گرگٹ اور انسان

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی خوبصورت باغ میں گھنے درخت پہ ایک گرگٹ بیٹھا بڑی اکڑ سے اپنی آنکھیں مٹکا رہا تھا۔ خوشی سے تنے پہ بیٹھتا تو بھورا ہو جاتا، مسرت سے پتوں کے بیچ بیٹھتا تو ہرا ہو جاتا۔ بہت فخر محسوس کر رہا تھا اپنے بدلتے رنگوں پر۔ کہ رہا تھا:"میں بہت مشہور ہوں بدلتے رنگوں کی نمائش کے لیے۔ واہ! کیا صلاحیت ہے مجھ میں۔ سنا ہے انسان میرے بدلتے رنگوں کی مثال دیتے ہیں۔" ابھی وہ مستی میں گم ہی تھا کہ اتنے میں دو دوست باغ میں چہل قدمی کرتے درخت کے نیچے آ بیٹھے۔ گرگٹ خوشی سے جھوم اٹھا۔ کہنے لگا:" واہ! انسان آیا ہے۔ کیا پتا میری شاہانہ صلاحیت کا ذکر ہو اور مجھے تعریف سننے کو ملے۔ ذرا تھوڑا نیچے آ کر باتیں سنتا ہوں۔"گرگٹ اکڑتا، بل کھاتا اور جھومتا تنے کے پچھلے حصے کی طرف چپک کے بیٹھ گیا۔ دوستوں کی آپس میں بات شروع ہوئ۔
پہلا دوست:" تمہاری نوکری لگ گئ تو۔۔۔۔۔۔۔تم نے کہا تھا کہ تم میرے لیے بھی کچھ کرو گے۔"
دوسرا دوست:"ہمممم۔۔۔۔۔"
پہلا دوست:"ہمممم کیا؟.....تم نے وعدہ کیا تھا۔"
دوسرا دوست:" چلو!دیکھیں گے۔۔۔۔۔۔"(اور ایک ٹھنڈا بے وفائ سے بھرا سانس لیا)
پہلا دوست:"اچھا۔۔۔۔۔وہ جو تم نے مجھ سے قرضہ لیا تھا دس ہزار روپے وہ کب واپس کرو گے؟اب تو نوکری لگ گئ ہے تمہاری۔میری ضروریات زیادہ ہیں اور ہوں بھی بے روزگار۔"
دوسرا دوست(قہقہہ لگاتے ہوۓ):"تو کیا ثبوت ہے تمہارے پاس؟مجھے تو یاد بھی نہیں۔"
پہلا دوست:"جب تم مجبور تھے اور ضرورت مند تھے تب میں نے تمہارے لیے سب کچھ کیا۔ آج میں مجبور ہوں تو تم مجھے بھول گۓ۔۔۔۔۔۔"
یہ کہ کر وہ رو پڑا اور دوسرے دوست نے بے رخی سے منہ پھیر لیا۔
یہ منظر دیکھ کر گرگٹ کی جان نکل گئ اور وہ درخت کے تنے سے گھاس پر آ گرا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا:"اے انسان!تیرا ظاہری رنگ ایک ہے لیکن باطن کے رنگ کتنی تیزی سے بدلتے ہیں۔ تیرے قریب آؤ تو پتا چلتا ہے کہ رنگوں میں کافی بدلاؤ ہے۔ باہر سے ایک اندر سے کئ۔۔۔۔۔میرا باطنی رنگ ایک ہے۔۔۔۔ظاہری رنگ کئ!"
گرگٹ نے پہلے دوست کا آنسوؤں سے بھرا رومال اٹھا کر اپنے چہرے کو چھپایا اور کھسیانی ہنسی ہنستا بے وفا دوست کے پاس آ کر شرماتے ہوۓ اپنی زبان میں بولا:"میں تو ایسے ہی اکڑ رہا تھا۔ تمہارے بدلتے رنگوں کا تو کوئ ثانی نہیں۔ مجھے بھی سکھاؤ نا! میرا نظام سست روی کا شکار ہے۔"
گرگٹ کی آواز سن کر بے وفا دوست نے نیچے دیکھا تو اسے اپنے قدموں کے پاس پایا۔ زور سے چیخ مار کر پیچھے ہٹا اور چلا کر بولا:"بھاگو!!!گرگٹ۔۔۔۔وہی رنگ بدلنے والا۔۔۔۔۔۔۔"
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 21 Articles with 15728 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Apr, 2020 Views: 417

Comments

آپ کی رائے