نقدی

(Zulikha Ghani, Mianwali)

رب کی محبت بیڑا پار کرتی ہے اندر باہر سکون ہی سکون پھیلاتی ہے ۔ پھر کیا تکلیف اور کیا سکون سب کچھ رب سوہنڑے کی عطا محسوس ہوتی ہے ۔ ایک قدم اس ذات کی طرف بڑھا کر تو دیکھیں پھر کیسے ہمیں ہمارا رب انگلی پکڑ کر چلاتا ہے آزمائش شرط ہے ۔ خوشی اور غم زندگی کے سبق ہیں اور زندگی کہانیوں کی کتاب ہے ۔ ایک کتاب میں کئی کہانیاں ہیں اور ہر کہانی الگ داستان سناتی ہے ۔ الگ الگ کہانیاں مگر ایک جلد میں بند ، ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ، مگر ہر کہانی کا الگ رنگ الگ انجام ہمیں حیرت زدہ کرتا ہے ۔ ہم پریوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں جادو نگری کی داستانیں سنتے ہیں اور جھوٹے تخیلات میں بہہ کر انگلیاں دانتوں میں داب لیتے ہیں ۔ کبھی پریوں کے دیس کی سیر کرتے ہیں تو کبھی ڈراؤنے دیو کی ظالم اندھیر نگری میں گھوم کر خوفزدہ ہوتے ہیں ۔ مگر ہماری اپنی زندگی ، جی ہاں ، ہماری یہ جیتی جاگتی زندگی کتنی پراسرار ہے کتنی دلفریب اور ڈراؤنی ہے ۔ ہم نے شاید کبھی گھڑی دو گھڑی رک کر اپنی زندگی کے نشیب و فراز کا سفر کرنے کی زحمت نہیں کی ورنہ ہمیں یہ پریوں اور جادو گروں کی کہانیاں اتنی دلچسپ نہ لگتیں ۔ کبھی بیٹھے بیٹھے اپنے آس پاس کی دنیا سے گم ہو کر کسی اور دنیا میں پہنچنے کا جس نے سفر پل بھر میں طے کیا ہو اسے پراسرار خاموشی اور تنہائی کا احساس ایک الگ ہی روپ دکھاتا ہے ۔ ابھی چند لمحے پہلے یہی زندگی ہمیں بھاگتی دوڑتی لگتی ہے اور چند لمحوں بعد ہمیں زندگی ایک نقطہ میں پھنسی محسوس ہوتی ہے ۔ یوں لگتا ہے یہ وقت ٹھہر گیا ہو اور ایک ایک پل ہمیں صدیاں لگتے ہیں ۔ ذرا ایک لمحے کو سوچیں کہ کتنے ارب لوگ آئے اور گئے دریا ، سمندر اپنا رخ بدل لیتے ہیں آج جہاں بستیاں ہیں کل یہاں سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا اور آج جہاں ہم بیٹھے ہیں کل بھی یہاں سمندر اپنا رخ موڑ سکتا ہے ۔ تو کیسا غرور اور کیا ہماری اوقات ۔ آج ہم ہیں کل نہیں ہوں گے اور پرسوں کسی کو نام بھی یاد نہیں ہو گا کہ ہم بھی کبھی اس جیتی جاگتی دنیا کا حصہ تھے ۔ سب کچھ ختم ہو جائے گا مگر ہماری روح ہمارے آج کے عمل سے شاد ہو گی یا ناراض ہو گی ۔ عبادت کس کی قبول ہے کس کی نہیں یہ تو رب العالمین جانتا ہے مگر ہم نے کس کس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیری کس کس کی راہ سے کانٹا ہٹایا یہ یقین ہے کہ کل یہ روح کو ضرور سرشار کرے گی ۔ بات بڑے یا چھوٹے کام کی نہیں بس کوشش کی ہے جو رفو گری سوئی کرتی ہے وہ کلہاڑی نہیں کر سکتی ۔ تو ہم چھوٹے چھوٹے عمل کرتے ہوئے ان کے چھوٹے ہونے پر اداس نہ ہوں کل یہی چھوٹے عمل ہماری روح کو سکون دیں گے ۔ ہمارے کچھ کرنے سے دنیا بدلے یا نہ بدلے ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہے ورنہ عمر کی نقدی ختم تو ہو جائے گی چاہے ہم سنبھال کر رکھیں یا تجوریوں میں بند کر کے رکھیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulikha Ghani

Read More Articles by Zulikha Ghani: 13 Articles with 6171 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Apr, 2020 Views: 639

Comments

آپ کی رائے