میری زبان میری مرضی ۔

(Umer Farooq, )

میراجسم میری مرضی جیسے بے ہودے نعرے سے شروع ہونے والا سفرمیری زباں میری مرضی تک پہنچ چکاہے ،عورت مارچ کی پورے ملک میں گونج ہے لگتاہے کہ کوئی طوفان آرہاہے ،طوفان سے پہلے آندھی کے جھکڑچل رہے ہیں ،خلیل الرحمن قمراورماروی سرمدکی لڑائی زبان زدعام ہے ایک طبقہ خلیل الرحمن کے ساتھ کھڑاہے تودوسراطبقہ ماروی سرمدنامی خاتون کی پشت پرہے ،گزشتہ چندسالوں سے موم بتی مافیا،نام نہادسول سوسائٹی اورمادرپدرآزادکچھ بیبیوں نے یہ غلغلہ مچارکھا ہے کہ وہ خواتین حقوق کی علمبردارہیں ،ان کی طرف سے خواتین کے عالمی دن پرذومعنی پلے کارڈز اور پوسٹرز کے ساتھ عورتوں کی آزادی کیلئے ایسے مطالبات کئے جارہے ہیں جن کا خواتین کے اصل مسائل سے دور دور تک تعلق نہیں ۔

آج آزادی نسواں کا نعرہ لگاکر ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز مساوات مردو زن کا نعرہ لے کر عورت کو حقوق دلانے کے لئے مصروف عمل ہیں اگر ہم پاکستانی معاشرہ کو دیکھیں تو جو تصویر مغربی میڈیا یایہ چندبیبیاں دکھاتی ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والا ملک شاید عورت کو تحفظ اور مساویانہ حقوق دینے میں ناکام ہے اس سوچ کو بڑھاوا پھر ہمارے ملک میں رہنے والے ان لوگوں نے دیا جو اس ملک میں رہتے ہوئے بیرونی طاقتوں کے آلہ کا ر ہیں یہ آلہ کارخواتین کوحقوق دلانے کے لیے سرگرم نہیں ہیں بلکہ ان کے مقاصدعورت کوگھرسے نکال کرجنس بازاربناناہے ۔

گزشتہ چندسالوں سے پورے ملک میں عالمی یوم خواتین کی آڑمیں کھلم کھلااسلامی احکامات کامذاق اڑایاجارہاہے ،ملک کی نظریاتی تہذیب وثقافت پرحملہ کیاجارہاہے روشن خیالی کے نام پرایسے بے ہودگی کی جارہی ہے کہ اونچے محلوں میں رہنے والوں نے بھی آنکھیں جھکالی ہیں بلکہ اب خلیل قمرکی صورت میں سامنے آگئے ہیں ،ان خواتین کی طرف سے جوپوسٹراورکتبے سامنے آرہے ہیں ان پرلکھے جملے بتارہے ہیں کہ ان کاایجنڈہ خواتین کے حقوق نہیں بلکہ کچھ اورہے ،گزشتہ سال اسی عورت مارچ میں شریک ایک شخص نے نکاح کے خاتمے کو خواتین کے مسائل اور ان پر کی جانے والی زیادتی اور ناانصافی کا واحد حل قرار دیاتھا۔

میں آوارہ ،اپناکھاناخودگرم کرلو،میری غیرت میرامسئلہ ،لوبیٹھ گئی صحیح سے ،اپناموزہ خود تلاش کرو، وہ خود گاڑی کاٹائربدل سکتی ہے،اگردوپٹہ اتناپسندہے توآنکھوں پرباندھ لو،عورت بچہ پیداکرنے کی مشین نہیں وغیرہ ،ان جملوں میں خواتین کے کون سے حقوق جوانہیں نہیں مل رہے ہیں ،،ان بے ہودہ کتبوں میں توعورت کے حقوق نہیں بلکہ آزادی کے نام پرآوارگی کامطالبہ کیاجارہاہے ،چند شیشہ نوش، اور آئس نشے کی شکار،نام نہاد شخصی آزادی کی علمبردار خواتین کے بیہودہ پلے کارڈزان کی اخلاقی گراوٹ کا آئینہ دارہیں ۔عورت کی آزادی،اس کا احترام اور چیز ہے۔ لیکن جس طرح کے پلے کارڈزسامنے آرہے ہیں ان میں آزادی کے بجائے "جنسی آزادی" اور ہوس کی آزادی کا مطالبہ زیادہ ہے۔ یہ کتبے حقوق نسواں کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہیں،ہمیں ان اقدامات کاسدباب کرناہوگا اوران تحریکوں کاراستہ روکناہوگا۔

عورت آزادی مارچ کے نام پر جو کچھ ہورہاہے اس نے پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت کو حیران و پریشان کرکے رکھ دیا ہے کہ آخر کس قسم کی آزادی کی باتیں کی جا رہی ہیں اور کون سے حقوق مانگے جا رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورتوں کی آزادی کے نام پر ایسی بے شرمی اور بے حیائی کے مظاہرے نے عوام کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں ہیں، عورت کے حقوق اور آزادی نسواں کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کی دین و معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

عورت آزادی مارچ کے نام پرجمع ہونے والے عقل و خرد سے بیگانہ وہ لوگ ہیں جو صرف تفریح اور نام نہاد آزادی کے نام پر گھروں سے نکل آئے ہیں ،جنہیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ جو بینر وہ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہیں وہ عورتوں کی عزت کی حرمت میں اضافے کا نہیں بلکہ گراوٹ کا باعث ہیں۔ مجھے حیرت ہے ان والدین پر جو اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت سے کوتاہی برت رہے ہیں، ماڈرن ازم کے نام پر انہیں وہ آزادی دے رہے ہیں جو ان کی بربادی کا سبب بن رہی ہے۔کوئی بھی ماں ، باپ یا اس کا کوئی بھی مہذب رشتہ کیسے اپنے ایک پاکیزہ رشتے کو ایسے بے ہودہ پوسٹر تھامے عورت ذات کے نام پر دھبہ لگاتے ہوئے دیکھ سکتا ہے؟ یقینا یہ گھریلو تربیت کا فقدان ہے جس نے احساس کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہم شرمندہ ہیں اپنی نئی نسل سے کہ ہم انہیں شعور کی وہ گہرائی و گیرائی نہیں دے پائے جو ان کا حق تھی ۔

عورت اپنے حق کیلئے اٹھے ، یہ ضروری ہے لیکن اس کے لئے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ ٹھیک ہے تم جیسے مرضی بیٹھو، جیسے مرضی رہو، کھانا گرم کرو یا ٹھنڈا ہی کھانے دو،تم اپنی گاڑی کے ٹائرخود بدلو، لیکن اپنی ترجیحات تو بدلو۔یہ بھی تسلیم ہے کہ اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانا ضروری ہے، اٹھانی بھی چاہیے، معاشرے اسی طرح سے بہتری کی جانب جاتے ہیں لیکن اس عمل کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا جانا جو عورت آزادی مارچ کے نام پر اختیار کیا گیایاکیاجارہاہے ناقابل قبول ہے۔ ہمارا معاشرتی نظام ہمارے دین کی عطا ہے اور ہماری خواتین ہمارا فخر ہیں اور ہمارے بھائی، باپ اور شوہر ہماری چادریں ہیں۔ انہیں گالیاں دینا، عورتوں کی آزادی کے حوالے سے فضول اور بے ہودہ جملے کہنا یہ ہماری اقدار نہیں۔ہمارے اردگرد ہزاروں ایسی عورتیں ہیں جو اپنے تقدس کی حفاظت کا ہنر جانتی ہیں، نہیں جانتیں تو بس وہ مٹھی بھر عورتیں جنہیں عورتوں کے مقام کا علم ہی نہیں۔

جب خواتین کے حقوق کی بات ہوگی تواسلام سب سے بڑاخواتین کے حقوق کامحافظ ہے مگریہ بیبیاں خواتین کے حقوق کے نام پرسب سے زیادہ اسلامی تعلیمات کاتمسخراڑاتی ہیں ،ظاہرہے کہ آزادی نسوں کے نام پریہ چندخواتین اچانک منظرعام نہیں آئیں ان کے پیچھے ایک مضبوط لابی ،ایجنڈہ اورقوتیں متحرک ہیں ،انقلاب فرانس کے بعدشروع ہونے والی تحریک آزادی نسواں کے نام سے ان تحریکوں کے مقاصدپڑھیں تورونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جن میں واضح طورپرلکھا ہواہے کہ ،خاتون خانہ کو گھریلو ذمہ داریوں اور تولیدی خدمات پر باقاعدہ معاوضہ دیا جائے۔ازدواجی عصمت دری پر قانون سازی اور فیملی کورٹس کے ذریعے مردوں کو سزا دلوائی جائے ،تحریک آزادی نسواں کے ممبر ممالک میں جنسی تعلیم پر زور دیا جائے۔اسقاط حمل کو عورت کا حق قرار دیا جائے۔یہ وہ تحریک ہے جس کی بنیادنئے پاکستان میں رکھی جارہی ہے ۔

یہ بات کسی حدتک درست ہے کہ مغربی عورت بالآخران حقوق کے نام پرمردکے برابرکھڑ ی توہوگئی ہے لیکن اس دوران وہ بہت کچھ گنوا بیٹھی ہے۔گر آپ مغربی معاشرے کا بغور تجزیہ کریں تو آپ اتفاق کریں گے کہ مغربی عورت بہت کچھ کھو چکی ہے۔ وہ خاندانی نظامِ زندگی سے محروم ہوئی، ذہنی سکون سے محروم ہوئی اور یہاں تک کہ وہ اپنے وقار اور نسوانیت سے بھی محروم ہو گئی۔دوسری طرف اگر آپ اسلام کا جائزہ لیں تو اسلام نے آج سے چودہ سو برس پہلے ہی عورت کو بے شمار حقوق عطا کر دیے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی دیگر تہذیبیں یہ سوچ رہی تھیں کہ عورت کو انسان بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کے حقوق کا جو تصور دیا اسکی نظیرآج عورت کے حقوق کے علمبردار مغرب کی تاریخ میں دور دور تک نہیں ملتی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 105 Articles with 28259 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2020 Views: 171

Comments

آپ کی رائے