تحریک ختم۔نبوت اور اسلاف

(Hafsa Saqi, )

ختم نبوت كے لئے کام کرنا بہت عظیم جہاد ھے ,مسیلمہ کزاب ملعون کے خلاف امت مسلمہ کے پہلے تاجدار خلافت سيدنا صديق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور جنگ یمامہ لڑی گئی جس مین 1200 اصحاب پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم و رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہاد ت نوش کیا,,,,
واقعہ یہ ھے پیر مہر علی شاہ رحمہ اللہ نے فرمایا جو بندہ ختم نبوت كے لئے ے کام کرتا ھے ,نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ھاتھ اس کی پشت پہ ھوتا ھے ,
اور محدث ديوبند شارح بخاري فيض الباري سبد انور شاه صاحب رحمه الله نے فرمایا ,جو شخص ختم نبوت كے لئے کام کرتا ھے ,نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت والے روز اس شخص كے لئے شفاعت کرین گے ,,
اسلامی جمہوریہ پاکستان مین تحریک ختم نبوت نے جب زور پکڑا ,تو مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ,,
عجب وقت تھا لاھور کی سڑکین شمع رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانون کے مقدس خون سے رنگین ھو گئین ,جیلین بھر دی گئین ,,
ایسے مین مجاھد ملت مولانا عبد الستار نیازی رح کو سزاے موت سنائی گئی ,,
بانی جماعت اسلامی ,داعی اسلامی انقلاب ,مفسر قرآن سید مودودی رحمہ اللہ کو بھی سزاءے موت سنائی گئی ,,پتہ چلتا ھے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ھی عجب چیز ھے کہ دونون بزرگون مین سے کسی نے بھی رحم کی اپیل نہین کی,,
اور حکومت وقت جرات ھی نہ کر سکی کہ ان بزرگون کو تخت دار پہ لٹکاتی ,,اور باعزت طور پہ رھائی ھوئی ,
اب دونون بزرگ اپنے اپنی طبعی عمر پوری کر کے اپنے رب کے پاس جا چکے ھین اللہ جنت الفردوس مین جگہ عطا فرماءے ,,
واقعہ یہ ھے 1952 مین قادیانیون نے اعلان کیا تھا کہ یہ سال قادیانیت کے عروج کا سال ھے ,دسمبر 52 گزر گیا 53 شروع ھوا ,,خطيب ايشياءامير شريعت سيد عطا ءالله شاه بخاري نے اعلان کیا
,او سنو مرزایو.!!! "تم نے کہا تھا کہ 1952 قادیانیت کے عروج کا سال ھے ,کچھ نہ کر سکے تم ;اب یہ 53 تمھاری ذلت کا سال ھے"
,اور زبردست تحریک شروع ھو گئی۔ سید عطا ءاللہ شاہ بخاري جس كے ھاتھ پہ محدث عجم سيد انور شاه صاحب نے لاھور مين ختم نبوت كے جلسہ مین بیعت کی اور پھر سینکرون علماء نے آپکی بیعت کی ,,اور سید عطا ءاللہ شاہ بخاري کو سید انور شاہ صاحب نے امیر شریعت کا لقب عطا کیا ,,

اس دور پرفتن مین ختم نبوت كے پلیٹ فارم پہ دن
رات کام کیا۔
الغرض بهت قربانیون کے بعد مرزایون اور قادیانیون کو پارلیمنٹ آف پاکستان نے
7 ستمبر 1974 کو غير مسلم قرار دے دیا ۔ اور آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اسلاف کےنقش پا پرچلتےہوئے اس شمع کو روشن رکھیں جو بزرگان
دین کے خون سے جلائی گئ#
و السلام مع الاکرام ,,
محمد اکبر علی ساقی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafsa Saqi

Read More Articles by Hafsa Saqi: 27 Articles with 8601 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 216

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ