عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: شعیب بھٹی
ہر سال 8مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن خواتین کی آزادی، تعلیم و تربیت، جنسی و جسمانی تشدد سے آگاہی اور ان کے خلاف قانون سازی پہ زور دیا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اس دن سیمیناز کا انعقاد کرتی ہیں۔خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز در حقیقت عورت کی آزادی کے نام پر اس کا استحصال کررہی ہیں اور انہیں معاشرے میں چلتا پھرتا اشتہار بناکر مغربی ایجنڈے کی تکمیل کرتی ہیں۔ لیکن افسوس عالمی امن کے دعویدار، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنیوالی عالمی تنظیمیں اور این جی اوز مسلم خواتین کے حقوق پر بات کرنے سے قاصر ہیں۔ ان این جی اوز نے کھبی بھی کشمیر،برما،فلسطین،شام،عراق،افغانستان میں مسلم خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ یورپ کے اکثر ممالک میں بھی مسلم خواتین کی مذہبی آزادی پر پابندیاں عا?د ہیں۔ آج کے نام نہاد خواتین مارچ کرنے والے عورت کو فحاشی،عریانی،مادہ پرستی اور خدا بیزاری کا لباس پہنانا چاہتے ہیں۔
عالمی امن کے ٹھیکے دار یو این او امریکی اور اسرائیلی لونڈی بن کر خاموش ہیں۔ بھارت میں مسلم خواتین پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی مظالم سے کشمیر میں 1989 سے اب تک 90522 خواتین بیوہ ہوئیں۔ ایک ہزار سے زائدد خواتین سمیت 1لاکھ افراد کو شہید کیا گیا۔ انڈین آرمی کشمیری خواتین کے خلاف ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ کشمیری خواتین دنیا کی بد ترین بے حرمتی کا شکار ہوئی ایک اندازے کے مطابق 9فیصد خواتین کا جنسی استحصال کیا گیا۔ کشمیر میں گمنام قبریں بھی دریافت ہوئی ہیں جن میں اغواہ کے بعد زیادتی اور تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اور مرد شامل ہیں۔

خواتین کی حقوق کی علمبردار این جی اوز کے منہ پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ برما میں برمی فوج کی طرف سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور 94000 خواتین کی عصمت دری کے بعد ان کو زندہ جلایا گیا۔ مہاجرین کے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل ولیم لیسی سوینگ نے دعوی کیا ہے کہ برمی مسلم خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری میں میانمار کی فوج قصوروار ہے۔

فرانس، ہالینڈ، بیلجیم، سوئٹزر لینڈ، آسڑیا، جرمنی، ڈنمارک، ناورے، اسپین اور روس میں مسلم خواتین کے برقعہ اوڑھنے پر پابندی عاید کرکے مسلم عورتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ان ممالک میں اب تک جس تہذیب و تمدن کو مادہ پرستی اور دین بیزاری کے لباس میں پیش کیا جاتا رہا ہے آج وہ تہذیب دیمک زدہ لکڑی کی تصویر پیش کررہی ہے۔ اسلام کی حقانیت اور مقبولت سے پریشان یہ ممالک اب مسلم خواتین کو بے پردہ کرکے اور ان کے حقوق چھین کر ان اسلامی بہنوں کو پریشان کرنا چاہتے ہیں۔ ڈنمارک میں 28 سالہ خاتون کو برقعہ اوڑھنے پر 1ہزار کروز جرمانہ کیا گیا۔

فرانس میں 2010 میں پردہ کرنے پہ پابندی عاید کی گئی اور 1000 ڈالر جرمانہ رکھا گیا۔ فرانس میں صرف 1900 خواتین برقعہ اوڑھتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک کس حد تک اسلام فوبیا کا شکار ہیں۔

2013 میں پیرس میں ٹراپس کے علاقے میں سندرا بیلن کو برقعہ اڑوھنے پہ 200 ڈالر جرمانہ اور پولیس سے ہاتھا پائی پر ایک ماہ قید کی سزا دی گئی۔ سندرا بیلن نے پولیس سے ہاتھا پائی اس وقت کی جب پولیس نے زبردستی اس کو بے پردہ کیا۔ ہالینڈ میں کل آبادی سترہ ملین ہے اور وہاں مقیم مسلمانوں کی تعداد 1 ملین ہے۔ ہالینڈ میں بھی اتنی بڑی مسلم تعداد کے حقوق کو چھینا گیا۔ برقعہ اوڑھنے پہ پابندی لگائی گئی 150 یورو جرمانے کا قانون بنایا گیا اور اگر کوئی عالم دین پردہ کرنے کی تبلیغ کرے گا تو اسے 30,000 یورو جرمانہ کیا جائے گا۔

ان سب ممالک میں مسلم خواتین سختیاں،تکلیفیں،نظر بندیاں اور جرمانے ادا کرکے بھی پردہ کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو حقیقی آزادی دی۔ خواتین کو تکریم اور عزت سے نوازا۔ پردہ جوکہ عورت کے لیے عزت وقار اور تکریم کی علامت ہے اس کو ان ممالک نے جبر قرار دیا۔ حالانکہ پردہ گندی نظروں،حرس و ہوس زدہ نگاہوں کے حصار سے محفوظ رکھتا ہے۔

ایک عیسائی بلاگ رائٹر ناومی والف اپنے ایک آرٹیکل جس کا عنوان "خواتین،پردہ،جنس" تھا۔میں پردے کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ یہ’’پبلک بمقابلہ پرائیوٹ‘‘ کا معاملہ ہے۔ یہ سب تعصب پسند ممالک اسلاموفوبیا کا شکار ہیں اور اسلام کی مقبولیت سے پریشان ہیں ایک سروے کے مطابق امریکہ میں سالانہ 20,000 افراد دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔

عورت کے حقوق کی علمبردار تنظیموں،این جی اوز کی تعصب بازی ان سب باتوں سے عیاں ہے۔ یہ تنظیمیں اور این جی اوز غیرملکی فنڈنگ پر ان کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کررہی ہیں۔ مساوی طریقے سے عورتوں کے حقوق کی نمائندگی کی جاتی تو آج مسلم عورتوں پر مذہبی پابندیاں ہر گز عاید نا کی جاتیں۔غیر ملکی ایجنڈوں کو پھیلانا اور عورتوں کو معاشرے کی اقدار سے باغی کرنا،مادی پرستی، خدا بیزاری کو پروموٹ کرنا ان تنظیموں اور این جی اوز کے بنیادی مقاصد ہیں۔ جب تک باشعور لوگ موجود ہیں ان ایجنڈوں کی تکیمل میں روکاٹ بنتے رہیں گے۔ اپنی نظریات، تہذیب و تمدن کو نشانہ بننے سے بچاتے رہیں گے اور عورتوں کے حقیقی مسائل کو اجاگر کریں گے خواہ وہ کسی مذہب،معاشرے یا طبقے سے تعلق رکھتی ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517606 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2020 Views: 128

Comments

آپ کی رائے