لاک ڈاؤن میں بچوں کی مصروفیات

دنیا بھر میں پھیلے کرونا وائرس اور سماجی دوریوں نے اسکول سے کھیل کے میدانوں تک بچوں کی شرارتیں بھی چھین لی ہیں۔ وہ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں جہاں ان کی شرارتوں کے ساتھ ساتھ مصروفیات بھی محدود ہیں۔
 

بچوں نے خود ہی مصوری کرتے ہوئے گھروں کی دیواروں پر نقش ونگار بنانے شروع کر دیے ہیں۔
 
کرونا وائرس کی وبا نے بچوں کے جھولے بھی ویران کر دیے ہیں۔ بچے گھروں میں قید ہیں جب کہ باغوں کا رخ نہیں کرتے۔
 
اسکول بند ہونے پر نسبتاً بڑے بچوں کو گھروں کے سامنے یا صحن میں بنے پارکوں میں کھیل کھیل میں ریاضی کے سوالوں کی مشقیں کرانا والدین کی ذمہ داری ہے۔
 
عوامی مقامی پر جہاں بچوں کا ہجوم ہوتا تھا اب لاک ڈاؤن میں ویران ہیں۔
 
اٹلی میں کاروں کے درمیان موجود ٹیڈی بیئر بھی شائد اپنے 'مالک' کی واپسی کی راہ دیکھ رہا ہے۔
 
بچے اکثر اپنا وقت گھروں کی کھڑکیوں پر گزارنے پر مجبور ہیں حالانکہ گلیوں اور سڑکوں پر بھی کوئی سرگرمی نہیں ہے۔
 
بچوں کو گھروں سے باہر لے جاتے وقت والدین انتہائی احتیاط اختیار کر رہے ہیں۔ ماسک کے ساتھ ساتھ دستانے بھی استعمال ہیں۔ تاکہ وہ ان کو وبا سے محفوظ رکھ سکیں۔
 
بچوں کو کرونا سے بچنے کے لیے ہر طرح سے تربیت دی جا رہی ہے تاکہ بچے اس سے خود کو محفوظ رکھیں۔ بعض ٹی شرٹس پر بھی کرونا یا کووڈ 19 اور دیگر عبارت لکھی ہوئی ہیں۔
 
بھارت کے شہر ممبئی میں بھی کرونا وائرس سے بچنے کے لیے گود کے بچوں کو بھی ماسک پہنائے جا رہے ہیں۔
 
کینیڈا میں بچوں کی اسکریننگ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
 
چین کے شہر شنگھائی میں بچوں کو انتہائی احتیاطی تدابیر کے ساتھ گھروں سے باہر نکالا جاتا ہے۔

Partner Content: Voa

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: