Social distancing معاشرتی فاصلہ

(Syed Haseen Abbas Madani, )

.ارباب اقتدار سے دست بستہ عرض ہے ۔ کھول آنکھ فلک دیکھ فضا دیکھ۔ ایلئومیناٹی نے ایک سازش کے تحت۔ پوری دنیا کے میڈیا کو خاموش کرا دیا اور اپنی مرضی کا پروپگنڈا کیا۔ حد یہ کی کہ سوشل میڈیا کو بھی اس طرح گھیرا کہ جو لوگ ان کے خلاف ویڈیو بنا کر ان کی سازش کو بےنقاب کر نا چاہ رہے۔ تھے یو ٹیوب نےغیر قانونی طور پر آزادئ اظہار کے خلاف اپ لوڈ کی ہوئی ویڈیو ہٹا دیں شائد ا لیو مناٹی نے سوشل میڈیا کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اور پروپگنڈا خوفپھیلا نے کے لئے کیا جا رہا تھا۔ اور جھوٹی خبروں نے خوف میں اضافہ کیا۔ اکثر لوگ ڈپریشن اور خوف سے مر گئے۔ ورنہ کئی دوایئں بہت اچّھا کام کر رہی تھیں۔ مگر زور یہ تھا کے معاشرتی فاصلہ رکھا جائے۔ اس پر بھی کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔اور اس طریقے سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا۔ ہمارے نام نہاد دانشور الیو مناٹی نکتہ نظر کو پھیلاتے رہے۔ ابھی آپ دیکھئے کہ ائی ایم ایف نے ریلیف فنڈ میں پاکستان کو محروم کیا۔ آخر کیوں؟ بھئی یہ معمولی بات سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی ۔ کہ اس بارات کا دولہا تو پاکستان ہی ہے۔ بنیادی مقصد پاکستان کو تباہ کرنا ہے۔ اور ہمارے ارباب اقتدار کے بس میں سارا بیا نیہ وہی الیو مناٹی کا رہا ہے اپنے طور پر ہم کسی بھی تحقیق کے قابل نہیں ہیں۔ مغرب میں ایسے افراد بھی ہیں۔ ان کے خلاف دنیا کو دلیل اور ثبوت کیساتھ آگاہ کر رہے ہیں۔ مگر ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

الیو مناٹی نے اقتصادی طور پر بہت نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔

اس سازش کے پیچھے لوگوں کو اپنے سامنے جھکانا آسان ہو جائے گا۔ اس طرح بہت سے دوسرے مقاصد کاحصول بھی آسان ہو جائے گا۔ آپ نے سنا ہو گا کہ 5G کا ایجنڈا بھی آسانی سے پورا کیا جا سکے گا۔ بنیادی مقصد دنیا کی ایک حکومت قائم کرنا اور ون ورلڈ آرڈر سے کنٹرول کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

وہ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ یہ تجربہ بہت اچھا رہا خصوصی طور پر مذہب کی بنیادوں کو بھی ہلا دیا ہے۔ ہم مسلمان اس قابل ہی نہیں ہیں کہ یہ جان سکیں کے کیا واقعی سماجی فاصلہ کی ضرورت ہے۔یہاں تو بڑے بڑے دانشور انہیں کے نظریہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہمارے میڈیا کا کام یہ تھا کہ وہ ساری دنیا سے ہمارے بھلے کی خبریں ڈھونڈ کر لاتے۔ مگر انہوں نے مال کھایا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے خاموش ہیں ۔ کسی نے ان اعدادِ شمار کی بات کی کہ فی الحقیْت کرونا سے کتنے لوگ مرے؟ خبروں کا جھوٹ یہ ہے کہ لوگ کسی بھی مرض میں مرے ہوں انکو حکم ہے کے ان اموات کو کرونا میں لکھیں۔ خوف اور دہشت پھیلانے کے لئے یہ ترکیب بھی کی گئی ہے۔ امریکہ میں جس قدر اموات کا بتایا جا رہا ہے اسمیں سچ کتنا ہے۔ ہمارے وسائل ایسے نہیں ہیں مگر ہماری حکومت نے اسمیں کیا کیا؟ یہ انہیں کے موقف کو پھیلانے میں لگ گئے۔ معاشرتی فاصلہ اہم بتا کر مساجد کو بند کرا دیا۔

حیرت یہ ہے کہ مسلمان کو یہ نہیں معلوم کہ آب زم زم میں کوئی بکٹیریا اور وائرس زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ صرف عقیدہ نہیں ہے اسپر سائنسی تحقیق ہو چکی ہے۔

میرے والد مرحوم بتاتے تھے کہ طاعون کی وبا کے دوران عالم یہ تھا کہ وہ ایک جنازہ لے جاتے تھے اور وبا سے لوگ کھڑے کھڑے گر جاتے تھے۔ جنازہ دفن کرکے واپسی میں گر کر مرنے والوں کی لاشوں کو گہوارے میں لاتے اور غسل دے کر کفن دیتے اور پھر جنازہ قبرستان لے جاتے۔وہاں کوئی معاشرتی فاصلہ نہیں ہو تا تھا۔ اور یہ وبا کافی دنوں چلتی رہی مگرپورا ہندوستان تو ختم نہیں ہو گیا تھا۔ میرے والد مرحوم ۱۹۹۳ میں ۹۳ برس کی عمر میں پوری طرح صیحتیاب تھے۔ صرف نظر کمزور تھی۔والد مرحوم کہتے تھے کہ انکا ایمان تھا کہ کوئی اپنے وقت سے پہلے نہیں جا سکتا۔ یہی طاعون کی وبا برطانیہ میں بھی تھی مگر وہاں جنازوں کا وہ احترام نہیں تھا۔ جس کو ہندوستان میں لوگوں نےبڑے صبر اور تحمل سے برداشت کیا۔

اس بات سے آپ اندازہ کریں کے مسلمانوں کا انداز دوسروں سے مختلف ہونا چاہئے۔ اسی وجہ سے اللہ نے فرمایا ہے کہ ۔اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ﴿۵۱﴾سورۃ مائدۃ

در اصل دوستی کی بڑی خرابی یہ ہے کے ہماراطرز فکر بھی انہی کی طرح ہو جاتا ہے۔ جو آپ کے سامنے ہے۔

ابھی بھی بڑی گنجائش ہے اگر ہم اپنا طرز فکر اسلامی کر لیں تو بڑی کامیابی ہو سکتی ہے۔

خان صاحب نے تذکرہ کیا ہے کہ وہ رمضان کے لئے علماء کی میٹنگ بلایئں گے۔ اور اس مسؑلہ کو حل کریئں گے۔ اللہ کرے کہ کہ ھمارے علماء صحیح اسلامی سوچ رکھتے ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی آن لایئن نما ز نہ پڑھانے لگے

اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے قائدین کو دینی سمجھ دے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 58 Articles with 23840 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2020 Views: 150

Comments

آپ کی رائے