کرونا وائرس کی تباہ کاریاں

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

 کرونا وائریس نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے اور کرہ ارض پر بسنے والی انسانیت پریشان حال ہے۔اس پر ابھی تک قابو پایا جاسکا اور نہ ہی کوئی موثر علاج تجویز ہوا۔کرونا وائریس ہے کیا؟کرونا (corona) لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا سورج کے گرد بنے ہوئے ہالہ کے ہوتے ہیں۔ اس وائرس کی شکل و صورت اس تاج یا سورج کے ہالہ سے ملتی جلتی ہوتی ہے، اس وجہ سے ہی اس کا نام ''کرونا وائرس'' رکھا گیا ہے۔اس سے نزلہ و زکام کے ساتھ سانس کی نالی میں شدید تکلیف ہوتی ہے جو بالآخر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین طب کے مطابق ہر وائرس کے اسباب میں انسانوں کی فطرت سے بغاوت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔تحقیقات کے مطابق چمٖگاڈر کا سوپ پینے اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنانے سے یہ جان لیوا وائرس پیدا ہواہے۔ کیونکہ چین میں لوگ حلال وحرام سے بے خبر کیڑے مکوڑے بھی کھاجاتے ہیں اس طرح کورونا وائرس نے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوکرتیزی سے پرورش پائی اور اس کی تعداد روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ قوانین فطرت کو توڑنے سے دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔افسوس اس بات پرہے کہ ترقی یافتہ دورمیں چین جیساتیزی سے ترقی کرتاخوش حال ملک بھی اپنے شہریوں کیلئے صاف،شفاف اورصحت بخش غذاء فراہم کرنے یاکم ازکم آگاہی فراہم کرنے سے قاصررہا۔اس کی سب سے بڑی وجہ حقیقی ضابطہ حیات اور الہی تعلیمات سے دوری یا عدم واقفیت ہے ۔ نتیجہ یہ کہ پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لواہا منوانے والا چین ایک وائرس کے ہاتھوں بے بس اور لاچار ہوچکا ہے۔ اکانو می تباہ ہو چکی ہے اور ہر شہری پریشان حال ہے۔اب توطبی ماہرین اور جدید سائنس بھی اس حقیقت کو ماننے پر مجبور ہے کہ جو بھی کام قانون قدرت کے خلاف کیا جاتا ہے اس کے نتائج ہمیشہ انتہائی بھیانک اور دردناک ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو فطرت کو تبدیل کرنے کی باتیں کرتے تھے آج متاثرہ افراد کو انکے عزیز واقارب چھوڑ چکے ہیں۔ان افراد کو مخصوص متاثرہ علاقوں کے اندر قید کردیاجاتاہے جو منٹوں کے اندر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اگر دنیا کے ترقی یافتہ سماج کا جائزہ لیا جائے تو خوفناک صورت دکھائی دیتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دولت کی ریل پیل اور تکنیکی ترقی کے نشے میں بد مست انسان خدائی قانون اور فطری تقاضوں سے ٹکرانے کیلئے تیار کھڑا ہے۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں ہم جنس پرستی کی اجازت،خواتین کی کتوں اور دیگر جانوروں سے شادیاں، غیر فطری طریقوں سے جنسی روابط،مردوں اور عورتوں کے جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات۔کیا یہ قانون قدرت اور مظاہر فطرت کیخلاف جنگ نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا ہم بھول چکے ہیں کہ ایڈز کی ابتدا ء بھی غیر فطری جنسی تعلقات کے نتیجے میں ہوئی تھی۔یہ بات ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ ا س دنیا کے خالق اور مالک نے ہمارے کھانے پینے،رہن سہن اور زندگی کے طوراطوار میں جو حلال وحرام،جائز اور ناجائز پاکی اور ناپاکی حدیں قائم کررکھی ہیں اس کے مطابق زندگی گزارنے میں ہی انسان کی بقاء اور نجات کا سامان ہے۔صدیوں پہلے قرآن مجید میں ارشاد فرما دیا گیا کہ ’’اے لوگو! ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو،بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے(سورۃ البقرہ:168) الحمدﷲ ہم مسلمان ہیں اورکوشش کرتے ہیں کہ کھانے پینے میں حلال وحرام کی تمیزکی جائے یہاں تک کہ کمائی کے حلال یاحرام ہونے میں بھی فرق کرنا بھی ضروریات دین میں سے ہے۔اﷲ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بہت ساری چیزوں کوحرام قراردیاہے، جن میں خنزیر،شراب،چمگادڑ،چوہا،گدھا،گھوڑا،کتا،بلی،کوا،چیل،گِدھ اورکئی دیگرشامل ہیں۔جہاں بطورمسلمان احکام الٰہی کی پیروری کرناہمارافرض ہے، وہاں اس کے ساتھ ساتھ بطورباشعورانسان تحقیق و جستجو کر کے دوسروں کو ان کے فوائد سے آگاہ کرنابھی منصبی فرض ہے۔اب تو چینی صدر شی جن پنگ نے بھی کوروناوائرس کو ’شیطان‘ قرار دیاہے۔ ہم اہل دنیاخاص طورپرترقی یافتہ اقوام کودعوت فکردیناچاہتے ہیں کہ تعصب کی عینک اتار کر قرآن مجیدکی تعلیمات پرغوراورتحقیق کریں۔ ان تعلیمات پر کسی ایک قوم یا ملک کی اجارہ داری نہیں ۔ کیونکہ اﷲ تعالیٰ رب العالمین ہے، رسول اﷲ ﷺ رحمت للعالمین ہیں اورقرآن مجیدکل کائنات کیلئے ضابطہ حیات ہے۔ لہٰذا غیر مسلم بھی دین اسلام کی تعلیمات اور طرز زندگی کے احکامات سے بڑی حد تک مستفید ہوسکتے ہیں۔ اب توامریکہ کے ایک عیسائی پادری نے بھی برملا کہا ہے کہ کرونا وائریس فطرت کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں خدا کا عذاب ہے ۔کرونا وائریس سے بچاؤ کیلئے ہمیں موثر تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فلو، کھانسی اور زکام کی علامات ظاہر ہوں تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بیماری کی صورت میں مساجد سمیت اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔البتہ بے جا خوف اپنے اوپر سوار کر کے ڈیپریشن کا شکار ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارایہ ایمان اورعقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن ہمیں مرناہی ہے اور اﷲ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہو کر جوابدہ ہونا ہے۔اس وقت تک ہمیں موت نہیں آئیگی جب تک کہ موت کا مقررہ وقت نہ آن پہنچے۔ان حقائق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اس کروناوائرس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اﷲ کی طرف رجوع کرناچایئے۔اس وائرس کوجس نے پیداکیاوہی ذات اورطاقت ہی اس وائرس سے ہمیں بچاسکتی ہے۔ہمیں نماز کی پابندی اور اﷲ کے ذکر کی طرف متوجہ ہو کر خوف سے لرزناچاہیئے ۔اور اﷲ کریم کی بارگاہ میں گڑگڑا کر دعائیں کریں کہ اﷲ کریم پوری انسانیت کو کروناسمیت ہرقسم کے خطرناک وائرس اورموذی امراض سے بچائے اور چین سمیت پوری دنیاکے انسانوں اورتمام مخلوقات کو آفتوں، وباؤں سے محفوظ فرمائے آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 126290 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
21 Mar, 2020 Views: 250

Comments

آپ کی رائے