استقبال رمضان اور ہمارا معاشرہ

(Dr Muhammad Hasnain, )


استقبال کے معنی ہیں کہ آنے والے کو خوش آمدید کہنا اگر وہ محبوب ہے تو اس کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کرنا ۔ عربی زبان میں اس کے لیے اھلاً و سھلاً اور مرحبا بکم کے کلمات استعمال ہوتے ہیں۔ راحب کے معنی کشادگی کے ہیں اور کسی کو مرحبا بکم کہنے کا مطلب ہے ، آپ کے لیے ہمارے دل میں بڑی کشادگی ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے سے پہلے شعبان المعظم کا مہینہ آتا ہے اس وقت شعبان کا مہینہ ختم ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ قمری سال کے مہینوں میں رمضان ہی ایسا عظیم المرتبت مہینہ ہے جس کی شان کلام الٰہی میں بیان کی گئی ہے اور اس کی با بت ایک مفصل استقبالی خطبہ بھی حضور اکرم ؐ سے منقول ہے اور تقریباً سبھی کتب حدیث میں درج ہے۔ ماہِ صیام کا استقبال نہ صرف نبی اکرم ؐ خود فرمایا کرتے تھے بلکہ اپنے اہل و عیال اور صحابہ کرام کو بھی تلقین فرماتے۔ ماہ رمضان اسلامی سن ہجری کا ساتواں مہینہ ہے ۔ اس کو سید الشہور یعنی تمام مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے یہ مہینہ بے شمار برکات کا مہینہ ہے ۔ ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی عموماً استقبال رمضان کے کلمات سن کر جو ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے وہ اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ہوتا ہے ۔ خواتین کی بات کریں تو نت نئی ریسیپیز اور مختلف قسم کے پکوان بنانے کے حوالے سے تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں ۔ کیا معاشرے میں رائج استقبال رمضان کا یہ طریقہ درست ہے؟ کیا ماہ رمضان کا استقبال ایسے ہی ہونا چاہیے ؟ کیا یہ ماہ رحمت اس لیے آتا ہے کہ اسے بازاروں میں شاپنگ کرتے اور انوع و اقسام کے کھانے پکا کر گزارا جائے ؟ یہ ماہ مبارک سال میں فقط ایک بار آتا ہے اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس ماہ کو پائے اور رب تعالی کی رضا کو بھی حاصل کرے ۔ ماہ رمضان کیا نام ہے صرف کھانے اور اشیا کے ترک کرنے کا ؟ چوری ، غیبت، حسد ، جھوٹ ، بد نظری کیا ان تمام امور کو ترک کرنے کا نام رمضان نہیں ؟ چوری اتنا بڑا جرم ہے کہ رب تعالی ٰ نے اس کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کی ہے اور اس سزا کو اللہ تعالی ٰ کی طرف سے عبرت ناک سز ا کہا گیا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ اب ہمارے معاشرے کو اس سے بڑی بڑی اور ایسی ایسی سنگین جرائم نے گھیر لیا ہے کہ اب چوری ایک عام بات ہو گئی ہے اور ملک عزیز میں زیادہ تر لوگ کیا عام ہو یا خاص چوری کرنے کے گھناونے جرم میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں کوئی مال و دولت کا چور ہے تو کوئی عزت و آبرو کا چور ، کوئی ٹی ٹیکس چور ہے تو کوئی بجلی پانی اور گیس کا چور ہے ۔ کوئی سرکاری اداروں میں رہ کر چوری کرتا ہے تو کوئی پرائیویٹ اداروں میں رہ کر ، لیکن تمام تر چوری کرنے کے باوجود بھی ہم سب مسلمان ہیں اور سب مومن بھی ۔ غم اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ ماہ رمضان کے اندر بھی ہوتا ہے ۔ ماہ رمضان جس کی ہر ساعت میں رب تعالٰی نے جانے کتنے گناہ گاروں کو جہنم سے آزادی عطاء فرماتا ہے ۔ روزہ رب تعالٰی کی پسندیدہ ترین باطنی عبادت ہے کیوں کہ انسان صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے ہی حلال اور طیب اشیا سے خود کو روکے رکھتا ہے اس لیے رب کائنات نے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا لیکن ہم اس سنہری موقعے کو بھی غفلت میں گزار دیتے ہیں ۔ روزہ رکھتے ہیں تو بھی برائے نام ۔ وقت گزاری کے لیے فلموں ڈراموں اور گانے باجوں سے دل بہلاتے ہیں ۔ گویا روزے میں فقط کھانے پینے سے رکنا مقصود ہو۔ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول اور تزکیہ نفس ہے ۔ لیکن جب یہ روزہ لہو و لعب میں گزرے گا توا س کا مقصد اور ثمرات کیوں کر حاصل ہوں گے ۔ رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آنے والا ہے ہر طرف رب کائنات کی رحمتوں کا نزول ہو گا ایسے میں ہر کوئی خود ہی اپنا محاسبہ کرے عبادت کا اہتمام کرے ، قیام اللیل میں توبہ کرے ۔ غریب اور بے سہارا لوگوں کی مدد کر ے ۔ حسب توفیق صدقات کر کے رضائے الٰہی حاسل کرنے کی کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین!
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا ؟
(حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Hasnain

Read More Articles by Dr Muhammad Hasnain: 2 Articles with 582 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2020 Views: 235

Comments

آپ کی رائے