عورت مارچ(مغربی چال)

(Ali Jan, Lahore)

کبھی دلیل کی نہیں خلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کی تعظیم فرشتے بھی کرتے ہیں
اوڑھ لیتی ہے جوعورت حیا کی چادر
عورت کاتقدس کیاہے اسے سمجھنے کیلئے کئی سوسال گزرگئے مگرہم آج تک عورت کی قدرنہ کرسکے جس طرح ہمیں کرنی چاہیے عورت کوئی وجود کانام نہیں بلکہ ایک ہستی ہے جس میں اﷲ پاک نے انسانی تقاضوں کی تکمیل کی ہے اوراس کے تقدس کا حکم فرمایا۔تمام رشتوں میں ماں،بیٹی،بہن،بیوی کے رشتے تقدس ہیں باقی رشتے ان رشتوں کے سامنے پھیکے ہیں ماں کے بغیرگھردوزخ اورکھانے کوتیاررہتا ہے بہن جیسا ہمدردرشتہ کوئی نہیں بیوی جیساہمراز اوردکھ سکھ کا ساتھی کوئی ہوہی نہیں سکتا بیٹی کے بغیرگھرویران دکھائی دیتا ہے ۔عورت کی ذمہ داریوں میں کوئی فرق نہیں ہوسکتا اگرماں ہے توبیٹے اوراﷲ کے درمیان رابطے کاذریعہ ہے اس رابطے کی وجہ سے اﷲ پاک فرماتے ہیں’’میں کسی ماں کی دعارد نہیں کرتا‘‘عورت اگربہن ہے توسراپہ غیرت ہے جواپنے بھائیوں اوردیگرافرادکے دلوں میں عورت کے تقدس کوسلامت رکھتی ہے اگربیٹی ہے توپیاراورخلوص کا وہ خزینہ ہے جس کی حقیقت سے انکارنہیں کیا جاسکتابیٹی کوخوداﷲ پاک نے رحمت بتایاہے’بیٹیاں سب کے مقدرمیں کہاں ہوتی ہے، خدا کو جو گھر ہوپسندوہاں ہوتی ہیں‘‘ماں کے بعددنیا میں بیٹی اوربہن کے رشتہ قابل تعظیم ہے بیٹی کارشتہ اتنا انمول ہے کہ جب ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ کی صاحبزادیہ آتیں توآپﷺ ان کیلئے اپنی کملی بچھا دیتے ۔ماں ،بہن اوربیٹی کے بعدعورت کاروپ بیوی میں ملتا ہے جودکھ سکھ کی سانجھ اورآرام سکون کیلئے بنایا گیا ہے ۔اگرہمارامذہب اسلام عورت کو عزت نہ دیتاتوبیٹی کوجنت کی ضمانت اورماں کے قدموں تلے جنت نہ رکھ دیتا۔مگرآج مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہاہے کہ کچھ مغربی ذہن کی عورتوں نے میراجسم میری مرضی کاڈھنڈوراپیٹاہے جسے مغربی ذہن کے غلاموں نے پرموٹ بھی کیاہے اورکررہے ہیں ۔دوران ہفتے میں سب سے زیادہ ڈسکس کیاجانے والااورسب سے زیادہ نیوز اسی ایشوپرہوتی ہیں میراجسم اور۔۔۔ جو اس بات کی ٹھاٹھیں مارتے ہیں انہیں نہیں پتہ پلک جھپکنے سے پہلے یہ جسم لاش میں بدل سکتاہے اورمرنے کے بعدسب سے پہلے اس کا نام تبدیل ہوکے میت میں بدل جاتاہے آج کی عورتیں اگرمعاشرے میں سراٹھا کرجی رہی ہیں تواس کا ساراکریڈٹ میرے مذہب اسلام کوجاتاہے۔ہاں پرویزمشرف کوجاتا ہے نے بھی اپنی ٹانگ اڑائی اوران مغربی عورتوں کی طرح آزادی کوپرموٹ کیاجس کانتیجہ نکلا’’میراجسم میری مرضی‘‘ کیونکہ جتنا صدرپرویز مشرف نے عورت کو آزادی دی ہے کسی اورنے نہیں دی اگرآزادی دینی ہے توان کوتحفظ بھی دیناریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ اگربلاوجہ آزادی ملے تواس کا نتیجہ بھیانک ہوتاہے ’’کاروکاری ونی ‘‘جیسی رسومات کی وجہ سے عورتوں کویا توبھائی باپ کی وجہ سے قربانی دینی پڑتی یہاں تک کہ اپنی عزت بھی نیلام کرنی پڑتی تھی ،چھوٹی عمرکی بچیوں کی شادی دادے نانے کی عمرکے مردسے شادی کرانا،پیروں میں بیڑیاں ڈال کرقیدکروانا،وڈیروں،جاگیرداروں اوران کے بیٹوں کااپنے کسی مزدوریامزارعے کی بیٹی بہن کے ساتھ زیادتی یامردکے کسی جرم کی وجہ سے پنچائیت کے فیصلے پرعورت کو قتل تک کردیاجاتایہ پنچائتی نظام دیہی علاقوں میں پایہ جاتا تھا اورآج بھی کچھ علاقوں میں اس کے برے اثرات پڑے ہوئے ہیں۔قارائین اگرآپ کسی اورمذہب کی ہسٹری پڑھیں توآپ کوپتاچلے گاکہ عورت کو شیطان کاروپ،فسادی،منحوس،کمترپتانہیں اورکیاکچھ سمجھاجاتاہے مگراسلام نے عورت کوعزت بخشی اورجنت لاکے اس کے قدموں میں ڈال دی مگرمیراجسم میری مرضی والی عورتیں اپنی ہی تذلیل کروانے پرتل گئی ہیں ۔میرے اسلام میں عورت پرپابندی نہیں روک ٹوک ضرورہیں جیسے اگرکوئی عورت تجارت یانوکری کرناچاہتی ہے تو اسے اجنبی لوگوں سے خلوت میں میٹنگ ومیل جول سے روکا گیاہے کیونکہ عورت کوشرعی پردے کاحکم دیاہے۔ہماری شادیوں اوردیگرتقریبات میں جب انگریزوں کی ثقافت کواجاگرکیاگیاتوہم نے اسے بڑھاوادیاجس نے منع کیااسے کندذہن سمجھاجانے لگاآج ہم اپنی اسلامی ثقافت کاجنازہ نکال کرغیرمسلموں کی ثقافت اپنابیٹھے ہیں شلوارقیمض کوپرانا فیشن سمجھ کے پینٹ شرٹ کے فیشن کواپنالیاہے اپنی بچیوں کو پینٹ شرٹ پہناکرموبائل جیسی آفت کاان کوعادی کردیااپنی مادری زبان چھوڑکرانگریزی بولنے پرمجبورکیاتوہماری بچیوں نے باپ بھائی کی عزت کو چھوڑکر اپنی آزادی کی جنگ کے لیے باہرنکل کھڑی ہوجاتی ہیں مگرہم انہیں یہ بتانابھول بیٹھے ہیں کہ یہ مغر ب نہیں۔حکومت نے سماجی ذرائع ابلاغ کیلئے ضابطہ اخلاق ترتیب دینے کا اعلان کیاجس کے بعد سونامی ،بھونچال طوفان پتا نہیں کیاکیاآیااورآرہاہے جس سے بخث شروع ہوگئی جس کا کوئی نتیجہ نکلتانظرنہ آرہاتھا مگراچانک ایک عورت نے کہہ دیامیراجسم میری مرضی :پھرکیاتھاآٹھ مارچ خواتین کاعالمی دن میراجسم میں مرضی میں تبدیل ہوکے عورت مارچ بن گیاجس میں کئی جماعتیں اس مارچ کے خلاف توکچھ اپنی سیاست چمکانے کیلئے میدان میں نکل آئے ہیں ۔خواتین کے عالمی دن کے قریب آتے ہیں ایک مخصوص طبقہ نے اس بخث کوایماپراٹھادیا۔اگریہاں پر میرے پاس تم ہوکے جناب خلیل الرحمان قمرکاذکرنہ کیاگیاتواس تحریک کی توہین ہوگی میراجسم میری مرضی گروہ کی ماروی کاسامناجناب خلیل الرحمان قمرجب آمنے سامنے آئے تولوگوں نے جیسے میرے پاس تم ہوکو سراہااسی طرح خلیل الرحمان قمرکواس باربھی خوب دادملی ۔خلیل الرحمان نے ماروی کواتناتک کہہ دیا کہ کوئی تیرے جسم پر تھوکتابھی پسند نہیں کرتاایسے لگ رہاتھا خلیل الرحمان قمر اکثریت لوگوں کی آواز بن کرٹی وی پرآئے ہیں اورہرعوام کی نمائندگی کررہے ہیں ۔مجھے اس بات کا پورایقین ہے کہ میرے معاشے کی خواتین کی اکثریت میراجسم میری مرضی کوپرموٹ کرنے کے بجائے اس کابائیکاٹ کررہی ہونگی ۔چاہے عورت پڑھی لکھی ہویاان پڑھ وہ اتناسمجھتی ہے کہ اس کے قدموں تلے جنت ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ مغرب نے عورت کوآزادی دی انکوبتاتاچلوں کہ مغرب نے عورت سے ممتاچھین لی،عورت سے گھرگرہستی کاکردارچھین لیا، بیٹی اپنے باپ کی شفقت سے محروم، بہن کے سرسے دوپٹہ غائب ،عورت کوجوانی کا کھلونا مغرب نے بنایا،عورت کے حسن کوآج بھی مغرب میں تماشابنایاجاتاہے،اسلام نے عورت کوزینت کاشانہ بنایامگرمغرب شمع محفل بناناچاہتاہے جویقیناً کبھی نہیں ہوگاکیونکہ پوری دنیامیں اسلام کابول بالاہے اورہرکوئی دین اسلام کی قدرکرتاہے اورتعلیماتی مانتاہے ۔عورت کی زبان کی اس شخصیت کواجاگرکرتی ہے اگراس کی زبان الفاظ کاصحیح استعمال نہیں کرے گی توایسی عورت کو نہ خاندان اورنہ ہی معاشرہ قبول کرے گا۔میراجسم میری مرضی جیسے جملوں سے عورت کیلئے مسائل بڑھیں گے اورعورت کیلئے جو ہمارے ملک کے حکمران کررہے ہیں یقیناً اس میں رکاوٹ بڑھے گی احتجاج سب کا حق ہے مگرایسے احتجاج کی اجازت کوئی معاشرہ نہیں دے گا خاص طوراسلامی ریاست۔یہ سب پڑھنے کے بعدآپکوسمجھ آگئی ہوگی کبھی کبھاردلیل کے بجائے خلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ہرسال 8مارچ کو خواتین کاعالمی دن منایاجاتاہے مگراس بار میراجسم میری مرضی منایاجارہاہے جس کاہرغیرت مندبائیکاٹ کرے گا ویسے سوچنے کی بات ہے عورت مردوں کے ساتھ ہوٹلوں میں ،بس ،میں ایئرہوسٹس،دفتروں یہاں تک کہ اینٹ کے بھٹوں پربھی کام کررہی ہیں مگرجوعورتیں میراجسم میری مرضی کہہ رہی ہیں وہ کونسی آزادی چاہتی ہیں؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 243 Articles with 78951 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2020 Views: 137

Comments

آپ کی رائے