ہم اور ہمارے سوچیں

اگر ہم اکثر کچھ دیر کیلئے اپنی آپ کو وقت دے تو اس سے بہت ھی چیزیں جو ہمیں متاثر کر رے ہوتی ہے سمجھ میں آنا شروع ہو جائے گی ۔ لیکن، شرط ہے کے پہلے سے خود کے پاس اتنے نالج ہوں جو کہ کم از ہمیں اپنی آپ سے ملائے اور خود سے روشناس کراے ۔ ہماری بے یقینی والے سوز کے کیفیات ہمیں کہا کہا تک پہنچا رہی ہوتی ہیں؟ کیا ھم نے کبھی اپنے آپ کیلئے لیے وقت نکالا ھے ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو بہت اچھا اور اگر نا ہے تو اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل کےلیے ابھی سے تیار کرنا چاہئے ہوگا!
خود احتسابی کا لفظ سننے میں آسان سا لگتا ہے مگر اس کیلئے ہمیں اپنے نفسیات کے کیفیات کا جائزہ لینا ہوگا۔ با با فرائیڈ نے انسانی نفسیات کے تین اجزاء کا ذکر کیا ہے۔ پہلے والے کو وہ لا شعور کہتے ہے دو سرے کو، تہہت شعور کہا ہے تیسری کو، شعور اس نے فرما یا کہ ہماری زندگی کا 95 فیصد حصہ ہم لا شعور کے قابو میں گزار تے ہے۔ اس کے یہ والے بات اب جدید سائنس بھی مانتی ہے۔

اپنے زندگی کے آخری حصے میں اس نے شخصیت کی دو حصے کر دے تھے اور کہاں کہ چونکہ، انسانی شخصیت دو چیزوں کے آگے پیچھے گھوم رہے ہے "زندگی کے جبلت اور موت کے جبلت"۔ پہلا والا زندگی جبلت ہے اور دوسرا موت کے جبلت ہے یہ دونوں جبلت لا شعور کے اندھی اور بہری دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ موت کے جبلت کے اجزاء میں جنسی خواہشات، نفرت، غصہ، انتقام، وغیرہ شامل کردئیے اور زندگی کی جبلت میں خاص کر پیار، محبت، ہمدردی اور خوشی کو شامل کیا گیا تھا ہماری زندگیوں کا خلاصہ ہی ان دونوں جبلت کو قرار دیا گیا تھا۔ چونکہ فرائیڈ کے اوپر بہت ہی زیادہ تنقید ہوئ ہے مگر مرد کے بچے جو تصویر کھینچ لے ہے انسانی شخصیت کی شاید کسی اور نے نہیں بنائے ہو۔
خیر، یہ پھر ایک الگ موضوع بن جاے گا!

اب جدید نفسیات بھی فرماتے ہیں کہ یہ سوچ ہی ہے جو کے سارے فساد کے اور ایک اچھی زندگی گزارنے کے بنیاد ہے۔ اگر میں خوش ہوں تو اپنی سوچوں کے وجہ سے اور اگرمیں ٘بے وجھہ پریشان ہوں تب بھی اس کے پیچھے یہیں سوچیں کار فرما ہوسکتی ہے۔

ہاں! البتہ زمینیں حقائق اپنی جگہ موجودہ ہوسکتی ہے۔ جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

شاید میرے اس بات سے کسی بھی نفسیات دان کو اختلاف نہ ہوں کہ یہ ہماری عقاید ہی ہے جو بچپن سے ہمیں سیکھایں گیے ہے کہ کس طرح زندگی گزارنے ہے! کیا اچھا ہے کیا برا ہے کیا کرنا ہے کیا نہیں ۔ کس طرح رد عمل دینا ہے کسی مسئلہ کے وقت وغیرہ ہماری عقائد مشتمل ہوتی دو قسم کی جذبات پر پہلا والا محبت اور دوسرا نفرت، یہیں بات فرائیڈ والے بات ہے جسکو اس نے جبلت کا نام دیا اسی طرح یہ عقائد ہماری سوچوں کو قابو کرتے ہے سوچیں ہماری اعمال یا افعال کو اپنے قابو میں رکھتی ہیں اور اعمال یا افعال کے وجہ سے ہم اپنے اردگرد میں پہچان بناتے ہیں۔ یہیں اعمال ہے جس کے بنیاد پر ہم تجربات حاصل کرتے اپنے اصلی زندگی میں۔

ہماری رویے ہماری جذبات ابھرتے مثلا، غصہ جو کہ ھماری عقائد یا جذبات میں سے نہیں ہے لیکن جذبات کے وجہ سے ہم پر مسلط ہوں جاتا

ہماری شخصیت ہماری ہی عقائد اور افعال کے دین ہے۔ جیسے عقائد اور افعال ہوگئے اس طرح کے شخصیت ہوگی۔ ایسے ہی تو مشہور نفسیات دان اسکینر صاحب نہیں کہا تھا "کہ اگر مجھ کو کچھ بچے دے جائے تو میں ان کو اپنے مطابق شخصیت میں ڈال لو گا"۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ ہمارے سوچیں ہماری شخصیت کو روپ دیتے ہے ؟

اگر ہم مثبت سوچ رکھی گئیں تو اس سے ہمارے شخصیت میں نکھار آئے گے اور ایک اچھی زندگی گزارنے کے کی امید جگمگا اٹھی گئی۔ جس کا فائدہ ہوگا اپنے اپ کو بھی اور معاشرے کو بھی۔

جدید تحقیق اس بات کو مانتے ہے اگر کوئی انسان دوسرے انسان کیلئے اچھا سوچتا ہے تو اسی مثبت سوچ سے اس کے ذہنی و جسمانی صحت پر اچھا اور مثبت اثر پڑتا ھے یہیں معاملہ منفی سوچ رکھنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم اپنی زندگی منفی پہلوؤں کے مطابق گزاریں گی تو اپنی آپ کو اور ساتھ ساتھ میں عزیز و اقارب کو بھی نقصان اور اذیت پہنچانے کے اندیشہ میں کئ گنا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ ہمارے نفسیاتی کیفیات کا اثر ہمارے جسمانی صحت پر ہوتا ہے۔ جو کہ آج کی سائنس کا بنیادی نقطہ تصور کیا جاتا ہے۔

مثلا، جیسا کہ ہم جب خواب میں ڈر جاتے ہے اور نیند سے یک دم بیدار ہو جاتے ہے تو اس وقت ہم پسینے سے شرابور ہورہے ہوتے ہے اور ہم پسینے کو محسوس کررہے ہوتے ہے اپنے ماتھے اور جسم دونوں پر۔ سوال یہ ہے کہ فقط خواب سے ہم پر پسینہ کیوں آیا اسی طرح اگر ہم لیمو کا سنتے ہے یا سوچتے ہے منہ میں یک دم سے پانی کا آنا محض اتفاق ہے یا کوئی نہ کوئی قوت ہے جو کہ اس کے پیچھے کارفرما ہے۔ جی بلکل ہاں! ہے وہ ہے شعور کے قوت یہ شعور
 

Shehzad Ahmed Khan
About the Author: Shehzad Ahmed Khan Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.