وبا کے دنوں میں کتابوں کا عالمی دن۔

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
ابھی کچھ عرصہ پہلے جب شہر کراچی میں عالمی اردو کانفرنس سجی تھی تو ہمیشہ کی طرح اس میں شرکت کرنے لندن سے رضا علی عابدی صاحب بھی نشریف لائے انہوں نے اپنے کراچی میں قیام کے دوران کے شہر میں منعقد ہونے والی کئی ادبی تقریبات میں شرکت کی اور بہت باریک بینی سے شہر کے بدلتے ہوئے طور طریقے بھی دیکھے اور لندن پہنچتے ہی اس حوالے سے ایک سیر حاصل کالم تحریر کیا جس میں شہر میں جہاں بہت سی ہونے والی تبدیلوں کا ذکر کیا وہیں کتب بینی کے حوالے سے بھی ایک تلخ حقیقت رقم کی کی کہ میں نے کراچی شہر میں قیام کے دوران اجلے پاجامے اور کرتے میں کسی بھی نوجوان کو کسی پارک کتاب پڑھتے ہوئے ٹہلتے نہیں دیکھا ۔
آج 23 اپریل کا دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتاب کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں 4 مارچ کتاب کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کتابوں کے عالمی دن کا آغاز 1616ءمیں اسپین سے ہوا ،اسپین کے شمال مشرق کیٹولینا میں ہر سال 23 مارچ سے 25 مارچ تک لوگ اپنی عزیز خواتین کو گلاب کے پھول پیش کرتے اور مشہور ناول، شیکسپئیر کے ڈرامے ایک دوسرے کو سناتے گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت دوسرے کئی علاقوں میں بھی مشہور ہوئی جس نے بعد میں کتابوں کے عالمی دن کی شکل اختیار کرلی۔

کتابوں کے عالمی دن منانے کا باقاعدہ آغاز اس وقت سے ہوا جب 1995 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جنرل کونسل کا اجلاس جو کہ فرانس میں ہوا جس میں اس ادارے نے 23 اپریل کو ورلڈ بک ڈے اینڈ کاپی رائٹس ڈے قرار دیا جس کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے اسے منانے کا آغاز کیا،کتاب انسان کی زندگی کا لازمی جز ہے اور کتاب کا تعلق انسان سے بڑا پرانا ہے یہ انسان کے علم و ہنر اور ذہنی استعداد میں بھی بے پناہ اضافہ کرتی ہےلیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کتب بینوں کی تعداد میں روز بروز کمی آرہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ مہنگائی جب کہ دوسری اہم وجہ انٹرنیٹ اور موبائیل پر آن لائن کتابوں کی دستیابی ہے جس طرح انٹرنیٹ ٹیکنالوجی آنے کے بعد ہاتھ سے لکھے اور بذریعہ ڈاک بھیجے جانے خطوط کا سلسلہ بہت کم ہوگیا ہے اسی طرح کتب بینی کے شوق میں بھی کمی ہوئی یہی وجہ ہے کہ اب کتابوں کی رونمائی کے پروگراموں میں بھی کافی کمی آچکی ہے اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کتابیں اب بھی شائع کی جارہی ہیں اور آج بھی کتابوں کو پڑھنے والے قدر دان موجود ہیں جو دستی کتابیں پڑھتے ہیں ،میں اگر کتب بینی کی حوالے سے اس دور کا موازنہ آج سے پندہ بیس سال پہلے کے دور سے کروں تو اس وقت لوگ بہت شوق سے کتابیں پڑھا کرتے تھے اکثر دوران سفر لوگوں کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہوتی تھی اور یہ منظر کراچی میں چلنے والی سرکلر ریلوے میں تو بہت زیادہ ہی دیکھائی دیتا تھا لیکن افسوس آج انہیں میں سے کئی ہاتھوں میں صرف موبائیل فون ہی نظر آتا ہے اب ان مسافروں کی ہمسفر کتاب کے بجائے موبائیل فون ہوتے ہیں اس دور میں جہاں کتب بینی اوپر بیان کردہ وجوہات کی وجہ سے معدوم ہوتی جارہی ہے وہیں اس میں کچھ حکمرانوں کی ستم ظریفی بھی ہے جہاں عوامی لائبریریوں کو تیزی سے ختم کرکے اس شوق ہر ایک اور قدغن لگا دیا گیا بہت سی کتابوں کے زخیروں پر مبنی ملک میں نیشنل سینٹر لائبریریوں کو کافی عرصہ سے بند کردیا گیا جہاں ان نیشل سینٹر لائبریریوں میں کتابوں کے پڑھنے والے کتب بینی میں وقت گذارا کرتے تھے وہیں ان سینٹروں میں علمی اور ادبی محفلیں ہوا کرتی تھی۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے جب شہر کراچی میں عالمی اردو کانفرنس سجی تھی تو ہمیشہ کی طرح اس میں شرکت کرنے لندن سے رضا علی عابدی صاحب بھی نشریف لائے انہوں نے اپنے کراچی میں قیام کے دوران کے شہر میں منعقد ہونے والی کئی ادبی تقریبات میں شرکت کی اور بہت باریک بینی سے شہر کے بدلتے ہوئے طور طریقے بھی دیکھے اور لندن پہنچتے ہی اس حوالے سے ایک سیر حاصل کالم تحریر کیا جس میں شہر میں جہاں بہت سی ہونے والی تبدیلوں کا ذکر کیا وہیں کتب بینی کے حوالے سے بھی ایک تلخ حقیقت رقم کی کی کہ میں نے کراچی شہر میں قیام کے دوران اجلے پاجامے اور کرتے میں کسی بھی نوجوان کو کسی پارک کتاب پڑھتے ہوئے ٹہلتے نہیں دیکھا ۔

کراچی کے حوالے سے ایک اچھی بات یہ ہے کہ یہاں ایک اسٹریٹ لائبریری قائم کی گئی ہے جو ایک احسن قدم ہے ۔ آج کل تو پوری دنیا پر کورونا وبا کا راج ہے اور لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں میں محفوط کرلیا ہے ۔ اس حوالے سے گذشتہ ہماری ویب رائٹرز کلب کے زیر اہتمام ایک آن لائن پروگرام میں شرکت کی تو علم ہوا ان وبا کے دنوں میں کتب بینی بھی عروج پر ہے لوگوں نے قرنطینہ میں اپنا بہترین دوست کتاب کو ہی بنا رکھا ہے ۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف کتابوں کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرے بلکہ تمام اہم جگہوں پر دوبارہ ان پبلک لائبریریوں کو فوری طور پر بحال کرے تاکہ معاشرے میں لوگوں بلخصوص نوجوان نسل میں مطالعہ کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا جاسکےاور اس سنہرے دور کا دوبارہ آغاز کیا جاسکے جب ہر روز ہی علمی اور ادبی محفلیں سجا کرتی تھیں جو معاشرے میں سدھار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھیں۔

آئیے آج سے ہم اپنے آپ سے عہد کریں کہ اچھی کتابوں سے دوستی کرینگے اور رات کو سونے سے پہلے کسی بہترین کتاب کا کچھ حصہ ضرور پڑھیں گے اپنے بچوں میں کتابیں پرھنے کا شوق پیدا کریں اور انہیں اس کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کریں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 127 Articles with 80035 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
22 Apr, 2020 Views: 307

Comments

آپ کی رائے