ہارٹ اٹیک

(Saleem Saqi, Sargodha)

صبح صادق کافی کا مگ تھامے ٹی وی لانچ میں بیٹھے،صوفے پہ کمر ٹکائے ،نظریں ٹی وی پر خبروں کی ریل پیل پر جمائے، لان میں پیپل کی ٹال پر بیٹھے پرندوں کی چہچہاٹ سے پیدا ہونے والی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا تھا،
کہ
اچانک سینے میں درد کا اک ایسا حول اٹھا کہ بے ساختہ منہ سے نکل گیا
''ہائے،میری ماں''
یہ سننا تھا کہ کچن میں میری بیگم جو بچوں کے ناشتہ بنانے،میں جتی ہوئی تھی بوکھلا اٹھی،اور ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے دوڑتی چلی آئی میری طرف
گویا ہوئی
''کیا ہوا ہے جی ایسی درد بھری آہ تو انسان تکلیف کے آخری دہانے پر نکالتا ہے''
کیا پوچھتی ہو منے کی اماں یوں لگے ہے مرا آخری وقت آن پہنچا ہے
''اللہ نہ کرے ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ''
اللہ کی بندی مرا سینہ درد کے مارے پھٹا جا رہا ہے
اللہ خیر کرے
اچھے بھلے تو بیٹھے تھے آپ ابھی
یہ لیں پانی پئیں
پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے ابھی لبوں کو مس ہی کیا تھا کہ گلاس کب،کیسے اور،کیونکر ہاتھ سے دھڑم نیچے،گر گیا پتا ہی نہ چلا
صوفے پر ٹیک لگائے ہی نیم بے ہوشی کی سے کیفیت میں جا پہنچا
بیگم کے آخری جملے جو مری سماعت سے ٹکرائے
''ارے بیٹا ادھر آؤ دیکھو تو کیا ہو گیا ہے تمہارے ابا کو''
پھر کب بے ہوش ہوا کیسے ہاسپٹل پہنچا کچھ خبر نہیں
جب آنکھ کھلی خود کو ڈاکٹرز کے جھرمٹ میں پایا
وہ آپس میں کچھ چہ مگوئیاں کر رہے تھے
مگر
اینستھیسیا کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے چکر کی سی کیفیت طاری تھی مجھ پر ،اور انکی آواز مری سماعت تک پہنچ نہ پا رہی تھی
بس یوں سمجھ لیں کہ جیسے ٹی وی پر کوئی ڈرامہ،یا مو وی بن آواز کے چل رہی ہو
مری نظروں کے سامنے سب یوں تھا
کچھ آدھ گھنٹے بعد مری حالت قدرے بہتر ہوئی
میں نے انگلی کے اشارے سے دور بینچ پر بیٹھی اپنی بیگم کو اپنی اور بلایا
چند لمحوں تک وہ مرے پاس مرے بیڈ کے سرہانے بیٹھی مرا سر دبا رہی تھی
اس سے پہلے کہ میں اس سے پوچھتا کہ ڈاکٹرز نے کیا کہا کیوں لایا گیا مجھے یہاں،کیا ہوا تھا مجھے،صبح صادق تو اچھا بھلا تھا میں
ڈاکٹر کی بلند ہوتی آواز مرے کانوں سے ٹکرائی
میم آپ کے میاں کو دل کا دورہ(ہارٹ اٹیک)آیا ہے شکر کریں کہ یہ گھر پر تھے، بروقت یہاں لانے اور ٹریٹمنٹ کرنے سے انکی جان کی خلاصی ہو گئی
وہ مری بیگم سے مخاطب تھا
میں شش و پنج میں مبتلا ڈاکٹر کی بات پر غور فرما رہا تھا
کیا واقع مجھے ہارٹ اٹیک آیا؟؟؟؟
ساتھ میں احتیاطاً ڈاکٹر کا کہنا تھا
کہ
''جہاں تک ممکن ہو سکے انھیں چھوٹی سی چھوٹی پریشانی سے بھی حتی المکان دور رکھیئے گا
یہ سننا تھا
کہ
میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں رواں ہو گئیں
یہ سوچ کر یہ سوال خود سے کر کے میں گہری سوچ میں گم گیا
کہ
''جس شخص کا باپ،ماں بہن بھائی سبھی ایک کار حادثے میں جان گنوا جائیں کیا وہ شخص بھی پریشانی سے دور رہ سکے ہے؟؟؟؟؟؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Saqi

Read More Articles by Saleem Saqi: 21 Articles with 12265 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2020 Views: 497

Comments

آپ کی رائے