میرا جسم میری مرضی سے کس نے روکا ؟

(Haq Nawaz Jillani, Islamabad)

آج کل سوشل میڈیا پر خواتین مارچ کے حوالے سے کافی زور وشور جاری ہے جس میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا بھی کافی عمل دخل شامل ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں معروف ڈرامہ لکھاری خلیل قمر نے خواتین کی علمبردار ماروی سرمد کواس وقت کافی برا بلا کہا جب خاتون ان کو بولنے نہیں دے رہی تھی اور کہا کہ میری جسم میری مرضی جس پر خلیل قمر نے غصے میں آکر بہت کچھ کہہ دیا جو نہیں کہنا چاہیے تھا ۔ خاتون کا ماضی یا مکالمات بھی ایسی ہی ر ہے ہیں لیکن ایک دانشور کو نیشنل ٹیلی و ژ ن پر اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے تھی جس کیلئے خود یہ نام نہاد علمبردار ماحول بنا تی ہے۔خلیل قمر نے بھی میرا جسم میری مرضی کا خوب جواب میر ا منہ میری مرضی سے دیا۔ اس کے بعد ایک اور ٹی وی چینل نے بھی ماحول کو مزید گرما دیا۔ سوشل میڈیا میں اب خلیل قمر کے سپورٹ والے زیادہ ہوگئے جبکہ بعض دل جلے بھی میرا جسم میری مرضی کے فلسفے کو خواتین کا بنیادی حق قرار دے رہے ہیں۔

28 فروری 1909کو نیوریارک میں ورکنگ خواتین کی محنت اور کام کے حوالے سے پروگرام ہو ،بعد ازاں 8مارچ 1910کو خواتین کانفرس کا انعقاد ہوا جس میں ورکنگ خواتین کوخرج تحسین پیش کیا گیا جبکہ 1975کو اقوام متحدہ نے بھی عالمی سطح پر اس دن کو منانا شروع کیا اس طرح جو کام جرمنی یاروس میں ورکنگ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات سے شروع اور ان کو خرج تحسین کیلئے اقوام متحدہ کے ممالک نے بھی 8مارچ کو خواتین سے منصوب کیا اوراس کے بعد ہر سال یہ دن دنیا بھر میں خواتین کے حوالے سے منایا جاتا ہے کہ جن خواتین نے سیاست ، علم و ادب یا تاریخ میں نام کمایا ہے ان کو یاد رکھا جائے۔پاکستان میں بھی یہ دن ہرسال منایا جاتا ہے جس میں ان ورکنگ خواتین کو خرج تحسین پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے معاشرے میں نام پیدا کیا ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ سال اس دن کو بعض خواتین جو NGOکیلئے کام کرتی ہے جن کو عالمی ادارے فنڈز کرتے ہیں انھوں نے جلوس نکلا اور بینرز پلے کارڈز پر بے ہود نعرے درج کیے تھے جس میں ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ میری جسم میری مرضی جس پر اس وقت بھی کافی تنقید ہوئی تھی لیکن یہ چند خواتین جو عالمی ایجنڈے پر گامزن ہے ۔ ان کا مقصد پاکستان میں خواتین کے حقوق اورآزادی کے نام پر بے حیائی پھیلانا ہے خود ان میں اکثر خواتین کے گھر ٹوٹ چکے ہیں یعنی ان کو طلاقیں مل چکی ہے اب یہ خواتین کی آزادی اور حقو ق کے نام پر کھل عام دھندد شروع کرنا چاہتی ہے جو اب یہ لوگ چھپ کر کر تے ہیں ۔ ان خواتین کا پاکستان کے ان محنت کش خواتین یا جو اپنے بچوں کی تربیت میں گھر کانظام چلتی ہے کوئی تعلق نہیں جو حقو ق پاکستان میں خواتین کو ملی ہے یا حاصل ہے وہ دنیا میں کہی پر نہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ ایک اسلام نے دی ہوئی حقوق ہے اور دوسری وجہ ہمار ا معاشرتی نظام ہے جس میں ماں کو جو مقام حاصل ہے اس کا دنیا کا کوئی ملک یا قانون احاط نہیں کر سکتا کہ دین اسلام نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ بیٹی ہے تو بھائیوں اور والدین کا فخر ہوا کرتی ہے،بہن کے روپ میں ماں کا کردار ادا کرتی ہے ، بیوی کے روپ میں جو دوسرے درجے حاصل ہے وہ الگ لیکن خاوند اور بیوی کا رشتہ سکون اور ایک دوسرے کا دکھ درد میں ہم ساتھی کا ہے یعنی جو حقو ق اسلام نے دی ہے وہ تو الگ لیکن جو حقوق معاشرے میں بھی خواتین کو اپنے خاندانی نظام میں یا معاشرے میں حاصل ہے ان کا کہی پر مثال نہیں ملتی ۔

آج بھی بس میں ، ہسپتال ،بنک یا دوسرے پبلک مقامات پر خواتین کو لائن اور میرٹ سے ہٹا کر موقعے دیے جاتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے اور خاندانی نظام میں خواتین کو جومقام حاصل ہے وہ مرد کو بھی حاصل نہیں۔ اس میں بعض دفعہ کچھ غلط بھی ہوتا ہے لیکن یہ معاشرے کا جز ہے کہ ہر جگہ پر بعض ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو نہیں ہونے چاہیے لیکن یہ دنیا کے ہر ملک میں ہوتے ہیں اور یہ دنیا کی حقیقت ہے۔

اسلام نے یا اس ملک کے قانون جو حقوق عورت کو دی ہے اس میں عورت نہ صرف خودمختار اور آزاد ہے بلکہ بے حد خوش بھی ۔ اب اسلام کی دی ہوئی یا قانون کی دی ہوئی حقوق پر عمل نہیں ہوتا یا کیا جاتا یا بعض لوگ اس کو نظر انداز کرتے ہیں یہ ہمارا قصور ہے۔ اپنا کھانا خود گرم کرو ، میری جسم میری مرضی ، میں مشین نہیں کہ بچے پیدا کرو وغیر ہ وغیرہ کے نعروں سے ہمارے معاشرے کا کوئی لینا دینا نہیں یہ وہ نعرے ہے جو مغرب میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ یہا ں تو پہلے سے ناکام ہے بس کوشش کررہے ہیں کہ جن اداروں کے لئے یہ لوگ کام کرتے ہیں ،اس سے ان کی دوکان چلتی رہے۔ یہ لوگ عورت کے نام پر دھندد کرتے ہیں جس کیلئے یہ لوگ اس طرح چیختے چلاتے ہیں۔ اس طرح کے خواتین آزادی یا حقوق نہیں بلکہ بے حیائی اور آوارگی چاہتی ہے۔ ان کو ناکامی اسلئے بھی ہوگی کہ ملک کے قوانین یا حکومت کی جانب سے بھی ان کو اس طرح کام یا نعروں کی اجازت نہیں جس کیلئے یہ لوگ میری جسم میری مرضی کا نعرہ استعمال کرتے ہیں ایسے خواتین تو پہلے سے اس پر عمل کر چکی ہوتی ہے۔ ذہنی طور پر بیمارلوگ ہے۔ معاشرہ ان کو ری جیکٹ کرچکا ہے۔ ایسے خواتین کا کام صرف ٹشو پیپر کا ہے جو استعمال ہوا اور پھینکا کیا۔ یہ لوگ تو معاشرے کا کچھ نہیں بکاڑ سکتے البتہ عالمی سطح پر ان کو پر وپیگنڈے کا موقعہ مل جاتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو حقو ق حاصل نہیں ۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اور ان کے بعض ہمنوا ایسے قوانین بننے میں بھی روکاٹ بنتے ہیں کہ جس سے خواتین کو عزت ملے، بچوں کو تخفظ حاصل ہو ۔ یہ وہ لوگ ہے کہ جب زینب بل قانون بن رہاتھا کہ معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو پھانسی دی جائے تو یہ لوگ مخالفت میں آگئے ان کی شکل میں پیپلز پارٹی نے بھی مخالفت کی ۔ یہ لوگ عورت کو عزت نہیں بلکہ بازار میں نیلام کرنے کیلئے سرگرم ہے لیکن پاکستان میں ان کو کامیابی نہیں مل سکتی ۔ یہ ناکام تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔

ہمارا تو ایمان و یقین ہے کہ جس گھر میں عورت نہ ہو وہ گھر گھر نہیں ہوتا۔ وہ عورت جس شکل میں بھی ہو یعنی ماں ، بہن، بیٹی یا بیوی ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا خوب صورت انعام ہے جو مرد کو عورت کی شکل میں دیا ہے جس سے گھر جنت بنا ہوتا ہے ۔ اﷲ ہم سب کے جنت اسی طرح آباد وشاد رکھیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 129787 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
11 Mar, 2020 Views: 185

Comments

آپ کی رائے