قاتل

(Saleem Saqi, sargodha)

میں ایک امیر کبیر گھرانے میں پلی بڑی لڑکی تھی اک ایسا گھرانے میں آنکھ کھولی تھی میں نے
جہاں آسائش و آرام کی ہر وہ شے تھی جسے ایک انسان کو پانے کی خواہش ہوتی ہے
میں بہت ہی آزاد خیالات کی مالک تھی
ہر آئے گئے سے فرینک ہو کر بات کرنا اور ان میں جلد گھل مل جانا میری شروع سے عادت رہی تھی
مگر میں یہ نہ جانتی تھی کہ میری یہی آزاد خیالی ایک دن میرے گلے کا پھندا یوں بنے گی کہ میں نہ جی پاؤں گی اور نہ ہی مر پاؤں گی
زیک ہماری پڑوسی آنٹی کا لڑکا تھا
اور بلا کا خوبصورت تھا،سفید رنگ،تیکھی ناک،چھ فٹ لمبا چوڑی چھاتی اور جم جوائن کرنے کی وجہ سے اسکا جسم فٹنس میں آئے ہوئے ہونے کی وجہ سے اسکے حسن میں اور بھی اضافہ کیئے ہوئے تھا
میں زیک کو دل سے چاہنے لگی تھی
مگر کبھی اس سے کہہ نہ پائی تھی
یہ بات زیک بھی جانتا تھا
کہ میں اس میں انٹرسٹڈ ہوں
مگر نہ کبھی اس بارے میں اس نے بات کی تھی اور نہ ہی کبھی میں نے ہمت کی تھی
زیک سے میری رات گئے تک بات ہوتی تھی ہمارے ٹیکسٹز کا سلسلہ بہت وسیع تھا
مگر ہم بہت اچھے دوست تھے
اک دن نجانے کیوں اور کیا سوجھی مجھے میں نے ایک لمبا چوڑا ٹیکسٹ لکھ کر جس میں بے بہا پیارومحبت کی باتیں تھیں
زیک کو سینڈ کر دیا
زیک کو ٹیکسٹ کرنا تھا
کہ میرا پورا جسم ٹھنڈا پڑ گیا
میرے ہاتھ پاؤں پسینے سے شرابور ہو چکے تھے
یہ سوچ سوچ کر کہ نجانے زیک کیا سوچے گا
ہم دونوں کے بیچ چند منٹ کی خامشی چھائی رہی
کوئی پانچ یا دس منٹ کے بعد میرے سیل فون کی رنگ بجی
میں نے جھٹ سے فون پکڑا سامنے زیک کا نام ایس ایم کی صورت میں جگ مگا رہا تھا
میں اپنے سیل فوں کا پیٹرن بھی لگا رہی تھی اور ساتھ ساتھ دعائیں بھی کر رہی تھی کہ جواب ہاں میں ہی آیا ہوں
خدایا کہیں وہ منع ہی نہ کر دے
کیوں کہ میں زیک پر اس قدر دل و جان دے فریفتہ ہو چکی تھی
کہ اسے بنا رہنا تو دور کی بات میں اس بارے میں گر سوچتی بھی تو میرا بی پی ڈاؤن ہو جاتا تھا
مگر یہ کیا
دوسری طرف زیک کے بھی میرے بارے میں وہی خیالات تھے جو میرے زیک کے بارے میں تھے
وہ بھی مجھے ویسے ہی چاہتا تھا جیسے میں اسے چاہتی تھی
ہماری دوستی نے اک نیا موڑ لے لیا تھا
پیار کی بہار نے ہمارے آنگن میں قدم رکھ دیا تھا
پیار شے ہی ایسی ہے یہ اجڑے،ویران،سنساں دل میں قدم رکھ کے اس میں امیدوں کے پھول یوں کھلاتا ہے کہ دیکھنے سننے والے کو بہت بھلے لگتے ہیں
خیر ہم دونوں کے بیچ یہ باتوں اور پیار کا سلسلہ چلے دو سے تین سال ہونے کو تھے
میرے گھر والے میری شادی کیلیئے لڑکا تلاش رہے تھے
مگر مجھے زیک کے علاوہ کسی دوسرے کا،خیال بھی دل میں لانا کفر مافق لگ رہا تھا
ایک دن بات کرتے کرتے میں نے زیک کو بتلایا کہ میرے گھر والے میری شادی کا سوچ رہے ہیں
تم اپنی ممی بابا جو میرے رشتے واسطے میرے گھر بھیجو
تا کہ یہ پیار کا بندھن ازدواجی زندگی میں تبدیل ہو کر ساری زندگی ایک ساتھ رہ سکے
ہممم اچھا سوچتا ہوں اس بارے
اتنا کہہ کر زیک نے بات کا پہلو بدل ڈالا
مجھے اس وقت تھوڑا عجیب لگا پر یہ سوچ کر کہ کہیں وہ بزی ہو گا میں نے اگنور کر دیا
مگر جب بارہاں کہنے پر بھی سیم ریپلائی ملتا رہا تو میرے دماغ میں یہ خیال آنے لگا کہ کہیں یہ میرے جذبات و احساسات کیساتھ کھیل تو نہیں رہا
مگر میں زیک کے پیار میں اس قدر اندھی ہو چکی تھی کہ یہ بات دل تسلیم کرنے کو راضی ہی نہ تھا
مگر حقیقت تو یہی تھی کہ زیک کو مجھ سے نہیں میرے جسم سے پیار تھا
اسے میرے جسم کی بھوک تھی جسے وہ مٹا کر مجھے چھوڑ دینا چاہتا تھا جسکا اندازہ مجھے تب ہوا جب سب برباد ہو چکا تھا
میرے بار بار اسرار کرنے پر زیک نے چاہے جھوٹ موٹ کی سہی پر ایک دفعہ میرے گھر رشتہ بھیجنے کی حامی بھر لی میں بہت خوش تھی کہ میرا پیار مجھے تا زندگی ملنے والا تھا
مگر قسمت تو مجھے باندھ کر مارنا چاہتی تھی
وہ ہفتے کی رات تھی
مطلب کل اتوار تھا
اور زیک نے مجھ سے اتوار والے دن اپنی ممی بابا کو میرے گھر رشتہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہوا تھا
اس رات کے شاید کوئی دو بج رہے تھے
جب زیک کا مجھے ایس ایم ایس آیا جس میں اس نے مجھے چھت پر آنے کو کہا تھا
ہم پہلے بھی یوں رات گئے چھت پر بیٹھے رات کے پچھلے پہر ڈھیرو ڈھیر باتیں کرتے رہتے تھے
معمول کے مطابق میں چھت پر گئی اور معمول کے مطابق زیک میرا چھت پر بیٹھے انتظار کر رہا تھا
آج اس کی باتوں میں تیزی تھی مجھے عجب بھی لگا پر اسکے پیار کی میرے آنکھوں پر باندھی پٹی اور اسکے دیکھائے ہوئے سبز باغوں میں گم میں اسکے باتیں سنی جا رہی تھی
باتیں کرتے کرتے رات کے چار بج چکے تھے اور پھر کب کیسے اور کیوں وہ سب کچھ ہو گیا جسکا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا
میں روتی چیختی چلاتی کمرے میں دوڑتی چلی آئی اور موبائل سویچ آف کر کے کمرا لاک کر کے دھاڑے مار مار رونے لگ گئ
ہائ خانہ خراب یہ میں نے کیا کر دیا
ہائے کیوں میں اس قدر بہک گئی
میں کنوارہ پن کھو چکی تھی
ڈر کے مارے میرے پاؤں میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے
میری آواز میرا ساتھ چھوڑ چکی تھی
ایک ساتھ نیند کی پانچ چھ گولیاں کھا کر میں بیڈ پر اوندھ منہ گر گئی اگلے دن کی شام کو میری آنکھ کھلی
باہر نکل کر دیکھا تو اندھیرا چھایا تھا
مجھے لگا شاید ابھی میں سوئی ہوں اور ابھی آنکھ کھل گئی
مگرنہیں یہ اتوار کی شام تھی
گھر والے سب حیران و پریشان مجھے دیکھے جا رہے تھے کہ آخر اسے کیا ہوا جو اتنی نیند حاوی کر لی اس نے خود پر
مگر میں سب سے نظریں بچائے بناکسی کو کوئی جواب دیئے کچن کی طرف بڑھی اور فریج سے جوس کا ڈبہ نکال کر جوس گلاس میں انڈیلے گلاس لیئے واپس اپنے کمرے میں چلی گئی
جوس بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر میں نے موبائل کو آن کیا
مجھے لگا تھا زیک کے ایس ایم ایس اور کالز کی لمبی لائن لگی ہو گی جیسے پہلے ہوتا تھا
جب کبھی میرا موبائل آف ہوتا تو زیک مانوں پاگل سا ہو جاتا تھا
مگر ایسا کچھ نہ تھا
زیک کا ایک ایس ایم ایس تک نہ آیا تھا نہ کال نہ واٹس ایپ
میں نے پانچ چھ لمبے لمبے ایس ایم ایس بھی ٹائپ کر کے سینڈ کیئے کہ تم تو آج میرے گھر رشتہ لے کر آنے والے تھے نا پھر آئے کیوں نہیں
مگر آگے سے کوئی ریسپانس نہ آیا
شاید اسکا پیار یہی تک تھا
کالز بھی کی مگر وہ میری کالز کٹ کر دیتا تھا
تھک ہار کر میں نے اسے گالیوں سے بھرے ڈھیر سارے ایس ایم ایس وائس نوٹس سینڈ کر دیئے
کہ شاید غصے میں آکر ہی ریپلائی کر دے مگر جواب نہ آنا تھا اور نہ آیا
میں نے سم بند کر دی اور موبائل کو دیوار پہ مار کر توڑ دیا
مگر جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا نا میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا
بعدازاں مجھے حمل ٹھہرا گیا جس سے چھٹکارا پانے کیلیئے مجھے ابارشن کروانا پڑا
اور ایک ننھی سے جان کو اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی میں نے اسکا گلا گھونٹ دیا
میرے گھر والوں نے میری شادی فکس کر دی
آخر میری شادی ہو کر میں سسرال میں سیٹل ہو گئی اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی نہ کسی چیز کی کوئی کمی تھی نہ فکر بہت ہی کیئرنگ ہیزبنڈ ملے تھے مجھے
بہت خیال رکھتے تھے میرا
مگر جسے قسمت دھتکا دے نا اسے کوئی کیسے اپنے در پہ رکھ سکتا ہے
ایک دن ایک انجان نمبر سے میرے ہیزبینڈ کو کال آئی اور دوسری طرف سے زیک کی آواز تھی
میرے تو پاؤں تلے زمین نکل گئی
میں ٹھنڈی پڑ گئی
زیک نے وہی کیا جسکا ڈر تھا
اس نے کچھ سچ کچھ جھوٹ ملا جلا کر میرے ہزبینڈ کو سب بتا دیا
کال کٹ ہونے کی دیر تھی
انھوں نے مجھے دیکھنا تک نہ گوارا کیا اور طلاق دے کر میکے بھیج دیا
میرے گھر والوں پر تو گویا قیامت ٹوٹ چکی تھی
مگر ماں باپ تو آخر ماں باپ ہوتے ہیں نا
آج مجھے اپنے میکے پہ رہتے ہوئے دس سال ہونے کو ہیں
میرا ایک بچہ بھی ہے جو یہی اپنے نانا نانی کے ہاں پلا بڑا ہے یہی رہتا ہے
میری دنیا تو اجڑ گئی
میں اپنی تمام بہنوں کا یہی پیغام دینا چاہوں گی
پیار کرو مگر حد میں رہ کر
پیار کرنا گناہ نہیں ہے مگر عصمت و عفت کی حفاظت کرنا
نہیں تو میری طرح در در کی ٹھوکریں الگ اور باتیں الگ سننا پڑیں گی شاید
مجھے یہ اسی ننھی جان کی بددعا لگی جسکا گلا میں نے دنیا میں آنے سے پہلے گھونٹ دیا تھا
میں ایک ننھی سے جان کی قاتل ہوں قاتل ہوں میں قاتل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Saqi

Read More Articles by Saleem Saqi: 21 Articles with 11760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2020 Views: 656

Comments

آپ کی رائے
100%AGREED
By: DANISH, JUBAIL on Apr, 19 2020
Reply Reply
0 Like