خلیل الرحمن کے نام معذرت اور شکریہ کا خط

(Azra Faiz, Wah)

میرا قلم بس حق ہی بولے گا

خلیل الرحمن صاحب !
اسلام و علیکم !

مجھے نہیں معلوم کہ میرا پہلا پوسٹ ہونے والا خط آپ نے دیکھا یا نہیں لیکن آج آپ کو بول نیوز چینل کے ایک پروگرام میں دیکھا تو پھر سے آپ کو خط لکھنے کا خیال آگیا گو کہ چند دن پہلے عورت مارچ کے حوالے سے آپ نے جو ماروی سرمد کے ساتھ اپنا رویہ رکھا اس کا اس وقت مجھے بہت افسوس ہوا اور میں نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح آپ کے بارے میں ایک امیج بنا رکھا تھا کہ آپ بھی مرد کے اس معاشرے کی اسی سوچ کے حامل انسان ہیں جن کے مطابق مرد کچھ بھی کرے ان کی مرضی لیکن عورت کی غلطی کی نہ تو کوئی گنجائیش ہے اور نہ معافی کی۔میں سب سے پہلے اپنے پچھلے خط میں کی گئی تنقید کی معافی چاہتی ہوں ۔مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے آج بول چینل پر اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا کہ آپ عورتوں کے حقوق کے خلاف نہیں بلکہ اس ایجنڈے کے خلاف ہیں جو عورت کے حقوق کے نام پر اسلام پر حملہ ہے ۔آپ بلکل صحیح کہہ رہے ہیں میرا اپنا بھی یہی نقطہ نظر ہے لیکن سوچیں عورت کیوں نکلی یہ بینر ہاتھ میں اٹھا کر ؟ جن کے ہاتھوں میں بینر ہیں ان کو ہر طرح کے غلط اور صحیح حقوق حاصل ہیں ۔وہ پہلے سے ہی آذاد ہیں لیکن وہ بینر اٹھانے والیاں سب ایک جیسی نہیں ۔ان میں دوسروں کا درد رکھنے والی بھی ہونگیں۔کسی اپنی عزیز کے لئیے اور معاشرے میں واقعی جو ظلم ہورہا ہے عورت پر اس کے لیئے آواز اٹھانے والی بھی ۔پہلے میں بھی عام عورت کی طرح خوش تھی کہ چلیں جس کا رواں میں ہم نے اپنا قلم اٹھایا اس میں اور بھی شامل ہیں لیکن اچانک اس مارچ میں شیطان کے شامل ہونے پر نہ صرف دکھ ہے بلکہ اب تو فکر لا حق ہوگئی ہے کہ ہم عورت کو ظلم کی پستی چکی سے نکالنے کے چکر میں کہیں شیطان کے جال میں پھنس کر دوزخ کے راستوں پر نہ چل پڑیں ۔اس طرح تو وہ مرد کی غلامی بہتر ہے جس میں صبر کرنے پر کم از کم جنت تو ملے گی یہاں تو اگر یہ سلوگن عام ہوگئے ٌ میرا جسم میری مرضی ٌ تو عورت کہیں شیطان کی غلام نہ ہوجائے ۔مرد وں کی اکثریت تو پہلے ہی شیطان کی غلام تھی اور اب عورت بھی اس کی غلام ہوجائے گی تو کیا انسانیت بچ پائے گی۔آپ نے کہا میں اس جنگ میں جیت کر جاؤنگا تو خلیل الرحمن صاحب ہم آپ کے ساتھ ہیں اس وطن کی سب بہنیں ،بیٹیاں ،مائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے میرا گزشتہ خط پڑھا یا نہیں لیکن آج کے شو میں جب آپ نے کاروکاری جیسی رسم کی مزمت کی اور عورتوں کے جائز حقوق کے حوالے سے اپنے کسی ڈرامے کا ذکر کیا تو یقین جانئیے بہت خوشی ہوئی ایسا لگا آپ نے میرا خط پڑھا ہو (جب کہ ہوسکتا ہے ایسا نہ ہوا ہو) ۔آپ کو اگر ڈرامہ انڈسٹری نکال بھی دے تو مت گھبرائیں ۔لکھٖیں ،لکھتے رہیں،چہرے بے نقاب کریں ۔قرآن کی آواز کو پھیلائیں ۔جاہل مولویوں کے ہاتھوں سے اسلام کو لے کرا سکالرز کے ہاتھوں میں جانے کی تحریک چلائیں ۔قرآن صرف عورتوں کی عصمت کی بات نہیں کرتا مرد کو بھی فحاشی سے روکتا ہے اس بات کو عام کریں ۔آپ اپنا چینل چلائیں جہاں عورت کے جسم کی ضرورت ہو اور نہ ہی مرد کی ۔اگر اینیمیٹڈ موویز میں جانوروں اور سینز کو اصلی دکھایا جا سکتا ہے تو آپ اس طرح کے اینیمیٹڈ ڈرامہ بنا سکتے ہیں جس پر آپ قوم کی بگڑی حالت کو سنوار سکیں اور انہیں اللہ اور اس کے رسول کا صحیح راستہ دکھا سکیں۔آپ اس کے لئیے ابو یحی صاحب ،مولانا طارق جمیل ۔ڈاکٹر فرحت جیسے اسلام کا صحیح علم رکھنے والے اسکالرز کی مدد لے سکتے ہیں ۔یقین مانیں ڈرامے اچھے لگتے ہیں ۔آپ پر اثر لکھتے ہیں ۔لکھ ڈالیں ۔جس طرح مغرب پرست عورت موجود ہے اسی طرح ایسی عورت بھی موجود ہے جو کسی مسیحا کا انتظار کر رہی ہے جو اصل اسلام کی شمع روشن کرے اور اسے اندھیرے اور من گھڑت اسلام سے نجات دلائے ۔ ہر آواز اٹھانے والی عورت مظلوم نہیں ہے اس کی اٹھتی آواز ہی اس کے آزاد ہونے کی دلیل ہے لیکن وہ درد رکھتی ہے ۔عورت کے دکھ کو محسوس کرتی ہے۔اگر مرد پر بھی ظلم ہورہا ہوتا تب بھی یقین کیجیئے یہی عورت نہ صرف اس کا ہاتھ پکڑتی بلکہ بالوں سے پکڑ کر مارتی ۔ویسے آپ کومہوش کے خلاف عورت کی نفرت کو دیکھ کر اندازہ ہوگیا ہوگا،آپ کو معلوم ہے خلیل صاحب !ہمارے یہاں کی عورت مرد کی طرح کیوں نہیں ہے ؟ کیونکہ یہاں عورت ہی عورت کے سامنے آکھڑی ہوتی ہے جب کوئی عورت بے راہروی کا شکار ہوتی ہے دوسری عورتیں اسے اپنی حکارت بھری نظروں سے ہی مار ڈالتی ہیں ۔اسے اتنا سناتی ہیں کہ وہ ان راستوں کو نہ صرف چھوڑ دیتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی روکتی ہے اور آپ کو پتا ہے اپنے باپ اور بھائی کی عذت بھی کوئی مولوی ان عورتوں کے دماغ میں نہیں ڈالتا بلکہ یہ بھی عورت سکھاتی ہے اور آپ کو یقینا یہ بھی پتا ہوگا کہ اپنے شوہر کی محبت اور وفا بھی عورت ہی عورت کو سکھاتی ہے ۔تو خلیل صاحب کیا مرد ایسا کرتا ہے؟ اگر نہیں کرتا تو کیوں نہیں ؟ ذرا اپنے ڈراموں میں ان کی شامت بھی بلائیے ۔یقین جانیں عورت کی اصلاح سے ذیا دہ مرد کی اصلاح کی ضرورت ہے یہ سدھر کر تو دیکھیں جو عورت ان کے لاکھ ظلم اور بے وفائی کرنے کے باوجود بھی معاف کردیتی ہے وہ ان کی ذندگی کو دنیا میں ہی راحت بنا دے گی۔آئیے خلیل بھائی کچھ ایسا خواب بنیں جس میں یہ پاکستان واقعی اسلامی ریاست ہو، جہاں کے مردوں پر اسی طرح کی پابندیاں ہوں جو اسلام نے عورت اور مرد دونوں پر لگائی ہیں۔ صرف عورتوں کو نہیں مردوں کو بھی پاک رہنے کے درس ہوں ، جہاں مردوں کی نگاہوں کے پردے کا ذکر اور پریکٹس ہو ، جہاں مسجدوں میں بے راہ روی کی شکار صرف عورتوں پر ہی نہیں مردوں پر لعنت کے نعرے ہوں ،جہاں چار شادیاں اللہ کی مرضی کا ہی صرف ذکر نہ ہو بلکہ اور ٌتم توازن یا برابری نہ رکھ پاؤ گےٌ کی تنبیہ والی آیت کا ذکر بھی ہو۔ جہاں ہمارے نبیﷺ کے زمانے کی جھلک ہو ،جہاں بیٹیوں کے لئیے چادر بچھائی جاے،جہاں مرد اپنے نبی کی طرح اپنے ہاتھ سے کام کرتا ہو اور گھر کے کام صرف عورت کا ہی کام ہے نہ سمجھتا ہو ، آ ئیں خلیل بھائی ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھیں جہاں کے ہر چینل پہ شیطان کے خلاف جہاد کے پروگرام چل رہے ہوں ،جہاں دجالی فتنہ بے نقاب ہو ،جہاں ابھرتے مغربی فیشن کو منہ کی کھانی پڑے ،جہاں عورت آذاد ہوکر بھی اپنی خوشی سے نہ بازار کی زینت بننا پسند کرے اور نہ ہی بکنا ،جہاں عورت پر کوئی جبر نہ ہونے کے باوجود وہ حیا کی بے مثال مثال بن جائے ۔جہاں ہر لڑکے کے دل میں دوسری لڑکی کی عزت اپنی بہن کی طرح ہو،جہاں عورت پردے کو ہی فیشن بنا لے اور حیا کو ہی میک اپ ، خلیل بھاٖئی کوئی ایسا ڈرامہ لکھیں جو مرنے کے بعد کی زندگی کے بارے میں ہو تاکہ لوگ اس عارضی دنیا کے دھوکے سے نکلے اور اصلی زندگی کو خوبصورت بنانے کی ریس میں لگ جائے ۔لوگوں کو اور ان مولویوں کو بتائیں صرف عورت کا پردہ مسائل کا حل نہیں اگر ایسا ہوتا تو عرب ممالک مثالی معاشرہ ہوتے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کو بھی اپنی نظروں کو پردے میں رکھنا ہوگا ورنہ ان کی مثال عرب ممالک کے عیاش مردوں کی طرح ہوگی جن کو نہ شام میں جلتے بچے نظر آتے ہیں اور نہ ہی کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے عذت ہوتی کشمیری بہن اور نہ زبح ہوتے دلی کے مسلمان بھائی ۔ان کے ہاتھ دشمن کے گریبان کو پکڑنے کے لئیے نہیں شراب کے جام اٹھانے کے لئیے اٹھتے ہیں وہ اللہ کو نہیں اللہ کے دشمنوں کو پسند کرتے ہیں ۔مودی کشمیر جلاتا ہے اور ہمارے عرب مسلم ملک اسے امن کا ایوارڈ دیتے ہی ۔ کیا یہ ہے اسلام ؟

خلیل بھائی! آپ ان سب کو چھوڑیں ،ان پہ مٹی اور لعنت ڈالیں آپ اپنے ڈراموں کے زریعے لوگوں میں کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے جبر دکھائیں ۔لوگوں کے مردہ دلوں کو جگائیں ۔یہ جو اس دنیا میں کھو گئیے ہیں اور دشمن کے ایجنڈے کو اپنا رہے ہیں ۔شیطان کی چال میں آ گئیے ہیں ان کومرنے کے بعد ہلاکت والی زندگی کی جھلک دکھائیں تب پتا چلے ان کو کہ ٌ میرا جسم میری مرضی ٌ والے جیتے یا ٌ میرا جسم میرے رب کی مرضی ٌ والے۔ باتیں بہت ہیں لیکن آپ کا وقت قیمتی ہے لیکن درخواست ہے کہ اپنی اس عاجز بہن کے ان خوابوں کو تعبیر میں بدلنے کے لئیے پہلا قطرہ بن جائیے ۔ اللہ نے چاہا تو اس قوم کے باقی بھائی بھی نہ صرف اپنی ظلم میں پستی بہنوں کے لئیے آواز اٹھائیں گے بلکہ ان کے محافظ بنیں گے اور اسلام کو فرقہ واریت اور جہالت کے چنگل سے نکال کر اس کی اصل شکل اور اصل روشنی پھیلائیں گے اور اس روشنی میں سب کے دل بھی روشن ہونگے اور قیامت والے دن ماتھے بھی ۔
اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

آپ کی بہن
بی بی (عذرا فیض)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azra Faiz

Read More Articles by Azra Faiz: 37 Articles with 43023 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2020 Views: 165

Comments

آپ کی رائے