مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا

(Mukhtiyar Ahmead, )

ایک عجیب گفتگو جو اکثر مردوں کے لئے کہی جاتی ہے۔
مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا۔
اسلم صاحب کے گھر بیٹی کی ولادت ہوئی۔اسلم صاحب بہت خوش ہوئے۔ کہ رحمت آئی ہے۔لیکن مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا۔اسلم صاحب کے گھر اگلے سال بیٹے کی ولادت دونوں جوان ہوئے۔اسلم کا بیٹا اپنی بہن کا محافظ ہوا۔ ہر آن اپنی بہن کی حفاظت کرتا رہتا۔ ہاں لیکن مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا۔پھر ساری عمر اسلم صاحب کم کھاکر پیٹ پر پتھر باندھ کر پیسے بچاتا رہا ان پیسوں سے بیٹی کا جہیز بنایا اور دھوم دھام سے شادی کرتا ۔ہاں لیکن مرد عورت کے لئےکچھ نہیں کرتا۔پھر جب یہ عورت بیوی کا روپ دھرتی ہے تو شوہر کے روپ میں ایک اور خادم اس کے سامنے ہوتا ہے جو گرمی سردی دھوپ و بارش سب کو بر صورت برداشت کرتا ہے تاکہ گھر میں رہنے والی کو کوئی پریشانی نہ ہو لیکن ہاں مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا
ماں:کے روپ میں جب عورت سامنے آتی ہے تو اپنے بچوں کے لئے جنت جیسی نعمت اس کے قدموں کے نیجے آجاتی ہے اور بیٹے اس جنت کے حصول کی خاطر اس عورت کو اپنی آنکھوں کی پتلی پر بٹھایا ہے۔ لیکن ہاں مرد عورت کے لئے کچھ بھی نہیں کرتا۔
دور جہالت میں زندہ دفن کی جانے والی مخلوق کو اسلام نے عزت کا تاج پہنایا۔اور بیٹی کی صورت میں رحمت بنایا۔
دور جہالت میں جب شوہر فوت ہوجاتا تو بیٹے اپنی باندھی بنا دیتے تھے لیکن اسلام نے ماں کا درجہ دیکر اس کی خدمت کرنے والے کو جنت کا حقدار بنادیا۔
دور جہالت میں بیواہ کو کمی زندہ شوہر کے ساتھ دفن کردیا جاتا تو کہی کال کوٹھڑی میں ایک سال تک بند کردیا جاتا اور سال کے بعد اگر زندہ بچ بھی جاتی تو منہ کالا کرکے گلی کوچوں میں گھمایا جاتا لیکن اسلام نے بیواہ کی خدمت کرنے والے کو جہنم سے ڈھال بتایا اور ان کی ذمہ داری باپ اور بھائیوں کے کندھوں پر رکھ دی۔
لیکن ہاں مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا
بیوی:دور جہالت میں حوض اور نفاس کی کے دنوں میں عورت کو نجس العین سمجھا جاتا تھا۔ اور تذلیل کی جاتی تھی لیکن اسلام نے اس کو ان ایام میں مردوں سے سوائے صحبت کرنے کے مردوں کے قرب میں رہنے کا حکم دیا (یعنی ناف سے لیکر گھٹنوں تک نہ چھوئے اور صحبت نہ کرے ) باقی ان کے ساتھ بیٹھنا ۔کھانا۔ سب حلال کیا۔
لیکن ہاں مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا۔
پیدا ہو تو آذان کان میں مرد دے۔
انتقال ہو تو دفن مرد کرے
لیکن ہاں مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا
خدارا! اللہ عزوجل کی تقسیم پر راضی رہو۔اگر اپنی انا کے اصول بناکر اس پر چلنے لگو کی تو سوائے رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا !
صرف تمہارا حال کیا تھا اور نبی آخر زمان ﷺ نے تمہیں کیسا مقام دلوایا یقینا یہ اسلام ہے جس نے عورت کو عزت کا تاج پہنایا ورنہ اس سے پہلے صر ف اتنا سوچو کہ:اسلام سے قبل عورت ہونے کے ناتے تمہارا کیا مقام تھا ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کیا مقام دیا۔
تو پھر یہ کیوں کہتی ہو کی مرد عورت کے لئے کچھ نہیں کرتا۔
اللہ کی دی ہوئی نعمت پر شکر کرو ۔جب نعمت چلی جاتی ہے تو لوٹ کر نہیں آتی۔
تحریر : ابوحسنین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mukhtiyar Ahmead

Read More Articles by Mukhtiyar Ahmead: 2 Articles with 649 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2020 Views: 471

Comments

آپ کی رائے