشاد فرمایا، مظلوم کی بدعا سے بچنا کیوں کہ اسکے اور اللہ تعالٰی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح ظلم کے گناہ کی شدت کو درج ذیل حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لأَحَدٍ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَىْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ ‏"‏‏.
یعنی ابو ھریرہ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے ارشاد فرمایا، جس کسی نے کسی دوسرے بھائی کیساتھ اس کی عزت یا کسی اور معاملے میں ظلم کا ارتکاب کیا ہو اسے چاہیے کہ وہ اج ہی اس سے بری الزمہ ہو جائے قبل اس دن کے جس میں نہ کوئی دینار ہو گا اورنہ ہی درھم۔ اس صورت میں اگر اس ظالم کے اعمال صالحہ ہونگے تو ان میں سے اس کے ظلم کی مقدار لیا جائے گا اور اگر اس ظالم کی نیکیاں نہیں تھیں تو مظلوم کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔ اس سے ظلم کے جرم کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح باہم تعاون کسی معاشرے کے اتحاد و یگانگت کے علمدار ہوتے ہیں۔ یقینا یہی وہ وصف ہے جو قوموں کے اندرونی استحکام میں اینتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی اہمیت پر حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما کی روایت میں درج ذیل فرمایا۔

"أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

یعنی حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے ارشاد فرمایا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرتا۔ وہ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کی حاجت پوری فرماتے ہیں، اور جس نے کسی مسلمان سے مصیبت کو دور کیا اللہ تعالٰی قیامت والے دن اس کی مصیبتوں کو دور کریں گے۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالٰی قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
الغرض باہم تعاون اور حاجت روائی کا بے مثل درس دیا گیا۔
فلاح انسانیت کے ضمن میں ایک اور اصول حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه کی روایت کردہ درج ذیل حدیث طیہبہ میں دیا ہے۔
أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ‏"‏‏.‏


یعنی سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔
اس حکم کے بعد کچھ صحابہ کرام نے مزید سمجھنے کیلیے استفسار کیا تو حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے اس کی وضاحت کچھ یوں فرمائی۔
عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ ‏"‏ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ ‏"‏‏.‏

یعنی سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مظلوم کی مدد کرنا سمجھ میں آتا ہے ظالم کی مدد کیسے کی جائے تو ارشاد ہوا اس کا ہاتھ ظلم سے روک کر اس کی مدد کرو۔ یقینا انسانیت کی بھلائی کا یہ بلند ترین درس ہے۔
فلاح انسانیت کیلیے اسلام کے دیے گئے قواعد میں سے ایک اصول بلا شک و شبہ انفرادی رویوں کی تحسین ہے۔ ان انفرادی رویوں کی تحسین کو دو بالا کرنے کیلیے بَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما کی روایت کردہ درج ذیل حدیث طیبہ میں ایک جامع لائحہ عمل دیا گیا ہے ۔
"ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ‏.‏ فَذَكَرَ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعَ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتَ الْعَاطِسِ، وَرَدَّ السَّلاَمِ، وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةَ الدَّاعِي، وَإِبْرَارَ الْمُقْسِمِ‏.‏

یعنی سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ہمیں سات چیزوں کاحکم ارشاد فرمایا، اور سات سے منع فرمایا۔ پس ذکر فرمایا مریض کی عیادت کا، جنازوں کے پیچھے چلنے کا، چھینک کا جواب یرحمک اللہ کیساتھ دینے کا، سلام کا جواب دینے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے کا اور لوگوں کی قسمیں پوری کرنے میں مدد دینے کا۔ چناچہ درج بالا حدیث طیبہ میں جن سات چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ باہمی ھمدردی، ملنساری اور یگانگت کو پروان چڑھانے کیلیے ایک جامع حکمت عملی کا درجہ رکھتے ہے جن کو سرانجام دینے کا حکم حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے ارشاد فرمایا ۔
اجتماعی رویوں کی تحسین
فلاح انسانیت میں جو عوامل انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ان میں دوسرا درجہ عمدہ اجتماعی رویوں جو قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوں، کی ترویج ہے۔ اس ضمن میں اہم نقاط کا مطالعہ حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی احادیث پاک کی روشنی میں درج ذیل سطور میں کیا جاتا ہے۔
زمینوں پر جابرانہ قبضے اس دور میں ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ حضور سرور عالم صلٰی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم نے اس کی حوصلہ شکنی درج ذیل حدیث پاک میں فرمائی ہے۔

أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ ظَلَمَ مِنَ الأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ‏"‏‏.
سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، جس نے زمین سے متعلق کسی قسم کا ظلم کیا اسکے بدلے میں سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائیگا۔ جس سے اس کے گناہ ہونے اور اس کی شدت کا احساس ہوتا ہے۔
جھگڑالو افراد کے انجام کے بارے میں درج ذیل حدیث پاک میں انکشاف فرمایا گیا ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ ‏"‏‏.‏
سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، لوگوں میں سے اللہ تعالٰی کے ہاں مبغوض ترین آدمی ترش رو جھگڑالو ہے۔

فلاح انسانیت کیلیے باہمی عزت و احترام انتہائی ضروری ہے جن کے بارے میں درج ذیل حدیث پاک راہنمائی فرماتی ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ ‏"‏‏.
سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی کا کھونچا گاڑھنے سے نہ روکے۔
اسی احترام و باہمی عزت کے جزبے کو درج ذیل حدیث پاک میں آشکارا کیا گیا ہے، چناچہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا مَا لَنَا بُدٌّ، إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا ‏"‏ قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ ‏"‏ غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى، وَرَدُّ السَّلاَمِ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهْىٌ عَنِ الْمُنْكَرِ ‏"‏‏.‏
سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، راستوں پر بیٹھنے سے بچو، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ہمارے لیے ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ ہم ان مجالس میں بیٹھ کر باہمی گفت و شنید کرتے ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، تب تم راستوں کو ان کا حق ادا کرو، عرض کی راستوں کا حق کیا ہے، ارشاد فرمایا نظروں کا نیچا رکھنا، تکلیف کو دور کرنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

اجتماعی رویوں کو بہتر بنا کر فلاح انسانیت کو یقینی بنانے کیلیے سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نےدرج ذیل حدیث پاک میں یوں ارشاد فرمایا،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ ‏"‏‏
سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، کوئی زانی مومن نہیں رہتا جب وہ زنا کرے، کوئی شرابی مومن نہیں رہتا جب وہ شراب کرے، کوئی چور مومن نہیں رہتا جب وہ چوری کرے او کم قال علیہ الصلوٰۃ و التسلیم۔
چناچہ زنا، شراب اور چوری کا تعلق معاشرہ کی اجتماعی زندگی سے مربوط ہوتا ہے۔ یہ ایسے ناسور ہیں جن کا ارتکاب کسی بھی معاشرے کے سکون اور امن کو برباد کر دیتا ہے۔ سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم نے ان کی حرمت فرما کر فلاح انسانیت کا عمدہ نمونہ دیا ہے۔ مذکورہ بالا انفرادی اور اجتماعی رویوں کی احادیث طیبات کے مطابق اصلاح کر کے کسی بھی معاشرہ کو حقیقی فلاحی معاشرہ بنایا جا سکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 79 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Irfan

Read More Articles by Muhammad Irfan: 2 Articles with 153 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ