کرونا وائرس اور مساجد کی تالہ بندی پر علماء کی حمایت ، ایک لمحہ فکریہ !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)

کرونا وائرس اب ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جس کے حوالے سے ہر جگہ باتیں کی جارہی ہیں اور کیوں نہ کی جائیں جب اچانک وارد ہونے والی اس بیماری یا وبا کو ایک ہلاکت خیزبیماری اورخطرناک عالمی مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے گا تو پھرلوگوں کا خوف زدہ ہونافطری امر ہے ۔کروناوائرس کے حوالے سے لکھنے اورکہنے کو بہت کچھ ہے اور اس پر بحث یا تحقیق کرنے کے اتنے پہلو ہیں کہ کسی ایک کالم میں اس کا احاطہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔

اسی لیے راقم الحروف نے اپنا گزشتہ کالم ’’ کرونا وائرس آخر ہے کیا؟‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھاجس میں اس وائرس کے بارے میں مقامی اور عالمی میڈیا کے غیرمعمولی پروپیگنڈے سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے بہت سے سوالات اور شکوک وشبہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی ۔
آج میرے کالم کا موضوع کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے بچاؤ کے حوالے سے ہماری صوبائی حکومتوں کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کے تناظر میں ہمارے اکثر بڑے اور جید علماء کرام کا نہایت غیرمتوقع اور حیرت انگیز رویہ ہے جس کی وجہ سے ہر سچے مسلمان کو نہایت دکھ اورتکلیف پہنچی کہ اس منحوس کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی کے انتہائی مبالغہ آمیز پروپیگنڈے سے متا ثر ہوکر دنیا دار اور حکومت سے وابستہ وزرا ء اور اہل کاروں کااپنے مفادات کے تحفظ یا کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر مبینہ لاکھوں امریکی ڈالروں کی شکل میں ملنے والی امداد کو ہمیشہ کی طرح اپنے عیش وعشرت کے لیے استعمال کرنے جیسی بدنیتی کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی خواہش کے عین مطابق پاکستان جیسے گرم ملک میں وہ تمام قوانین رائج کرنے کی کوشش کرنا جو کہ سرد ممالک میں اس وائرس کی وجہ سے آج کل کچھ کفریہ عالمی قوتوں کی ایماء پر رائج کیے گئے ہیں،پر ہماری صوبائی حکومتوں کا ضرورت سے زیادہ تابعداری کا ثبوت دینا تو سمجھ میں آتاہے کہ آ ج کے دور میں حکومت میں شامل ہونے والے لوگ عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر نہیں آتے بلکہ ان کے پیش نظر جو خرچہ انہوں نے انتخابات میں حصہ لے کر ایوان اقتدار تک پہنچنے کے لیے جائز و ناجائز ذرائع سے کیا ہوتا ہے اس کی سود سمیت واپسی ہوتی ہے اوراپنے اس مقصد کے لیے وہ ہر حد تک جانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔ماضی اور حال کے اکثر حکومتی وزراء کے دن بدن بڑھتے ہوئے اثاثے اور ان کا لائف اسٹائل ہی یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ان کے نزدیک اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی ۔

لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ ہر اسلامی ملک کے معاشرے کا سب سے زیادہ قابل احترام سمجھا جانے والا طبقہ جسے ہم اور آپ علماء کرام کے نام سے جانتے ہیں اور جن کا عمل دخل ہماری زندگی میں پیدا ہونے سے لے کر مرجانے تک ہر اہم موقع پر لازمی سمجھا جاتا ہے جن کے بغیر نکاح اور طلاق کے معاملات بھی ادھورے سمجھے جاتے ہیں اور جن کی ایک آواز پر ماضی میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں ان کے ہم نوا بن جایا کرتے تھے آج ان ہی علماء کی جانب سے مسلمانوں کی عبادت گاہوں یعنی خانہ ء کعبہ اور مسجد نبوی سمیت تمام مساجد کی حکومتی تالہ بندی کی حمایت کی جارہی ہے اور اس حمایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مختلف ہیلے بہانے اورشرعی عذر پیش کیے جارہے ہیں جو کہ ایک عام مسلمان کے لیئے انتہائی غیر متوقع اور حیرت انگیز بات ہے اور یہی وجہ ہے کہ علمائے وقت کے اس نامناسب طرز عمل اور حکومت کی بے جا حمایت پر اکثر مسلمان اپنے گھروں ،دوستوں کی محفلوں، ویب سائیٹس ،اخباری کالموں اور سوشل میڈیا پر کھلے عام تنقیدکا اظہار کرتے ہوئے اپنی قوت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب ایک عام مسلمان کے دل و دماغ میں اﷲ کے گھرخانہ کعبہ ،مسجد نبوی ﷺ اورعام مساجد میں نمازیں اور دیگر عبادات کے حوالے سے اتنا احترام موجود ہے کہ ان عبادت کی ادائیگی کے دوران کسی بھی قسم کا جان لیوا خطرہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور وہ بے خوف وخطر اپنی عبادات جاری رکھناچاہتے ہیں توپھر وہ اس حوالے سے عالمی طاقتوں اورناروا حکومتی احکامات کی پابندی کیوں کریں؟ کہ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے پیغمبروں ،خلفائے راشدین اور صحابہ کرام سمیت ہمارے بزرگان دین نے بھی ہر طرح کے حالات کے باوجود ہمیشہ باجماعت نماز کا اہتمام کیا اور مساجد کے دروازوں کی تالہ بندی کو کبھی برداشت نہیں کیا اور ایسی ہر کوشش کی ہر ممکن مخالفت کرنے کو اپنا شعار بنائے رکھا بلکہ کافروں سے جہاد کے دوران بھی نماز کی باجماعت ادائیگی کی جاتی رہی ۔لیکن بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ آج کل کے بڑے بڑے علمائے کرام نہ جانے کن مجبوریوں اور مصلحتوں کے تحت اس کرونا وائرس کی وبا ء کے حوالے سے مغربی دنیا کے کیے گئے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکرحکومت وقت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ حکومتی احکامات کی تابعداری میں اتنا آگے جاچکے ہیں کہ اپنے دارالعلوم اور اپنے زیر اہتمام یا زیر اثر چلنے والے مدارس اور مساجد کے دروازوں کو نمازیوں کے لیے بند کرکے ان دروازوں کے باہر حکومت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے علاوہ کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کے اہم ترین اور جید علمائے کرام کے دستخطوں سے جاری کردہ وضاحتی بیان کا بڑا ساپوسٹر بھی چسپاں کیا گیا ہے۔جس ادارے کے حوالے سے یہ بات کی جارہی ہے اور ہر لحاظ سے دیگر مذہبی مدرسوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور جن علماء کرام نے یہ وضاحتی بیان جاری کیا ہے وہ نہ صرف میرے لیے بلکہ پاکستانی عوام کی اکثریت کے لیے نہایت قابل احترام اور قابل تقلید ہیں لیکن جب کفریہ عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی سازش رچا کر کوئی ڈرامہ اسٹیج کرکے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی بندش کی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو ہر مسلمان کا خون کھول اٹھتا ہے اورایسے نازک مواقع پر ایک عام آدمی سب سے پہلے اپنے علماء کرام کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف رچائی گئی کافروں کی سازش کو سمجھتے ہوئے اس کو اپنی قوت ایمانی بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور جواب دیں گے اور اگر حکومت مساجد کی تالہ بندی کا حکم دے تو اس کی کھل کر مخالفت کریں گے لیکن جب، ان دیکھی وجوہات کی بناء پر ایسا نہیں ہوتا تو پھر لوگ مایوس ہوکر تنقید کا راستہ اپناتے ہیں کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اﷲ اور رسول کے خلاف کوئی بات یا مساجد کی بندش کو براشت نہیں کرتا کہ مساجد ہی تو وہ دروازے ہیں جن کے کھلے رہنے سے علم کی روشنی دنیا بھر میں پھیلتی ہے جس کی رفتار اور معیار دیکھ کر مغربی دنیا حیران اورپریشان ہے اور بہت عرصہ سے اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہوں پر کنٹرول کرکے مسلمانوں کی قوت ایمانی کوکمزور کیا جاسکے لیکن اپنی ان مضموم کوششوں میں جب اسے کسی اور طرح کامیابی نہ مل سکی تو اس نے اپنے عیارانہ ذہن کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’ نائن الیون‘‘ کی طرح کا ایک اور ٹوپی ڈرامہ رچانے کا منصوبہ بنایااورکیمائی ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے دنیا میں ایک انسان کا بنایا ہوا ’’ کورونا وائرس‘‘ جان بوجھ کر چھوڑا گیا تاکہ اس کی تباہ کاری اور ہلاکت خیزی کا عالمی سطح پر بے تحاشہ پروپیگنڈہ کرکے لوگوں کو خوف زدہ کرکے ان کے گھروں تک محدود کردیا جائے اور یوں مسلمان اپنی عبادت گاہوں میں جاتے ہوئے بھی گھبرانے لگے اور آخر کار اس بار کورونا وائرس کے نام پر وہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ سمیت تقریباًً تمام ممالک میں مساجد کی تالہ بندی کروانے میں کامیاب ہوچکا ہے جس میں اس کا ساتھ اسلامی ممالک کی حکومتوں نے مختلف مفادات کی وجہ سے دیا لیکن یہ بات لوگوں کو ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی کی ہمارے جید علمائے کرام نے مساجد کی بندش پر کوئی احتجاج کرنے کی بجائے حکومت وقت کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کو کیوں ترجیح دی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کروڑوں مسلمانوں کے دل و دماغ میں موجود ہے اور اب تو لبوں پر بھی آچکاہے ۔دیکھتے ہیں کہ ایک عام مسلمان کو مساجد کی بندش کے حوالے سے علماء کی حمایت کے اصل محرکات سے کون اورکب آگاہ کرتا ہے ؟

موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک عام آدمی کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہیئے کہ علماء کرام نے حکومت وقت کے احکامات کی مکمل اور بے چوں و چرا حمایت کے لیے کیا موقف اختیار کیا ہے لہذا میں کراچی کی اس اہم ترین اسلامی درس گاہ اور سب سے بڑے دارالعلوم کے مہتمم ،صدر اور مفتی صاحب کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان کے الفاظ ذیل میں لفظ بہ لفظ نقل کررہا ہوں۔

مذکورہ مسجد اوردارالعلوم کے بند دروازوں کے باہر چسپاں وضاحتی بیان( جوکہ جامع دارالعلوم کراچی کے لیٹر ہیڈ پر تحریر کرکے جاری کیا گیا ہے ) میں بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم کے بعد لکھا ہوا ہے کہ :’’ اما بعد!
۱۔ کرونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے محدود افراد سے زیادہ لوگوں کو جمعہ میں شرکت سے منع کیا ہے۔لوگ اس کی پابندی کریں۔
2۔جو حضرات اس پابندی کی وجہ سے جمعہ میں شریک نہیں ہوں گے وہ شرعاًً معذور ہیں۔ایسے لوگ اپنی اپنی جگہوں پر نماز ظہرحتی الامکان جماعت کے ساتھ ورنہ انفرادی طور پر ادا کریں۔
3۔جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں میں بھی ان ہی احکام پر عمل کیا جائے ۔
4۔جہاں بھی نماز ادا کی جائے اس کے بعد توبہ واستغفاراور وبا دور ہونے کے لیے دعا کا اہتمام کیا جائے۔
مذکورہ بالا وضاحتی بیان درحقیقت علماء کرام کی جانب سے سندھ حکومت کے کروناوائرس کے حوالے سے کیے گئے اقدامات اوراحکامات کی واضح حمایت ہے۔ جبکہ کراچی میں بعض مدارس اور مساجد ایسی بھی ہیں جن میں باجماعت نماز کا ایک دن کے لیے بھی ناغہ نہیں ہوا اور ان مساجد میں پورے اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی بھی بدستور جاری ہے اور اﷲ کا کرم ہے کہ میری رہائش جس علاقے میں ہے وہاں کے مسجد کے امام اور انتظامیہ حکومتی ہتھکنڈوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کی بجائے حکمت عملی کے ساتھ نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ان کے اﷲ پر بھروسے اور قوت ایمانی کے مظبوط ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔جبکہ تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ بعض مساجد کے داخلی دروازوں پر حکومت کی جانب سے باقاعدہ تالہ لگادیا گیا ہے اور کئی مساجد کے اماموں کو بھی پولیس پکڑ کے لے گئی ہے جس کی بناء پر بعض مساجد کی انتظامیہ نے اپنی مسجد کے دروازوں کو خود ہی اندر سے بند کررکھا ہے لیکن ہمارے مذہبی رہنماؤں اور مساجد کی انتظامیہ کو حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف واضح طور پر اٹھ کر کھڑا ہونا چاہیے تھا تاکہ مسلمان اپنی عبادت گاہوں کو آباد رکھ سکیں کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ویران کرنا کافروں کی دیرینہ خواہش ہے جس کے راستے میں ہر سچے مسلمان کو ڈٹ جانا چاہیئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک عام آدمی کے ذہن میں کرونا وائرس کے حقیقی یا غیر حقیقی ہونے کے حوالے سے شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں تو کیا علمائے کرام نے حکومت سندھ کی بات کو اور کرونا وائس کے بارے میں بین الاقوامی پروپیگنڈے کو سو فیصد درست سمجھتے ہوئے اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے ؟ یا پھر اصل وجوہات کچھ اور ہیں جو مختلف مجبوریوں اور مصلحتو ں کی وجہ سے فی الوقت بیان نہیں کی جاسکتیں یا حکومتی موقف کی مخالفت کی صورت میں علمائے کرام یا ان کے قائم کردہ اداروں کے خلاف کسی قسم کی حکومتی کارروائی کا خدشہ تھا جس بنا ء پر مساجد کی بند ش کے حکم کو بے چوں و چرا مان لیا گیا۔

آج کل ہردوسرے مسلمان کے ذہن یا لبوں پر یہ سوال مچل رہا ہے کہ کیا کرونا وائرس کاجان لیوا خطرہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ہی ہے یا کرونا وائرس صرف ان ہی لوگوں پر حملہ کرتاہے جو مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اوراپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی کے لیے جاتے ہیں؟

مذکورہ دینی درس گاہ میں نماز جمعہ کے حوالے سے کراچی کے ایک مقامی روزنامے نے اپنے رنگین صفحہ پر شہ سرخیوں کے ساتھ اپنے اخباری نمائندوں کی تحریر کردہ جو رپورٹ نمایاں انداز میں شائع کی اس کا ذکر بھی ذیل کی سطور میں کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو مکمل صورتحال کا علم ہوسکے۔
کیا کوئی مسلمان سوچ سکتاتھا کہ خانہ کعبہ میں ہونے والی نمازیں اورطواف بند ہوجائے گا ؟کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ مسجد نبوی ﷺ اور روضہ ء رسول پر مسلمانوں کی حاضری اور نمازوں کی ادائیگی پر پابندی لگ جائے گی اور کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں مسجدوں کے دروازوں پر تالے لگائے جائیں گے اور نماز جمعہ کی مسجدوں میں ادائیگی بھی ایک جرم بنادی جائے گی ؟ اور کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے سب سے بڑے دارالعلوم اور مدرسے کے احاطے کے اندر قائم ایک بڑی اور عالیشان مسجد میں ہر جمعہ کو امامت کرنے والے مفتیان کرام جن کی رہائش گاہیں اور دفاتر بھی اسی دارالعلوم کے احاطے میں واقع ہیں وہ نماز جمعہ کے لیئے اپنے ہی دارالعلوم کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے نہیں جائیں گے یا نہیں جاسکیں گے اور اپنے اپنے گھر یا دفتر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کریں گے اور ان کی ہی قائم کردہ مسجد میں کوئی دوسر ا شخص امامت کروائے گا جس میں بہت ہی کم تعداد میں لوگ شریک ہوں کر اپنی قوت ایمانی کا ثبو ت دیں گے( واضح رہے کہ اس دارالعلوم اور نماز جمعہ کے حوالے سے یہ سب باتیں چند روز قبل کراچی کے ایک کافی پرانے اور معروف روزنامہ کے رنگین صفحہ پر ہیڈلائن کے ساتھ شائع کی گئی ہیں) لیکن آج یہ سب کچھ ہورہا ہے اور سب مسلمان اپنی آنکھو ں سے دیکھ رہے ہیں اور یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ آج کا مسلمان اﷲ پر بھروسہ کرنے کی بجائے مختلف طاقتوں کے اشارے پر ناچ رہا ہے ،کوئی اپنی کمزوریوں اور بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے ایسا کررہا ہے ،کسی کے اندر ایمان کی طاقت کمزور ہوچکی ہے اور کسی کو اس کی ایمانی طاقت کے باجود ایسا کرنے پر زبردستی مجبور کیا جارہاہے۔

کیا بے شمار میڈیا چینلز پر ہر وقت موجود سیکڑوں لوگوں کو کرونا وائرس کچھ نہیں کہتا ؟کیا درجنوں اخبارات کے اسٹاف پر کرونہ وائرس حملہ آور نہیں ہوتا ؟ کیا سودی اور اسلامی بینکوں کا اسٹاف جو کہ سیکڑوں افراد پر مشتمل ہے اس کا ان بینکوں سے کوئی معاہدہ ہوا ہے کہ وہ ا ن کے اسٹاف میں شامل کسی فرد پر حملہ آور نہیں ہوگا ؟ ویسے کرونا وائرس کئی لحاظ سے بڑا حیرت انگیز ہے یہ نہ تو دکانوں اور بڑے سپر اسٹورز کے باہر لگی ہوئی لمبی لائنوں میں کھڑے ہوئے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے اورنہ ہی یہ مختلف فلاحی اداروں کی جانب سے لگائے گئے ان مراکز پر حملہ آور ہوتا ہے جو ان اداروں کی جانب سے غربا اور مساکین میں راشن یا کھانا تقسیم کرنے کے لیئے لگائے گئے ہیں اور جہاں عام غریب اور ضرورت مند لوگ لائنوں میں لگ کر راشن اوردو وقت کا کھانالے کر گھر جارہے ہیں۔گوکہ ان فلاحی اداروں کی جانب سے روز کے روز کما کر کھانے والے جن کا کام دھندا آج کل بند پڑا ہوا ہے ان کی بہت بڑی خدمت کررہے ہیں جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن ان مقامات پر بھی کرونا وائرس کے حوالے سے پھیلائے گئے حکومتی خوف وہراس کی وجہ سے ضروری احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہیئں۔

کرونا وائرس کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کی جو مبالغہ آمیز خبریں میڈیا چینلز اور اخبارات کی زینت بن رہی ہیں ان سے عوام کے ذہنوں میں بے چینی ،غیر یقینی اور خوف پھیل رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اس وائرس کے حوالے سے جو تبصرے ،تجزیے اور تجربے بیان کیے جارہے ہیں اور اس وائرس کے حقیقی یا غیر حقیقی ہونے کے حوالے سے جو تحریریں اور ویڈیو کلپس وائرل کیے جارہے ہیں وہ بھی انسانی ذہن کو منتشر کرنے کے ساتھ شکوک وشبہات پیدا کررہے ہیں جن سے ہمارا معاشرہ بری طرح متاثر ہورہاہے ۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کروڑوں لوگوں کو گھروں میں قید کردیا گیا ہے وہ تو بھلا ہو ہمارے وزیراعظم عمران خان کا کہ انہوں نے تمام تر ملکی اور غٰرملکی دباؤ کے باوجود مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے واضح طور پر نہ صرف انکار کردیا بلکہ قوت ایمانی اور عوامی ہمدردی کے دلی جذبات اور غریب لوگوں کی فکر کی وجہ سے وہ اپنے اس موقف پر اب تک سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں ورنہ اگر پاکستان کو مکمل لاک ڈاؤن کردیا جاتا تو لوگ اس کرونا وائرس سے مرتے نہ مرتے لیکن بھوک ،افلاس اور فاقوں سے ضرور مر جاتے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ عمران خان اپنی وزارت عظمیٰ کو داؤ پر لگاتے ہوئے تمام تر پریشر کو بہادری سے برداشت کررہے ہیں اور اب تک کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں صبح سے لے کر شام تک اشیائے ضرورت کی گلی محلوں میں قائم راشن کی دکانوں ،میڈیکل اسٹورز اور سبزی وگوشت کی دکانیں کھلی رہتی ہیں جن کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں رہ کر کم سے کم بھوک سے یا دوا نہ ملنے کی وجہ سے تو نہیں مر رہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ اور بظاہر بہت آزاد خیال اور ماڈرن دکھنے والے عمران خان کو غریب لوگوں کا بھی احساس ہے اور وہ قوت ایمانی میں بھی کئی مشہور علماء سے زیادہ مظبوط ہے ۔رویوں اور سوچ کا یہ تضاد اس بات کوثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ کون کتنا سچا مسلمان ہے اور کس کا اﷲ پر کتنا بھروسہ یا ایمان ہے اس کا اندازہ اس کی ظاہری حالت سے نہیں کرنا چاہیئے کہ اﷲ تعالی بھی دکھاوے کو پسند نہیں کرتا اور وہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے کہ کس کے دل و دماغ میں کس چیز کی زیادہ اہمیت ہے کہ کچھ لوگوں کے نزدیک اپنے ذاتی مفادات اور تحفظ سے بڑھ کر کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی اور جب بھی انہیں حکومت کی جانب سے سخت رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا تو وہ خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ہیں یا پھر حکومت کے ساتھ مل جاتے ہیں تاکہ ان کے مفادت اور تحفظات کو کوئی زد نہ پہنچے اور وہ جس شاہانہ طریقے سے بھرپور عیش وعشرت کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں وہ اسی طرح چلتی رہے جبکہ کچھ لوگ سچ اور حق کا ساتھ دینے کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے ۔کبھی کوئی سقراط زہر کا پیالہ پی لیتا ہے اورکبھی کوئی بھٹو پھانسی کے پھندے پر جھول جاتا ہے ۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ لوگوں کے دلوں اور تاریخ کے صفحات میں وہ ہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو اصولوں کی خاطر جیتے اور مرتے ہیں اور جو سچائی کا راستہ کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑتے ۔

اﷲ تعالی ٰ ہم سب کی قوت ایمانی میں اضافہ فرماتے ہوئے ہمیں ہدایت کے ساتھ اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے اندر موجود ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے ہر طرح کے مفادات کو لات مارتے ہوئے باطل قوتوں کے ساتھ کھل کر جہاد کریں اور یہ جہاد صرف جنگی میدان میں دوبدو لڑکر ہی نہیں کیا جاتا بلکہ یہ جہاد ہم اپنی سوچ، اپنے رویے، اپنے عمل، اپنے کردار کے علاوہ اپنی زبان اور اپنے قلم سے بھی کرسکتے ہیں جو الحمدالﷲ بہت سے لوگ سوشل میڈیا ،اخبارات اور ویب سائیٹس کے ذریعے کربھی رہے ہیں اور اﷲ کا شکرہے کہ میرا شمار بھی قلم قبیلے کے ان لوگوں میں ہوتا ہے غلط بات کی حمایت کسی بھی صورت میں نہیں کرتے خواہ ان کو اپنے سچائی پر مبنی موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے ۔اﷲ تعالیٰ ہمارے وزیر اعظم عمران خان سمیت سچائی کے راستے پر استقامت کے ساتھ ڈٹے رہنے والے ہر فرد کی جان و مال اور عزت ،آبرو اورایمان کی حفاظت فرمائے (آمین)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 72043 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
16 Apr, 2020 Views: 355

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ