یہ زنا کی دعوت ہے عورتوں کے حقوق کا مارچ نہیں

(Zain ul Abadeen, )

 (بتولے باش وپہناں شواز میں عصر کہ درآغوش شبیرےؓ بگیری)علامہ محمد اقبال:ترجمہ" اگر تویہ چاہتی ہے کہ تیری آغوش سے کوئی امام حسینؓ جنم لے توتمہیں حضرت فاطمہؓ کی طرح زمانے سے چھپ کر رہینا ہوگا "وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں8مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پرجبکہ خواتین کے حقوق و فرائض، ان پر شوہروں کی جانب سے ہونے والا ظلم،گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی عورتوں ، اُس غریب کی بیٹی جس پر معاشرے نے زمین تنگ کر رکھی ہے گھروں،سکولوں ،سرکاری دفاتروں میں جنسی ہراساں ہونے والی عورتیں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں ان مظلوموں کی آواز بننے کی بجائے،کچھ امیرترین طوائفیں پچھلے چند سالوں سے طوائف نما سوچ کی حامی نوجوان لڑکیوں کی مدد سے عورت مارچ کر تی ہوئی، انکے ہاتھوں میں مختلف قسم کے پلے کارڈ ہوتے ہیں "میرا جسم میری مرضی " "لوبیٹھ گئی صحیح سے" "خود کھانا گرم کرلو " جیسے غیر اخلاقی الفاظ درج ہوتے ہیں عورت معاشرے کی مقدس روح ہے ماں ،بہن ،بیٹی کے روپ میں مگرلومڑی کی ہمشکل آنٹیوں نے عورت کی پاک ذات کو داغ دارکیااحتجاج کی یہ تصویر اچھی عورتوں کے کردار پر سیاہ دھبے کے مترادف ہے یہ زنا کی دعوت ہے عورت مارچ نہیں حضرت فاطمہ زہرا(سلام اﷲ علیہا)کی سیرت پر عمل پیرا کوئی بھی نیک خاتون اس مارچ کی کبھی حمایت نہیں کرے گی یہ زنا مارچ مغرب کی غلاظت میں نہائی ہوئی تہذیب کو مشرق کی نوجوان نسل پربرسانے کا سبب بن رہے ہیں یہ پاکستان کی اساس جو دین اسلام پر ہے اور ہمارے مضبوط خاندانی نظام پرتہذیبی لحاظ سے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہے بات یہیں تک محدود نہیں لکس صابن کے آدھے منٹ کے اشتہار میں عورت پوری ننگی دکھائی جا رہی ہے ٹی وی ڈراموں سٹیج دراموں اور فلموں میں دکھائے جانے والے ہاٹ سین اسلامی معاشرے میں کھلی بے حیائی ہے آج 21ویں صدی میں عورت کو نمائش کے طور پر پیش کیا جا رہاہے ایٹم سونگ سے کپڑوں کے برانڈکی مشہوری تک میڈیا سے سیاست تک کھانے پینے کی اشیاء سے فائیو سٹارہوٹلوں تک ائیر ہوسٹس سے بازار حُسن تک سبھی جگہوں پرعورت کو پہلے ہی برہنہ کیا جا رہا ہے اُوپر سے عورتوں کے حقوق کے نا م پریہ زنا مارچ کا نیا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے صرف عورت کی توہین ہوگی صف نازک کے ایسے کوئی بھی مسائل حل نہیں ہوں گے اگر مارچ کرنے والی آنٹیوں کو ویمن رائٹس کااتنا ہی احساس تھاتو قصور کی ننھی زینب اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ریپ ہونے والی23سالہ لڑکی اور امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے مارچ کرتی نظر آتیں اُس وقت یہ موم بتی جلانے والی سب میکے یعنی اپنے فحاشی کے اڈے چلانے میں سر گرم تھیں یہی وہ عورتوں ہیں جو غیر مردکے گرم لاوے سے اپنا زیر ناف پیالہ فل کروا لیتی ہیں چند منٹ کی یہ لذت 9ماہ بعدناجائز بچے کی صورت میں سامنے آتی ہے یہ خاندانی نظام کی تباہی، زنامعاشرے میں نت نئی کینسر جیسی بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے کسی بھی خاندان کی سلامتی عورت کے وجود سے ہوتی ہے کیونکہ عورت ایک ہی وقت میں بیٹی ،بہن،بیوی،بہو،بھابی اور ماں جیسے انمول رشتوں میں بندھی ہوتی ہے عزت کی سیڑھی سے اگر اس کا پاؤں پھسل جائے تو پورا خاندان ایک پل میں بکھر جاتا ہے آج ہم سب کسی عورت کے بیٹے اور بھائی ہیں کل کوکسی کے شوہر اور باپ ہوں گے کیا ہم میں سے کوئی چاہے گاہماری بیویاں اور بیٹیاں سرِبازاربے پردہ ہوں زبان پر میراجسم میری مرضی ہویقینی طور پر ایسا کرنے والی کو ہم غیرت کی گولی مار دیں گے کیونکہ یہ نعرہ نسلوں کی تباہی خاندانوں کی بربادی ہے یہ عورت مارچ نہیں بلکہ ففتھ جنریشن وار کی نئی قسم ہے پورے یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں یہودی لابی نے پاکستان میں کچھ سکسی عورتیں بھاری معاوضے کے عوض خریدرکھی ہیں تاکہ یہاں ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جا سکے انکا نشان ہماری تہذیب ،مذہب ،اور طاقتورخاندانی نظام ہے اس سبکا مقصد پاک قوم سے پہچان،عزت و وقار،شناخت اور دو قومی نظریے جیسے عظیم قلعہ پرقبضہ جمانا ہے اس سے پہلے ہمیں شیعہ ،سنی،وہابی اورپنجابی ،سندھی ، بلوچی ،پٹھان میں لڑانے کی بہت کوششیں کی گئیں اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی موجودگی میں ہم نے تمام قسم کی عالمی سازشیوں کو کچل ڈالا تھا اب بھی ایسا ہی ہو گا عورت کے نام پربے حیائی کا یہ کلپ پاکستان میں نہیں چل سکتا یورپ کا فحش کلچراسلامی معاشرے میں نہیں چل سکتا نہ ہی اسے کوئی مسلمان برداشت کر سکتا ہے میں نے خلیل الرحمن قمر صاحب کا نہیں بلکہ تہذیب ،مذہب کا دفاع کیا ہے باقی رہی ماروی سرمد اسکا سبکو معلوم ہے یہ ماضی میں پاک فوج کے خلاف کیسی زبان استعمال کرتی رہی ہے یہ واقعی عورتوں کے حقوق کامارچ ہے تو پھر یہ خواتین بینرزلیے یوں مجرا نہ کرتی پھرتیں مارچ پر رقم خرچ کرنے کی بجائے ایسی غریب عورتوں کی مالی مددکریں جو غربت کے باعث ہسپتالوں کے باہر بچے جنم دینے پر مجبور ہیں اسکے علاوہ ہمارے بے حس معاشرے میں بہت سے یتیم بچیاں بچے ہیں عورت مارچ پر کروڑوں ضائع کرنے والے انکی کفات کا ذمہ اُٹھا لیں تو عمر بھر کا ثواب اور یہ بچے بھی معاشرے کا حصہ بن جائیں گے ذر ا سوچئے گا یہ زنا کی دعوت ہے عورت مارچ نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain ul Abadeen

Read More Articles by Zain ul Abadeen: 16 Articles with 6430 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2020 Views: 265

Comments

آپ کی رائے