عِشق چیز دیگراست

(Abdul Jabbar Larik, Islamabad)
عِشق اور کیفیت ہے اور ہوس چیز دیگراست..

میرے نزدیک دو چیزیں ہیں، ایک ہے عِشق اور ایک ہے ہوس۔عِشق اور کیفیت ہے اور ہوس چیز دیگراست، لوگ عِشق اور ہوس میں تمیز نہیں کر پائے اور ہوس کا نام عشق دھر لیا در اصل ہوس وہ میلانِ طبع ہے جو نفس س جُڑی ہے اور عِشق وہ ہے جو خالقِ حُسن اور مرغوبِ قلب ہے
اس عشق س مراد یہی ہوس ہے جس کو عشق س موسوم کر دیا گیا ہے، ورنہ عشق تو انسان کو رفعتوں س نوازتا ہے نہ کے نِکما بناتا ہے. آتشِ عشق تو نفس کی نِجاستوں، غِلاضتوں، من مانیوں اور ہوس رانیوں کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے

"عشق نام ہے شاید اُنہیں خونی مقاموں کا
جہاں جا کر پلٹتا ہی نہیں پھر کارواں کوئی"

جب عشق کے جلوے موجزن ہوتے ہیں تو نا غیرُاللہ کی طرف دھیان ہوتا ہے نا غیرُاللہ کا خوف لاحق جان ہوتا ہے اور نا ہی غیرُاللہ سے اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیں.

غلبہ ہے تیری ذات کا اِس دل پر کچھ ایسا
آنکھوں سے چُھپے جاتے ہیں آثارِ حرم بھی

عشق کی لُغوی معنیٰ ہے کسی شےؑ کے ساتھ دل کا وابستہ ہو جانا عشق وہ ایک پوداہ ہے جو سر سبز اور شاداب ہوتا ہے لیکن پھر مُرجھا جاتا ہے۔ ایسے عشق جب قلبِ عاشق میں سماء جاتا ہے تو اُسی کو زرد چہرہ اور لاغر بدن بنا دیتا ہے
جب انسان کے دل پر شدید مُحبت کا تسلط ہو جاتا ہے تو وہ محبوب کے سوا ہر چیز سے اندھا ہو جاتا ہے یہ مُحبت اس کے جسم کے تمام اجزاءِ میں جاری وہ ساری ہو جاتی ہے۔ اس کی نظر ہر شےؑ میں محبوب کو ہی دیکھتی ہے اور ہر صورت میں اس کو محبوب ہی جلوہ گر نظر آتا ہے۔۔
عشق میں نا سورج طلوع ہوتا ہے اور نا غلوب ہوتا ہے، مگر تُو میرے دل اور سوچوں میں ہوتا ہے اور نا ہی میں کسی قوم میں باتیں کرنے بیٹھتا ہوں مگر میری زُبان پر تیرا ہی تذکرہ ہوتا ہے اور نا کبھی پیاس کی حالت میں پانی پینے کا ارادہ کرتا ہوں مگر پیالے کے پانی میں بھی تیری تصویر کا خیال آتا ہے۔ مینے کبھی تُمہارا ذِکر غمی یہ خوشی کے عالم میں نہیں کیا مگر اس حال میں کے تیری محبت میری سانسوں میں لپٹی ہوتی ہے اے کاش کے اگر تیرے دیدار کیلئے آنے کی قدرت حاصل ہوتی تو میں رخسار کے بل یہ سر کے بل پر چل کر حاضر ہوتا۔۔
اِس قلبی کیفیت کا نام عشق رکھا گیا ہے۔ اہلِ زبان نے کہا ہے کے محبت جب محویت اور شدت میں ڈھل جائے تو اُسے عشق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔۔
عشق شدتِ محبت کا نام ہے۔ محبت جب شدید اور قوی ہو جاتی ہے تو اس کا نام عشق ہو جاتا ہے۔
انسان سب سے آعلیٰ ہے، انسان کامل ہی کی شان ہے اس لئے محبت کا انتہائی مرتبہ یعنیٰ عشق بھی انسان ہی کے حصے میں آیا۔ کوئی انسان اس کی حکمرانی سے آزاد نہیں کوئی شخص نہیں جسے یہ بیش بہا جوھَر عنایت نا ہوا ہو۔۔
عشق کی برکت سے عاشق کو بے پناہ قوت حاصل ہو جاتی ہے وہ ابوالوقت اور ابوالحال بن جاتا ہے۔ انفس و آفاق اس کے زیرنگین ہو جاتے ہیں۔۔
عشق وہ ترياق ہے کے اگر مٹی میں بھی شامل ہو جاۓ تو اسے تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے، جیسے تاج محل اس کی مثال ہے۔
عشق جب دل میں آ جاتا ہے تو خون کر دیتا ہے، جب یہ آنکھ میں پہنچتا ہے اسے دریا بنا دیتا ہے، جب یہ جان میں پہنچتا ہے اسے مٹی بنا دیتا ہے

عشق پے کوئی زور نہیں یہ وہ آتش غالب
کے لگاےؑ نہ لگے، اور بجھاےؑ نہ بجھے

جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو پریشان صورت ہو مفقودالقلب ہو، مغلوبالعقل ہو، بہت رونے والا ہو، موت کا طلبگار اور فنا کا دلدادہ ہو، اس سب کے باوجود اس میں ادب ہو اور پابند اوقات ہو تو سمجھ لو وہ عاشق صادق ہے..

عشق کہتا ہے
میں وہ عشق ہوں کے میں دونوں جہاں میں ظاہر نہیں ہوں میں مغرب کے وقت کا عنقا پرندہ ہوں لہٰذا میرا نشان کوئی نہیں ہے، آبرو اور ناز انداز سے میں نے دونوں جہاں کو شکار کر کر لیا ہے۔ اے منکر! یہ مت سمجھ میرے تیر و کمان نہیں ہیں، میں سورج کی طرح ہر ذرے میں ظاہر نہیں ہوں، میں ہر زبان میں کہتا ہوں اور ہر کان میں سنتا ہوں، یہ عجیب بات ہے کے میری زبان اور کان ظاہر نہیں ہیں تمام عالم میں جو کچھ بھی ہے وہ سب میں ہوں دونوں عالم کی طرح کے وہ مجھ سے ہیں لیکن ظاہر نہیں ہیں۔۔
عشق نے دل کو محبوب کا یہ پیغام پہنچایا ہے کے قرار نہ پکڑ، اور جان کو یہ پیغام دیا کے نشاط سے قطع تعلق کر اور سر سے کہا کے راحت سے دور رہ، چہرے سے کہا اپنا رنگ فقہ کر دے، تن سے کہا کے قوت کو رخصت کر، آنکھوں سے کہا کے موتی بہا اور حال کو حکم دیا کے تیرہ و تار ہو جا، زبان کو فنا کر، دوستوں سے جدائی اختیار کر، اور دونوں عالم سے جدا ہو جا۔۔
عشق کی قوتوں کے سامنے ہر مُمکن اور موجود شیؑ شِکست کھا جاتی ہے، عشق حیوان اور انسان سب کے لئے کافی ہے سچ پوچھو تو دونوں عالم کے لئے عشق ہی سب کچھ ہے

عشق دانش کو چمکدار کر دیتا ہے اور پتھر کو آئینہ بننے کی صلاحیت دیتا ہے اہلِ دل کو طورِ سینہ جیسا سینہ دیتا ہے عشق وہ جذبہ ہے کے جس سے ملغوب ہو کر عاشق وصل محبوب کا نعرا لگاتا ہے، بے قرار ہو کر خود کو گُم کر بیٹھتا ہے جب اس کی ابتدا جان دینے پر آماده ہو جانا ہے تو اس کی انتہا کا خُود اندازہ لگائیں۔ اگر کوئی عشق کا نظارہ کرنا چاہے تو دردِ دل کو تلاش کرے، جہاں پائے گا عشق نظر آ جائے گا..

جہان میں جہاں کہیں دردِ دِل موجود تھا
جمع کیا، اور اس کا نام عِشق رکھ لیا..

سنتے تھے جسے عشق یہی ہوگا وہ شاید
خود بخود دِل میں ہے اِک شخص سمایا جا..٨
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Larik

Read More Articles by Abdul Jabbar Larik: 4 Articles with 1777 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Mar, 2020 Views: 410

Comments

آپ کی رائے