نیوز ایکشن کمیٹی صحافیوں کی دلی ترجمانی

(SYED MEHBOOB AHMED CHISHTY, )

بہادر صحافیوں کو خراج تحسین پیش

ملک کے چوتھے اہم ستون کو معاشی چکی میں پیسنے میں صحافتی ادارے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیںبلاشبہ اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ نیوز ایکشن کمیٹی کے وجود میں آنے سے ہر طرف خواب غفلت میں مبتلا صحافتی شخصیات جاگنا شروع ہوگئی بین الااقوامی شاعروصحافی مصنف، کنونیر نیوزایکشن کمیٹی پاکستان عمیرعلی انجم ان حالات میں اپنی شاعری وپیغامات کے ذریعے آگاہی وشعورکیساتھ حوصلہ افزائی کرنے کے عمل کوسراہتے ہوئے سید محبوب احمد چشتی کا کہنا ہے بلاشبہ عمیرعلی انجم کاکردار انقلابی طرزفکرکی عکاسی کررہاہے نیوز ایکشن کمیٹی پاکستان نے اپنے صحافتی فرائض انجام دینے والے بہادر صحافیوں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا کنونیر نیوزایکشن کمیٹی عمیر علی انجم کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ حکومتی اداروں اورڈاکٹرزکی طرح صحافیوں کوبھی سیلوٹ پیش کیاجائے اس کٹھن وقت میں صحافی قوم کوہرلمحہ خبروں سے آگاہ کررہے ہیں،جب پوری قوم آئسولیشن میں ہے صحافی ہسپتال، سڑکوں اورحکومتی نمائندوں کی ہرلمحہ کی پیش رفت سے قوم کو آگاہ کررہے ہیںخواہش ہے پوری قوم اس وقت صحافیوں کوسلام پیش کرے نیوز ایکشن کمیٹی کے قائم ہونے سے قبل یہ صورتحال پیدا ہوچلی تھی کہ ایک بحران آیا جب میڈیا ہائوسز سے جب جس کو چاہو نکال دو جس کی چاہے تنخواہیں ادا نہ کرو یا کم کردو کا فارمولا اس وقت عروج پر ہے جس سے صحافتی برادری تاحال شدید عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ بڑے میڈیا ہائوسز جن کی آمدنیوں میں روزانہ کروڑوں روپے کا آجانا معمول کی بات ہے اپنے اداروں سے صحافیوں ،فوٹوجرنلسٹ ،ویڈیو جرنلسٹس کو دودھ میں مکھی کی طرح نکال پھینکتے ہیں اور انہیں نکالنے کی معقول وجوہات بتانے سے بھی گریز کیا جاتا ہے کئی میڈیا ہائو سز نے ملازمین نکالنے کے ساتھ جو ملازمین رکھے ہیں ان کی تنخواہیں پچاس فیصد تک کم کر دی ہیں جبکہ ان پر نکالے جانے والے ملازمین کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا ہے شعبئہ صحافت جیسے معتبر پیشے سے وابستہ یہ نکالے گئے یا موجود ملازمین اسوقت حسرت ویاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں جن کے زخموں کو مندمل کرنے کیلئے نیوزایکشن کمیٹی قائم ہوچکی ہیں جو کوشش کر رہی ہیں کہ جبری برطرف ہونے والے جرنلسٹس کے حقوق کی جنگ لڑنے کے ساتھ آئندہ اس قسم کی برطرفیوں کی روک تھام کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں نیوز ایکشن کمیٹی کے قیام سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب جبری برطرفیوں کا عمل کافی حد تک رک گیا ہے البتہ صحافتی تنظیمیں میڈیا ہا ئوسز میں ایک ملازم سے کئی کئی ملازمین کے کام لینے کے عمل کو رکوانے میں ناکام ہیں ملک میں ایسے میڈیا ہا ئو سز بھی موجود ہیں جو اپنے خلاف حق کی آواز اٹھانے والوں کو بدترین انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں ایک میڈیا ہائوس کے ملازمین نے اپنے حق کیلئے آواز اٹھائی تو انہیں انسان سوز طریقے سے کام میں مشغول رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ازخود نوکریاں چھوڑ گئے یا اپنے گھر کو چلانے کیلئے ہر دکھ جھیلنے کی عادت کو اپنا چکے ہیں جرنلسٹس تنظیموں کے ساتھ اب نیوز ایکشن کمیٹی کی مزید فعالیت کے بعد ہی ممکن ہے کہ میڈیا ہائوسز کی سمت درست ہوسکے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ تنظیمیں یا ایکشن کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں وہ جھکنے ،بکنے کے بجائے اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔نیوز ایکشن کمیٹی کے قیام کامقصد درد دل رکھنے والے نوجوان شہرت یافتہ شاعرصحافی کنونیرعمیرعلی انجم کایہی ہے کہ وہ جبری برطرفیوں سمیت صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں اپناکردار اداکرسکیں اور نیوز ایکشن کمیٹی صحافیوں کے حقوق کیلیئے ہرسطع پراپنی آواز بلند کرتے ہوئے عملی جدوجہدکاآغازکرچکی ہے نیوز ایکشن کمیٹی صحافیوں کی دلی ترجمانی انکے مسائل کے حل کاعزم لیکرنکلی ہے انشا اللہ کامیابی مقدر ضرور بنی گی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SYED MEHBOOB AHMED CHISHTY

Read More Articles by SYED MEHBOOB AHMED CHISHTY: 32 Articles with 11357 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Apr, 2020 Views: 336

Comments

آپ کی رائے