گناہ

(رخشندہ یٰسین, Karachi)

وہ بہت شرمندہ تھا اس کو سمجھ نہی آرہا تھا کہ کیا کرے اتنا سخت گناہ گار ہوگیا تھا وہ،
اف اسقدر گر گیا
وہ اپنے رب کو کیا جواب دے گا
گناہ اس کو بےچین کررہا تھا
گاٶں سے روانہ ہوتے ہوۓ ماں نے کہابھی تھا کہ حسن آنکھ نیچی رکھنا اور اس نے عمل بھی کیا اس بات پر ہمیشہ ،
گاٶں کی یاد آتے ہی اسے ماں کی یاد آگٸ اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
سسکیاں کمرے کے سناٹے کو توڑنے لگیں وہ چند سال پیچھے کی طرف لوٹ گیا
حسن حسن تیرا رزلٹ آیا ھے بیٹا ماں تیز تیز چلتی ہوٸی اس کی طرف آٸی وہ بھی اٹھ کر دوڑا گلی کی طرف جہاں شیدا اسے آواز لگا کر بتارہا تھا
اوۓ ادھر آ شیدے وہ چیخا
شیدے کے ہاتھ میں موباٸیل تھا وہ اسے دکھانے لگا اور اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنا رول نمبر ڈالا مگر رزلٹ سامنے نہی آیا وہ ایکدم ہی مایوس ہوگیا
دروازے پر کھڑی ماں بھی بجھ گٸ اسکا چہرہ دیکھ کر
شیدا کہنے لگا دوبارہ ٹراٸی کر یار ایسا ہو جاتا ھے وہ مرے دل کے ساتھ ٹراٸی کرنے لگا اور اچھل گیا سامنے ہی رزلٹ تھا وہ چیخنے لگا خوشی سے اس نے بہت اچھا تو نہی لیا تھا گریڈ مگر پاس ہوگیا تھا
حسن دوڑتا ہوا آکر ماں کے گلے لگا اور گھر میں بہنوں کو بتانے دوڑا ماں بھی مسکرانے لگی چاروں جانب رنگ بکھر گۓ
حسن اکلوتا بیٹا تھا اور 4 بیٹیاں تھی سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلہ مگر فرمانبردار تھا
باپ کی اپنی محلے میں ہی دوکان تھی اور گھر کی کفالت کرنا کافی مشکل ہوجاتا تھی مگر صابر وشاکر لوگ تھے سب اسلیے سکون سے گزارہ ہو ہی جاتا تھا ماں باپ نے بھاگ دوڑ کر کے کالج میں داخل کرادیا اور دوسال بعد یونیورسٹی میں پہنچ گیا مگر اخراجات بڑھ گۓ تو شام میں حسن نے ٹیوشن پڑھانے شروع کردیۓ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتا تھا کیونکہ یونیورسٹی شہر میں تھی

اور شہر میں ہی ایک دو ٹیوشن مل گۓ تھے اسلیۓ رات گۓ ہی واپسی ہوتی تھی ماں باپ بھی چاہتےتھے کہ کچھ پڑھ کر بن جاۓ
تعلیم کےدوران ہی دوبہنوں کی شادی بھی ہوگٸ بہت سادگی کے ساتھ ماں باپ نے رخصت کیا
باپ کے کندھے جھکتے جارہے تھے حسن کو اس بات کا احساس شدت سے تھا اور وہ جلد از جلد کچھ بننا چاہتا تھا
یونیورسٹی میں رہ کر بھی وہ کسی کی جانب دیکھنے سے احتراز ہی کرتا تھا اسے فورأ گھر میں بیٹھی ہوٸی اپنی بہنیں یاد آجاتی تھیں ماں نے یونیورسٹی کے پہلے ہی دن یہ بات کہ دی تھی کہ بیٹا ہر کام کا ایک وقت مقرر ھے اگر تم کسی کی عزت کی طرف نظر دوڑاٶ تو یاد رکھنا گھر پر بہنیں موجود ہیں جو اس بات کے ازالے کا سبب بنے گیں وہ یہ سوچ کر ہی کانپ جاتا کہ کوٸی ان کی طرف نظر اٹھاۓ اور سبب وہ خود ہو
یونیورسٹی کے آخری دنوں میں ہی اس کے دوست نےاسکی جاب کا بندوبست کردیا مگر اسے اب شہر میں ہی رہنا تھا کیونکہ جاب رات کی ملی تھی شروع شروع ماں بہت پریشان رہی مگر پھر سب معمول پر آگیا
ہفتے کی رات وہ گھر دوڑ جاتا گھر جیسا سکون کہیں نہی ملتا ھے ماں اپنی گود میں سر رکھ لیتی اور سہلاتی رہتی بہنیں آگے پیچھے دوڑتی پھرتی انکا بھاٸی ایک دن کے لیے ہی تو گھر رہتا تھا مگر ابا اسے سویرے ہی جگا کر نماز کے لیے لے کر جاتے اور راستے بھر باتیں کرتے وہ جانتا تھا کہ وہ بھی ترس جاتے ہیں اس سے بات کرنے کے لیے وہ دل ہی دل میں سوچتا جلد ہی ان سب کو شہر بلا لے گا
اسکی جاب کو 3 سال ہونے والے تھے اور دونوں بہنیں اپنے گھر کی ہوچکیں تھیں
ماں اسکے لیے لڑکی دیکھ رہی تھیں بہنیں ہزار بار اس سے پوچھ چکیں تھیں کہ تم کو کوٸی پسند ہو تو بتادو مگر وہ کیسے انکو بتاتا کہ بہنوں کی محبت کی وجہ سے ہی کبھی وہ نہی بھٹکا اور آج اپنے آپ میں اور ماں باپ کے سامنے سرخرو ھے
وہ ہڑبڑا کر اٹھا صبح ہورہی تھی آنکھیں سوج گٸ تھیں جاب پر جانے کادل نہی تھا
اس نے منہ دھویا اور کچھ کھاۓ پیۓ بغیر ہی لیٹ گیا صبح کی نماز بھی نہی پڑھی تھی مگر دل نہی چاہا کہ نماز پڑھے وہ شرمندہ تھا رب کے سامنے کھڑھے ہونے سے
کیا کرہے اس کی سمجھ نہی آرہا تھا اسکا سر پھٹنے لگا تھا ابھی تھوڑے دن پہلے ہی تو شیدے سے کہ رہا تھا کہ آج تک اس نے کوٸی ایسا گناہ نہی کیا کسی لڑکی کے ساتھ اور دل میں مغرور ہو رہا تھا
شیدا بھی اس کی طرف توصیفی نظروں سے دیکھنے لگا
مگر غرور کا سر نیچا ہوتا ھے اور وہ بھی اس قدر گر گیا وہ یہ سوچ کر ہی اسے اپنا آپ بہت چھوٹا لگنے لگا
وہ شہر میں جن کےگھر میں رہ رہا تھا ان کی ایک ہی بیٹی تھی اور وہ بھی پاگل ماں باپ گھر میں بند کر کے رکھتے تھے اُس کو قادر صاحب نے دو سال پہلے ہی اپنے گھر کراۓ دار رکھا تھا اور اب تو بہت اعتبار بھی کرنے لگے تھے
حسن اٹھ کر ٹہلنے لگا پھر کچھ سوچ کر بیگ بنانے لگا اور گاٶں کے لیے نکل گیا
گھر پر سب لوگوں نے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا بہنیں بھی آتے جاتے ہنس رہی تھی
ماں پاس آکر بیٹھیں اور کہنے لگیں کہ انھوں نے ایک لڑکی دیکھی ھے محلے میں نۓ لوگ آۓ ہیں اور وہ ان کی بیٹی ھے بہت خوبصورت اور سلجھی ہوٸی سب کو ہی بہت پسند آگٸ ھے
حسن ویسے ہی الجھاہوا تھا اس نے بھی فورأ ھاں کہدی
ماں اسکا رشتہ پہلے ہی ڈال آٸی تھی بس منہ میٹھا ہوا اور تاریخ رکھ دی گٸ یہ سب بہت آنأ فانأ ھوا اور مہینے بھر میں ہی شادی رکھ دی گٸ اسکا دھیان بھی شادی میں لگ گیا
شہر آکر اس نے گھر بدلنے کے لیے کوشش شروع کردی وہ قادر صاحب سے آنکھ نہی ملا پاہا تھا جب بھی ان کی طرف دیکھتا تو اسے بری طرح سوچیں گھیر لیتی تھیں

ارم پر نظر پڑ جاتی تو شرمندہ ہو جاتا ایکدم سب یاد آجاتا مگر سرجھٹک دیتا ارم بے چاری کیا کسی کو کچھ بتاتی وہ تو ”پگلی “ ٹہری
مگر خدا اپنے ہر بندے سے محبت کرتا ھے ہر بات کا کچھ سبب ہوتا ھے
قادر اور اسکی بیوی اپنی بیٹی کے لیے ویسے ہی پریشان رہتے تھے کہ ارم کا کیا ہوگا ان کے مرنے کے بعدوہ بے چارے نہی جانتے تھے کہ جس کی وہ حفاظت کررہے ہیں وہ لٹ چکی ھے
وہ ایک عجیب سا دن تھا ہر طرف ویرانی کا ڈیرہ تھا ابھی ابھی حسن باہر سے گھر کی تلاش کے بعد تھکا ہارا لوٹا تھا اسکی شادی کو تین مہینے ہوگۓ تھے اور وہ اپنی بیوی کو جلد از جلد بلانا چاہتا تھا اور گھر بھی بدلنا چاہتا تھا
اچانک مالک مکان قادر صاحب بدحواس سے دوڑتے ہوۓ آۓ اور کہنے لگے کہ حسن ارم بے ہوش ہوگٸ ھے اسے ہوسپٹل لیکر جانا ھے پلیز میری مدد کرو ایمبولینس بلاٶ اور ساتھ چلے چلو وہ بھی گڑبڑا گیا جلدی سے ایمبولینس منگاٸی اور قادر صاحب کے ساتھ ہولیا
اسپتال میں سارے چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے ایک دھماکہ خیز انکشاف کیا کہ ارم ماں بننے والی ھے
قادر صاحب دل پکڑ کر بیٹھ گۓ اور وہ بھی ایکدم حواس باختہ ہوگیا ارم کی والدہ بھی ساتھ نہی آسکی تھی حسن کی سمجھ نہی آرہا تھا کہ کیا کرے ادھر قادر صاحب کو اٹیک ہوگیا تھا اور وہ اس غم کی تاب نہ لاسکے اور چل بسے حسن بوکھلاگیا کہ اب کیا کرے جیسے تیسے میت لے کر گھر آیا ارم بھی ساتھ تھی اس کی ہمت نہی ہورہی تھی کہ کیسے اسکی ماں کو بتاۓ وہ خاموش رہا اور تدفین کردی گٸ وہ سراسر اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ اسکی وجہ سے یہ سب ہوا
ارم کی طرف سے وہ بہت پریشان تھا اس نے ہمت کرکے ارم کی ماں کو ارم کی ساری صورتحال بتاٸی وہ بے چاری رو رو کر بے حال ہو گٸ مگر کیا کرسکتی تھی ارم کو لیکر ڈاکٹر کے پاس گٸ ڈاکٹر نے دیکھ کر انکار کردیا کہ اب لڑکی کی جان جا سکتی ھے بے چاری بہت روٸ مگر سب بے کار تھک ہار کر گھر آگٸ
حسن بھی بہت شرمندہ اور پریشان تھا اسکی سمجھ نہی آرہا تھا کہ کیا کرے وہ اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا اور توبہ کرنے لگا
حسن کی بے چینی وقت کے ساتھ بڑھ رہی تھی
مسجد میں وہ سر جھکا کر بٹھا ہواتھا اور آنسو بہے جارہے تھے کہ مولوی صاحب اس کے نزدیک آۓ اور اس کے قریب بیٹھ گۓ اور کہنے لگے بیٹا اللہ سب معاف کردیتا ھے بس اپنی غلطی کو مان لو اور اسکے آگے جھک جاٶ
حسن نے سر اٹھایا اور کچھ سوچنے لگا
گھر آکر وہ گاٶں کے لیے روانہ ہوگیا اور اپنی زندگی کے ایک بڑے فیصلے کے لیے اپنے ارادے کو مستحکم کرنے لگا
گھر پر اسکی بیوی اس دیکھ کر خوش ہوگٸ وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا اور اسے سب کچھ سچ سچ بتادیا
اسکی آنکھیں سرخ ہوگیٸں مگر اس نے ضبط سے کام لیا اس نے حسن سے پوچھا کہ آپ سے پھر کبھی تو ایسا نہی ہوا حسن اس کے قدموں میں بیٹھ گیا اور رونے لگا کہ ایک بار بس ایک بار اللہ اسے معاف کرف کردے
حسن نے اپنی بیوی سے کہا کہ سیما میں ارم کو اپنانا چاہتا ھوں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں اپنے گناہ پر بہت شرمندہ ہوں اور یہی ازالہ ھے کہ میں ساری زندگی ارم کی دیکھ بھال کروں سیما نے سوچا کہ حسن دوسری شادی کا حق رکھتے ہوۓ بھی مجھ سے پوچھ رہا ھے وہ ایک دین دار لڑکی تھی اور جانتی تھی کہ یہ بھی ایک حق ھے اس کے شوہر کا اور اگر وہ اس میں رکاوٹ بنے گی تو قیامت کے دن غاصب یعنی حق غضب کرنے والوں میں شمار ہوگی اور اسکا شوہر اپنے گناہ کا بوجھ لیے ہوۓ ہی دنیا سے جاۓ گا اور ہوسکتا کہ وہ حسن کو روک لے مگر اس کی اپنی زندگی اس گناہ کے بوجھ کی وجہ سے کسی تکلیف کا شکار ہو جاۓ
سیما نے آگے بڑھ کر اپنے شوہر کو سہارا دے کر اٹھایا اور کہنے لگی
حسن ہم دونوں ملکر ارم کو سنبھالیں گے آپ فکر نہ کریں اور اللہ نے ہر گناہ کی معافی رکھی ھے سواۓ شرک کے آپ دل سے نادم ہیں اور اللہ بڑا غفور ورحیم ھے
حسن سرشار سا سیما کو دیکھنے لگا اسے یقین ہوچلا کہ اللہ نے اسے معاف کردیا
آج دس سال گزر جانے کے بعد حسن سوچ رہا تھا اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوۓ حنین اسکا بیٹا اور بیٹی دو بچے ہیں مگر سیما نے کبھی بھی ان میں فرق نہی کیا ارم ڈلیوری کے درمیان ہی فوت ہوگٸ اور ایک بیٹا اسے دے گٸ اور اس کی بیوی سیما کی سمجھداری اور دین داری نے اس کو بچا لیا مگر وہ مرتے دم تک اپنے گناہ کی توبہ کرتا رہے گا ان شاء اللہ
وہ جان چکا تھا کہ شادی ایک بہت مضبوط بندھن ھے اور سب سے پہلا قاٸم ہونے والا رشتہ بھی آدم و حوا کا اور یہی محبت ازلی ھے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 476 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: رخشندہ یٰسین
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: