رمضان ،مبارک ہو

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

تزکیہ نفس اور تربیت کا عملی مظاہرہ اسی ماہ مبارک میں کیا جا سکتا ہے۔دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی کورونا وبا کے عروج پر آج25اپریل کو رمضان المبارک شروع ہوچکاہے۔شدید گرمینہیں ۔ بھوک اور پیاس کااحساس بھی ہو۔ہونا بھی چاہیئے۔ وگر نہ بھوکوں ، پیاسوں کا قدردان کون ہو گا۔ یہ تربیتی کورس ہے ۔اﷲ پاک جسے توفیق دے، اس سے وہ فیض یاب گا۔ اسے ہی سعادت ملے گی۔ رمضان المبارک اور روزہ کی فضیلت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔اس پر دینی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سائنسی نقطۂ نگاہ سے بحث جاری رہتی ہے۔ٹی وی چینلز پر بھی رمضان المبارک کی خصوصی نشریات کا آغاز ہوتاہے ۔سحری و افطار کے وقت خصوصی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔اسلام اجتماع کا درس دیتا ہے مگر آج اس وبا کی شدت کم کرنے اور احیتاطی تدابیرکے لئے اجتماع سے بچنے کی ترغیب مل رہی ہے۔ نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے اور مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگیسے فی الحال پرہیز کا کہا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین بھی یہی کہتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمارے اعمال سے زیادہ خلوص نیت جانتے ہیں۔ہمارے نفس کی تربیت، بھوک و پیاس کا احساس سے نہیں، حواس خمسہ سمیت روح اور جسم کی تربیت سے بھیہے۔ بچے بھی مشق کرتے ہیں۔ایک دن میں کئی روزے رکھنے کی مشق۔ اس کے بعد عید کی خوشیاں ۔

نیکی کمانے اور مال بنانے والے بھی سامنے آتے ہیں۔یہاں یوٹیلٹی سٹور سمیت بازار میں چیزیں سستی ہونے کے بجائے مہنگی بلکہ نایاب ہو جاتی ہیں۔یہ سٹورز والے بھی کرتب دکھاتے ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے چند دن پہلے قیمتیں 40گنا تک بڑھاکر بعد میں دھوکہ دینے کے لئے ان میں 20فیصد کمی کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ گراں فروش اور ذخیرہ اندوز مصنوعی قلت سے روزہ داروں کو پریشان کرتے ہیں۔ نیکی کے احسن جزا اور برائی کی سزا بہرحال سب کو ملے گی۔ کورونا کے باوجود ماہ مقدس کے آتے ہی مسلمانوں میں ایک منفرد جوش و جذبہ بیدار ہوا ہے۔ یہ جذبہ شعور کو بیدار ہی نہیں پاکیزہ بھی کردیتا ہے۔روزہ صرف بھوک و پیاس کا نام نہیں بلکہ بھوکوں،پیاسوں کی بھوک و پیاس کا احساس کرنے اور ان سے خیرات و صدقات اور فطرانہ کی صورت میں تعاون کرنے کا نام ہے۔ ان کی عزت نفس بھی قائم رہے۔بھوک اور پیاس کیا ہوتی ہے۔ یہ وہی جانتے ہیں جو اس سے گزرتے ہیں۔روزہ دار بلا شبہ روزہسے تزکیۂ نفس کا درس حاصل کرتا ہے ۔ نفس کو تمام برائیوں سے پاک و صاف کرنے کا سبق و مشق۔ روزہ صرف شکم کو تالا لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ حواس خمسہ سمیت دل و دماغ ہی نہیں روح کو پاکیزگی عطاکرتا ہے۔ آنکھ برائی کونہ دیکھے، کان سے لوگوں کی غیبت نہ سنی جائے، رزق حرام یعنی جھوٹ، دھوکہ دہی، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری ، بد دیانتی، خیانت سے کمائے ہوئے مال سے افطاری و سحری نہ ہو ، تو اس روزہ کا بہت فائدہ ہے۔ ہم کھیت، کارخانے، دفاترمیں آرام کریں ، کام چوری اور ملازمت کا حق ادا نہ کریں تو روزہ ہمارے کس کام آئے گا۔ایک دفتر میں کوئی لاکھوں روپے تنخواہ لے اور کوئی ہزاروں روپے تو لاکھوں والے کو کام بھی زیادہ کرنا چاہیئے۔ اگر وہ زیادہ کام کرے تو کسی پر احسان کیسا۔

اگر کوئی بد کلامی کرے، تو کہہ سکتے ہیں، ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔ ایک ماہ کی تربیت و ٹریننگ سے ایک سال تربیت کے مثبت اثرات سے گزر سکے۔ روزہ انسان کواپنے نفس پر قا بو پانے اور تمام غلطیوں سے بچنے اور نیک اور اچھے کام کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تعمیر سیرت ہے۔ انسان حرص و لالچ ، خواہشات سے بچ جاتا ہے۔ روح کو بھی تربیت ملتی ہے۔ ذہنی و جسمانی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔

ہمارے نبیﷺ کا فرمان ہے ’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ اور بد عملی سے نہیں رکتا، اﷲ تعالیٰ کو اس کی بھوک اور پیاس کی ضرورت نہیں۔ ‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’روزہ شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے ، روزہ دار کو چاہئے وہ بد زبانی اور جہالت سے اجتناب کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالیاں دے تو اسے دو مر تبہ کہے ، میں روزہ دار ہوں۔‘‘روزہ کے باعث چادر تان کر سو جانا بھی روزہ کے فلسفہ کے منافی ہے۔ روزہ دارمعمولات زندگی ترک نہیں کرتا۔ بلکہ ان کو درست کرتاہے۔ رہبانیت اسلام میں جائز نہیں۔ کانٹے دار راستوں پر چلیں توخود کو ایسے سمیٹ کر نکل جائیں کہ کانٹے آپ کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔جو کہ تقویٰ کی مثال ہے۔برائی سے خود کو بچانے کی بہترین مثال ۔ بھوک و پیاس اور موسمی سختی کو نظر انداز کرتے ہوئے چند سو مسلمانوں نے روزے کی حالت میں بد رکے میدان میں حضرت محمد ﷺکی زیر قیادت ہزاروں کفار کو شکست دی ۔ روزہ نے مسلمانوں کو صبر و استقامت، ایثار و قربانی، اتحاد و یگانگت، باہمی اخوت و محبت ، مساوات، ضرورت مندوں سے حسن سلوک ، انفاق، موثر منصوبہ بندی کی تربیت دی۔ ایک ماہ میں گیارہ ماہ کی تربیت۔ہم اپنے دسترخوان پرامیروں کے بجائے غرباء اور مساکین اور محتاجوں کو افطاری کرائیں تو اﷲ مال میں برکت دے گا۔ مال پاک ہو گا۔ یاد رہے اس سے کالا دھن سفید نہیں ہو سکتا۔غلط طریقوں سے کمایاہوا مال غریبوں پر خرچ کرنے سے پاک نہیں ہوتاہے۔ برکت اور پاکیزگی صرف حلال مال کے لئے ہے۔

روزہ صرف شکم کا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں ، دل ، دماغ غرض پوری جان وروح کا ہے۔ انسان اپنے اعضاء کی بغاوت اور سرکشی کو کنٹرول کرتا ہے۔ وہ ایک گھر، خاندان، ادارے یا علاقے کو کنٹرول کرنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ایسے انسان سے کسی مشن یا فریضہ کی ادائیگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی خود احتسابی۔ لا تعداد لوگوں کی زندگی ہی بدل جاتی ہے۔ روزے کی قبولیت کا اندازہ بھی اسی سے ہوتا ہے کہ رمضان اور اس کے بعد میں ہم میں کیا تبدیلی رونما ہوئی۔اگر مثبت تبدیلی آئی ہے۔ اگرہم نیکی کرنے لگے ہیں اور برائی ترک کر دی ہے۔یا اگر ہم بھلائی کو بھلائی اور برائی کو برائی قرار دینے کے اہل بن چکے ہیں۔ تو سمجھ لیں کہ ہم رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہو گئے، ہم کامیاب ہوگئے ،ورنہ بھوک و پیاس کے سوا ہمارے ہاتھکیا آئے گا۔ اﷲ ہمارے اس تربیتی پروگرام ، ہماری بھوک، پیاس، افطاری، سحری، تراویح، قیام، اور جملہ عبادات کو قبول فرمائے۔ہمیں عبادات اور معاملات، بالخصوص حقو ق العباد کو درست کرنے کی توفیق دے، زمینی اور آسمانی آفات اور وباؤں سے محفوظ رکھے۔عزیز و اقارب میں ، ہمارے دائیں بائیں محتاج اور ضرورتمند ہوں گے۔ مسافر بھی توجہ چاہتے ہیں۔حسب توفیق و استطاعت ان کی افطاری، سحری، ضروریات کا خیال رکھ کر اﷲ پاک کی خوشنودی، نیکیاں کمائی جا سکتی ہیں۔ قارئین کرام کو رمضان بہت مبارک ہو۔ امید ہے ہمارے لئے یہ تربیتی سیشن دنیا و آخرت کے لئے نفع بخش ثابت ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 586 Articles with 229624 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
26 Apr, 2020 Views: 349

Comments

آپ کی رائے