کرونا آیا یا لایا گیا!

(Iram Haseeb, Lahore)
کرونا وائرس کے متعلق اظہار خیال ہے۔ کرونا وائرس سے متعلق لوگوں کا رویہ کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے ۔

آج کل پوری دنیا پر ایک ہی خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ یا یہ کہنا چاہیے کہ خوف و ہراس پھیلایا گیا ہے ۔ لوگ اس وائرس سے جتنا ڈر رہے ہیں اتنا ڈرنا چاہیے ۔ امیر ہو یا غریب ہر کوئی خوفزدہ ہے۔ اور خوفزدہ کیوں نہ ہو بھئ اپنی اور اپنے پیاروں کی جان تو سب کو عزیز ہے۔

سب اپنی اپنی جگہ اس وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل کررہے ہیں ۔ بار بار ہاتھ دھو کر، سینیٹائزر کا استعمال کر کے، اپنے اپنے گھروں میں مقید ہو کر ، صفائی اور ستھرائی کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے ۔
صرف ایک وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کرونا وائرس اتنا چھوٹا ہے کہ عام آنکھ سے نظر نہیں آسکتا، ہوا میں بھی ٹہر نہیں سکتا کسی سطح پر بھی زیادہ دیر نہیں رہ سکتا اور تو اور کمزور اتنا ہے کہ بیس منٹ پانی سے ہاتھ اچھی طرح دھونے سے یہ وائرس ختم ہو جاتا ہے۔

تو یہ حیثیت ہے اس وائرس کی مگر ایک اچھے خاصے انسان کو ختم کردیتا ہے۔ پوری دنیا میں بے شمار ہلاکتوں کا سبب بنا ہے یہ وائرس یہ کرونا وائرس ۔۔۔۔

کچھ لوگ اس وائرس کو ایک سازش کہتے ہیں ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وباء ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی آہ ہے ۔ اور کچھ شدت پسند یا کمزور دل کا خیال ہے کہ بس دنیا ختم ہونے والی ہے یہ جو لوگ اس وباء سے ختم ہو رہے ہیں وہ اسی لیے کیونکہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور نا جانے کیا کیا ۔ اب یہ کرونا کیا ہے، کیوں ہے، خود آیا ہے ، لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے ، پھیلا ہے یا پھیلا یا گیا ہے ۔ ہر کوئی اپنی اپنی نظر سے سوچ رہا ہے۔ جو جتنا سمجھ سکتا ہے سمجھ رہا ہے جو بھی ہے ہمیں ان وہم و گمان سے نکل کر ثابت قدم رہنا چاہیے ۔ احتیاط کریں ضرور کریں مگر خود پر سوار نہ کریں ورنہ اس کرونا وائرس سے تو نا سہی اس کرونا وائرس کے ڈر سے ضرور ہلاک ہو جائے گے۔ کہتے ہیں نا کہ اکثر انسان موت سے نہیں موت سے پہلے موت کے خوف سے ہی مر جاتے ہیں ۔ مشکلات تو آتی ہیں مگر مشکلات سے ڈرنے کے بجائے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وہ لوگ جو ان حالات میں بھی اچھا کھا رہے ہیں، اچھا پی رہے ہیں ، اپنی اپنی چھت کے سائے میں بیٹھے ہیں تو اللہ تعالی کا شکر ادا کریں ۔ بجائے گھروں میں سارا سارا وقت سو کر گزارنے کے نماز ادا کریں، قرآن پاک کی تلاوت کریں ۔ بیشک یہ مہلت ہی ہے ۔ یہ وقت ہے ایک قوم بننے کا ، ایک قوم بن کر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا ۔ اپنے ارد گرد نظر رکھیں کہ کہیں کوئی سفید پوش بھوکا تو نہیں سو رہا ۔ مت سوچیں کہ یہ کرونا آیا ہے یا لایا گیا ہے ۔ سوچنا یہ ہے کہ اس کرونا کو بھگانا کیسے ہے ۔ اس کو جڑ سے ختم کیسے کرنا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iram Haseeb
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2020 Views: 135

Comments

آپ کی رائے