لگتا ہے اس دیس میں عدالت نہیں ہوتی

(Rauf Saeed, Lahore)
لگتا ہے اس دیس میں عدالت نہیں ہوتی

کراچی میں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی ایک لڑکی کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے ہاتھوں جو اسکے روبرو بیان قلمبند کروانے کے لیے آئی تھی اسی کے چیمبر میں زیادتی کا نشانہ بننے پر ریاست کا ڈھیلا ڈھالا ردعمل اس کے یکسر مردہ ہونے پر دلالت کرتا ہے-

منصب انصاف پر بیٹھے ایک درندہ صفت شحص کے ہاتھوں انصاف کی طالب قوم کی اس بیٹی کی اسطرح سے عزت کی پامالی حوف ناک حد تک تشویش ناک بات تو ہے ہی لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ ریاست کی بد ترین بےحسی کا مظہر بھی ھے، جو اس کے وجود کے جواز پر ایک بہت بڑے سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتا ہے

ریاست کا ردعمل اتنا ہی خوفناک ہونا چاہیے تھا جس قدر یہ خوفناک حرکت ریاستی منصب پر بیٹھے ایک شخص کے ہاتھوں سرزد ہوئی تھی تو پھر تو ریاست کے زندہ ہونے اور اس کے وجود کا جواز با جواز قرار بھی پاجاتا لیکن انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا معطلی انکوائری اسطرح کے معاملات بس انہی دائروں میں گھومتے گھومتے وقت گزاری کے حربوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور انصاف کا طالب مظلوم شحص تا عمر اپنے دامن کے زخموں سے تڑپتا سسکتا آسودہ خاک اور ظالم آسودہ منزل ہو جاتا ہے

جس ریاستی نظام میں بااثر ظالم افراد کی بازپرس مواخذے اور اسکو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کٹہروں کے دروازے بند و مقفل صورت میں ہر روز انصاف کے جنازے نکال رہے ہوں اور دوسری طرف عام و غریب افراد کے لئے کٹہرے بے رحم و سفاک ہوں تو پھر ایسے ریاستی نظام سے معاشرتی امن سماجی سکون اور معاشی آسودگی کی کونپلیں پھوٹنے کی توقع اور امید رکھنا خام خیالی و حود فریبی ہی قرار پائے گی کیونکہ نظام زندگی تو تمام تر رنگوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے جس کے بغیر ریاست تا دیر اپنا وجود برقرار رکھنے سے قاصر ہو جاتی ہے نظام زندگی جب تک اپنے تمام تر رنگوں کے ساتھ متوازن سطح پر نہ ہو گی ریاست تا دیر اپنا وجود برقرار رکھنے سے بھی قاصر ہو گی قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے اور کف افسوس ملنے کی نوبت آجائے ہمیں معاشرے کے کچلے جذبات اور رستے زخموں کو مندمل کرنے کے نظام کا قبلہ درست کرنے کے لیے فوری و سنجیدہ توجہ دینا ہوگی.

. (نوٹ: زیر تبصرہ خبر اور اسکی تفصیل 15 جنوری 2020 کے روز نامہ جنگ کے اخبار میں ملاحظہ کی جاسکتی ھے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rauf Saeed

Read More Articles by Rauf Saeed: 4 Articles with 1979 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Apr, 2020 Views: 592

Comments

آپ کی رائے