بارش

(Sara Shabbir, Sialkot)

بارش بھی کتنی عجیب چیز ہے
کھبی کسی کے رحمت بن کر آتی ہے اور کسی کے لیے زحمت
کہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتی ہے ، صحرا میں گھاس اگاتی ہے بنجر زمین کو زرخیز کر دیتی ہے
کہی تیار فصلوں کو اجاڑ کے چلی جاتی ہے

کبھی موسم میں تبدیلی کا پیغام لاتی ہے گرمیوں میں جب سورج آگ برسا رہا ہوتا ہے تو ہر مخلوق خدا سے بارش برسانے کی دعا کر رہی ہوتی ہے۔ اور جب یہی بارش سردیوں میں برستی ہے ہر کوٸی اس کے تھمنے کی دعا کرتا ہے ۔ویسے کچھ انسانوں کو کسی حال میں چین نہیں ہوتا
بارش کی تعریف ہر انسان کے لیے بھی مختلف ہے
بارش تو ایک ہی طرح کی برستی ہے امیر اور غریب پر
لیکن دونوں پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے

امیر اپنے پکے گھر میں ہاتھ میں چاۓکا کپ اور چپس وغیرہ جیسی لوازمات پکڑ کے آسمان سے برستی بارش کی بوندوں کو دیکھے گا اور اسے یہ بوندے چمکتے ہوۓ موتیوں جیسی معلوم ہوں گی ۔ اسے بارش میں ٹپ ٹپ کرتی بوندوے ہر طرح کی موسیقی سے اچھی لگتی جسے دیکھ کے وہ لطف اندوز ہوتا ہے لیکن دوسری طرف غریب جس نے اپنی جھونپڑی کچھ ڈنڈوں اور کپڑے سے کھڑی کی ہوٸی ہے وہ اس پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ان بارش کی برستی تیز بوندوں سے کیسے اپنے آشیانے کو بچاۓ غریب کو یہ بوندے برستے آگ کے گولوں کی طرح نظر آتی ہیں جو اُ س کے گھر کو تباہ کر دیں گی کہی پکی سڑکوں پر جب بارش کا پانی پڑتا ہے تو وہ دھل کر صاف ہو جاتی ہے اور جب کچی گلیوں میں اس کا پانی آتا ہے تو ہر طرف کیچڑ ہو جاتا ہے اور گٹروں و نالیوں سے نکلنے والے مینڈک اور نیولے بھی مختلف گھروں میں مہمان بن کر آ جاتے ہیں۔ لوگوں کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے بارش کا پانی ان گلیوں میں کھڑا ہو جاتا لوگ گھروں میں محدود ہو جاتے

یہ تو ان خواتین سے جا کے پوچھنا چاہیے جو روز کے روز سبزی و راشن لاتیں لکین اس بارش کے برسنے سے ان کا چولہا جل نہیں پاتا اور انہیں اپنے امیر ہمسایوں کے گھر جا کر مانگنا پڑتا جو باسی کھانا دے دیتے اور بعد میں احسان بھی جتلاتے

امیر کے لیے بارش چاہے جتنی بھی تیز ہو وہ گاڑی پکڑتا اور بارش کو انجوۓ کرنے نکل جاتا فرق تو اسے پڑتا جو ساٸکل یا موٹڑ باٸک پر ہوتا گاڑی کے ٹایٸروں سے اڑنے والی چھینٹھں غریب آدمی کے کپڑوں کو گندہ کر دیتی لکین وہ اس گاڑی میں بیٹھے انسان کو کہہ بھی کیا سکتا کیونکہ وہ تو اپنی تیز رفتاری سے آگے نکل جاتا غریب کی پرواہ کۓ بغیر ا گاڑی کی کھڑکی سے اندر آتی بارش کی بوندے اسی گاڑی میں بیٹھے مرد کے چہرے پر جب پڑتی تو اس کا چہرہ دھل جاتا ویسے بہت سے مردوں کو بارش کا فاٸدہ ہوتا ہے جو منہ نہیں دھوتے یا نہاتے نہیں بارش ان کو اچھے سے دھولا اور نہلا دیتی ہے لیکن افسوس یہ کچھ لوگوں کے دل و دماغ پے لگی گندگی کو نہیں دھو سکتی اسی گاڑی میں بیٹھی عورت کے منہ پر جب بارش کی بوندے پڑتی تو وہ پریشان ہو جاتی کہ اس منہ پر قیمتی میک اپ کی لگی ہوٸی تہیں نہ خراب ہو جإںیں

ویسے بچپن میں بارش کا اور ہی مزہ تھا اس زندگی کے دور میں یہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے لۓ موج مستی کے روپ میں آتی تھی لکین جوانی میں بارش مرد کے لۓ تو ویسی ہی رہتی ہے وہ آج بھی گلی میں اور چھت پر جا کے بارش میں نہا سکتا لکین جوانی عورت سے بارش میں نہانے کا مزہ چھین لیتی ایک محلے میں رہنے والی جوان لڑکی جب چھت پر جا کر بارش میں بیگھنا چاہے گی تو ارد گرد گھروں کی چھت پر چڑھے لڑکے ہی سب سے پہلے اسے نہیں بخشے گے اور اس کے بھگے جسم کو اتنی وحشی نگاہوں سے دیکھے گے جیسے ابھی اس کے گلے بدن کو نوچ لیں ہاں لکین یہ بارش کی بوندے ان کے منہ سے بہتی رالوں کو چھوپا لیتی جب وہ لڑکی ان لڑکوں سے تنگ آکر نیچے جانے لگے گی تو یہی لڑکے جو الٹی سیدھی با تیں کرتے اس کے کردار پر سارے مزے اور نظارے کرنے کےبعد بھی لڑکی ہی بری کہ اس کا اب
بارش میں نہانے کا کوٸی حق نہیں الله نے تو ہر ایک کے لۓ بارش کو رحمت بنایا ہے چاھے وہ مرد
ہو عورت ہو یا جانوروپرندے سب اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ویسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بارش کا برسنا جزبات کو جاگا دیتا ہے کنوارے لوگ بارش کی رم جھم میں اپنے محبوب کی کمی محسوس کرتے اور اپنی جلد شادی ہونے کی دعا کرتے اور ویسے بارش میں دعا کرنی بھی چاہیے جبکہ شادی شدہ افراد کو بارش میں پکوڑے کھانے کو مل جاٸیں تو بڑی بات افسوس بارش ہمیں تب ہی اچھی لگتی ہے جب یہ ہمارے جذابات احساسات اور پسندیدہ موسم کے حساب سے برسے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 54 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sara Shabbir
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: