میرے بچے میری دنیا

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

بالیدگی کی اصطلاح مقداری اضافے کے معنی میں استعمال ہوتی ہے ۔ جب کہ نشو نما ایسے اضافے کو کہتے ہیں جس کا تعلق معیار کے ساتھ ہو ۔ ایک بچے کی قد اور جسامت کا اضافہ بالیدگی کہلاتاہے اور جسم کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ اس کادماغ اور جسم کی اندرونی کیفیات میں بھی تبدیلیاں رونما ہو تی ہیں اور ذہنی طور پر بھی تبدیلیاں آتی ہیں یہ نشونما کہلاتی ہیں۔ پس ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بالیدگی اورنشونما سے مراد وہ جسمانی ، ذہنی، معا شرتی ،اور جذباتی تغیرات اورتبدیلیاں ہیں جو پیدائش سے لے کر بلوغت تک رونما ہوتی ہیں۔

بالیدگی اور نشو نماآہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ہوتی رہتی ہے ۔ جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ذہنی پرورش بھی پروان چڑھتی رہتی ہے لیکن جسمانی نشو نما ایک حد تک جا کر رک جاتی ہے مگر ذہنی ، جذباتی، اور معاشرتی تبدیلیاں زندگی بھر جاری رہتی ہیں اس کے سوچنے، سمجھنے، اُٹھنے بیٹھنے ، ااور خوشی اور غم کے انداز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

ابتدا ء میں بچے مختلف اشیاء میں فرق محسوس نہیں کرپاتے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی ہے۔ جب بچہ چھوٹا ہو تا ہے تو وہ چھری اور چمچے میں فرق محسوس نہیں کرتا ۔ جسمانی نشونما تیزی سے ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وزن بھی بڑھتاہے اور ذہن اور حافظہ بھی تیز ہو جاتاہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔ان میں سے ہر نعمت اپنی جگہ بہت اہم ہے ۔ ان لاتعداد نعمتوں میں اولاد کی نعمت بہت اہم ہے۔ انسان ہر چیز داؤ پر لگا کر ہر ممکن سہولت اپنے بچوں کو دیتا ہے۔ ان میں سے ہر سہولت بچوں کے لیے جسمانی راحت کا سامان بنتی ہے۔ یہ تو خیر الگ موضوع ہے کہ جسمانی راحت زیادہ اہم ہے یا کوئی دوسری راحت لیکن ہوتا ایسا ہی ہے ۔ چونکہ ہر فرد اپنے بچوں کی جسمانی راحت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے لہٰذا آج اسی حوالے سےہم آپ تک اہم اور مفید معلومات پہنچائیں گے۔

ذہنی اور جسمانی نشوونما میں کوئی بھی ایک دوسرے سے کم اہم نہیں ۔ دونوں میں سے کوئی ایک بھی کمزور رہے گی تو بچے کی شخصیت میں کمی رہ جائے گی۔ اس کی صفائی ستھرائی بالکل درست انداز میں کی جانی چاہیے۔ سستی کی علامت نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر دم متحرک ہونا چاہیے۔ اٹھنے بیٹھنے کے انداز سے والدین کی تربیت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے فنکشن میں آنے جانے اور ملنے ملانے سے ایک بھرپور اور بااعتماد شخصیت نظر آنی چاہیے۔

قارئین:
بچے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے والدین کو فوکس کرتے ہیں۔ ان کو آئیڈیل بناتے ہیں۔ جب والدین ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تب وہ ہر دوسرے فرد کو جو انہیں ایکٹیو نظر آئے گا اور جاذب نظر ہوگا ، اسے رہنما بنا لیں گے۔ جب یہ بھی نہ ہو تو پھر بغیر سوچے سمجھے چل پڑتے ہیں ۔ چونکہ والدین کا یہ پہلو بہت اہم ہے اور حساس بھی ہے۔

چھوٹا سا کریانہ سٹور ہو یا کسی بڑے مال میں بڑا سا ڈیپارٹمنٹل سٹور ، ہر جگہ بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان بڑی نمایاں جگہ پر انتہائی خوشنما انداز میں رکھا ہوتا ہے۔ جنک فوڈ کی فہرست تیار کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم اپنے ہاتھوں پیسے دے کر اپنے بچوں کو کیا کھلا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بچوں کی صحت اور جسمانی نشوونما پر کیا برے اثرات پڑ رہے ہیں ، اس جانب ہماری توجہ ہی نہیں بلکہ زیادہ درست یہ ہے کہ ہمیں احساس بھی نہیں ۔

میڈیا آج کے دور کی ایک زندہ حقیقت ہے۔ اس نے معاشرے کے ہر گھر میں نقب زنی کی ہے اور شدید طریقے سے معاشرے کو متاثر کیا ہے۔ ہر چینل پر پیش ہونے والا بیشتر مواد 10 سے 20 سال کے بچوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے اور دوسری ترجیح 20 سے 30 سال کے نوجوان ہیں ۔

یہاں ایک اہم نکتہ کی جانب ہم آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں ۔جہاں ہر والد اور والدہ بچوں کے لیےنہ صرف ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں بلکہ واقعتا قربانی دیتے ہیں ۔ وہیں کچھ اور کام اس سے بھی زیادہ اہم ہیں ۔ جو بچے کی شخصیت کے بننے اور سنورنے میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آئیے :اپنے موضوع کی جانب بڑھتے ہیں ۔

قارئین:
بچوں کی نشوونما میں جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تبدیلیاں شامل ہیں جو انسانوں کی پیدائش سے لے کر بڑے ہونے کے دور کے ختم تک جاری رہتی ہیں، جیسا کہ افرادمستقل نشو و نماپاتے رہناہے۔ یہ نشوونماکی تبدیلیاں خاندانی عوامل اورولادت سے پہلے کے حالات سے بہت متاثر ہوتی ہیں ۔جب بات بچوں کی growth کی جاتی ہے تو اس میں موروثیت یعنی خاندانی پش منظر اور ولادت سے قبل کے حالات کو عمومًا بچوں کی نشو و نما کے مطالعے میں شامل کیا جاتا ہے۔

نشوونما کے متعلق جاننے اور اس کو سمجھنے کے لیے کے لیے بچوں کی عمر کے اعتبار سے تقسیم کاری کی گئی ہے ۔انھیں کچھ اس طرح تقسیم کیاگیاہے ۔نومولود (عمر صفر سے چار ہفتے)؛ گودی بچہ (عمر چار ہفتے سے ایک سال)، رینگتا بچہ (عمر ایک سے تین سال)؛ ماقبل اسکول بچہ (4سے6 سال)؛ اسکولی بچہ (عمر 6سے11 سال)؛ جواں سال (عمر 12سے 18سال)۔اسی اعتبار سے اب ان کی نشوونماکی احتیاطیں اور طریقے بھی جداجداہوں گے ۔جس عمر کا بچہ ہوگااس کے لیے ذہنی و جسمانی نشوو کے انداز ان کی عمر اور کیفیت کے مطابق ہی ترتیب دیے جائیں گے ۔ایسا نہیں کہ تمام بچوں کو ایک ہی طرز اور ایک ہی انداز میں treat کیا جائے گا!!!

قارئین:
بچوں کے رویئے سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔ہر بچے کا الگ انداز ہے ۔کوئی بول کر توجہ پانے کا احساس دلاتا ہے کوئی خاموشی کی صورت میں ،کوئی چیختا ،چلاتا ہے تو کوئی غلط کاموں کی طرف متوجہ ہوتاہے لیکن سب کامقصد یہی ہوتاہے کہ والدین ہماری طرف دیکھیں اور ہمیں تو جہ دیں ۔۔۔ایک وقت تھا کہ جب ماں بچوں کے بتائے بغیر ان کی درد ،بھوک ،پیاس محسوس کر لیتی تھی تو اب کیوں نہیں جب وہ زباں سے بول کر اور اپنے رویے سے اظہار بھی کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔ہر بچے کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکنے کی کوشش نہ کریں،اپنے بچے کی نفسیات سمجھیں۔

قارئین :میڈیاااور سوشل میڈیا کےاستعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان نے والدین کو بچوں سے بہت دور کر دیا ہے۔ ۔ سکائپ پر بات نہ کرنے دینے کی صورت میں بچے کو کھڑکی سے باہر پھینک دینے جیسے واقعات مغرب میں سنے تھے لیکن اب "یورپ کی مشینیں " مشرقی محبت و آداب بھلانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ بچہ توجہ چاہ رہا ہے لیکن۔۔۔۔۔!

لیکن گھر کے بڑوں کی جانب سے کچھ اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ارے !بچے کو پکڑو یہ مجھے کمپیوٹر استعمال کرنے نہیں دے رہا۔ ایک زور دار طمانچہ اور"میں اتنی اہم خبر پڑھ رہی ہوں اور اسے اپنی پڑی ہوئی ہے۔"۔۔۔بچے کو فیڈر دیتے ہوئے ٹی وی دیکھا جا رہا ہے ۔کچھ کھلاتے ہوئے میسج آ گیا اور ماں موبائل کی طرف متوجہ ہو کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گئی،بچہ شدتِ بھوک سے چیخا تو "کیا ہے؟ ایک تو دو منٹ صبر نہیں ہوتا، ایک میسج ہی پڑھنے لگی تھی۔لے کھا !۔۔۔
اس طرح بے توجہی اور لاپرواہی بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوو پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔

قارئین:
ہم سمجھتے ہیں کہ بچے کو شیرخواری اور ابتدائی عمر میں کچھ سمجھ نہیں ہوتی لیکن اس کے سیکھنے اور رویہ سمجھنے کی عمر یہی ہوتی ہے ،چار پانچ سال میں تو وہ دیکھے، سنے رویوں کا اظہار شروع کر دیتا ہے ۔۔آج مائیں بچوں کو چھوڑ کر انٹرنیٹ پر گھومیں اور جب بچہ انہیں مشینوں میں گم ہو گا ،جو اس نے اس نے اپنے والدین کو کرتے دیکھا وہی کچھ کرے گا پھر پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے گا۔ بڑھاپے کی عمر مشینوں کے سہارے نہیں گزرے گی۔

والدین کا کھانے کا ذوق بچوں پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ ذوق جتنا اعلی و ارفع ہوگا اپنے ہی بچوں کی جسمانی نشوونما اور تربیت میں فائدہ مند ہوگا۔ مشاہدے کی بات ہے کہ والدین خود جنک فوڈ سے پرہیز نہیں کرتے تو بچوں کو کیسے بچا سکتے ہیں ۔ کھانا بھی صحت مند ہو اور جگہ بھی۔ کھانا گھر میں ہو یا باہر مگر ان دونوں باتوں کو خیال رکھیں۔

ماں باپ کسی بھی بچے کی زندگی میں ایک اہم کردار انجام دیتے ہیں اور اس کے سماج سے جڑنے اور اس کی ذاتی نشو و نما میں مدد کرتے ہیں۔ دونوں ماں باپ کا ایک جگہ جمع ہونا ایک بچے کی زندگی میں استحکام لا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے صحت مندانہ نشو و نما کی حوصلہ افزائی ممکن ہے۔ ایک اور اثر انگیز بات جو بچوں کی نشو و نما میں معاون وہ ماں باپ کی دیکھ ریکھ کی کیفیت ہے۔بچے میں جینیاتی طور پر بھی والدین کی خصوصیات منتقل ہوتی ہیں جو انکی جسمانی ذہنی جذباتی اور نفسیاتی نشونما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

نیک اولاد اللہ تبارک وتعالیٰ کا عظیم انعام ہے۔اولادِ صالح کے لئے اللہ عزوجل کے پیارے نبی حضرت سیدنازکریا علی نبیّنا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دُعامانگی۔چنانچہ قراٰن پاک میں ہے :
رَبِّ ہَبْ لِیۡ مِنۡ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾
ترجمہ کنز الايمان:اے رب ميرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بيشک تو ہی ہے دعا سننے والا۔(پ ۳،اٰل عمران:۳۸)
اور خلیل اللہ حضرت سیدنا ابراہیم علی نبیّنا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کی یوں دعا مانگی :
رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾
ترجمہ کنز الايمان:اے ميرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ ميری اولاد کو اے ہمارے رب اورمیری دعا سن لے۔(پ ۱۳،ابرہيم :۴۰)
یہی وہ نیک اولاد ہے جو دنیا میں اپنے والدین کے لئے راحتِ جان اور آنکھوں کی ٹھنڈک کاسامان بنتی ہے ۔بچپن میں ان کے دل کا سرور ، جوانی میں آنکھوں کا نور اوروالدین کے بوڑھے ہوجانے پر ان کی خدمت کرکے ان کا سہارا بنتی ہے ۔

ناظرین :عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوت اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول بچوں کی بہترین تربیت کا بہترین ذریعہ ہے ۔مدرسۃ المدینہ ،دارالمدینہ اور جامعۃ المدینہ جیسے شعبہ جات بچوں کی اخلاقی و ذہنی نشوونما کے لیے بہترین مراکز ہیں ۔اپنی اولادوں کو مدنی ماحول سے وابستہ کیجئے ۔

جب بچوں کی اچھی ذہنی و جسمانی نشوونما ہوتی ہے تو پھر جب یہ والدین دنیا سے گزرجاتے ہیں تویہ سعادت منداولاد اپنے والدین کے لئے بخشش کا سامان بنتی ہے جیساکہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا :جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تين کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے:
(۱)صدقہ جاريہ۔۔۔۔۔۔ (۲)وہ علم جس سے فائدہ اٹھايا جائے۔۔۔۔۔۔ (۳)نيک اولاد جو اس کے حق ميں دعائے خير کرے۔(صحیح مسلم،کتاب الوصیۃ ،باب مایلحق الانسان ،الحدیث ۱۶۳۱،ص۸۸۶)

قارئین :ہمارا تو عزم ہے آپ تک درست اور بہترین معلومات پہنچائی جائے ۔اپنے بچوں کاخیال رکھیں ۔بچوں کی کونسلنگ اور ان کو skilledبنانے کے لیے آپ بروز اتوار دوپہر 2 بجے سے رات 8بجے تک ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔ہماراعزم دوسروں کی خدمت اور شعور و اآگاہی کا پرچار ہے ۔اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازتے رہیے گا۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 347 Articles with 296838 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
08 Mar, 2020 Views: 517

Comments

آپ کی رائے