کتوں کا بول بالا

(Yasir Farooq, Karachi)

ہمارے ہاں مرد بھی کتوں سے ڈرتے ہیں...بعض تو اِس قدر کہ ادھر کتا دیکھا نہیں اور فوراً گلی بدل لی...اِس معاملے میں ہم بھی کچھ کچھ کتا کٹ واقع ہوئے ہیں..ایک دفعہ ہم سڑک کنارے چلے جا رہے تھے کہ دور ایک کتے میاں ہماری ہی جانب بڑھتے دکھائی دئیے...ہم نے ارادہ کر لیا کہ اگر وہ ہمارے قریب آئے تو ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے سڑک کی دوسری جانب چلے جائیں گے...جیسے ہی وہ ہمارے قریب آئے اور ہم نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا سوچا ہی تھا کہ کتے میاں خود ہی دوسری جانب ہو لئے..معلوم نہیں وہ ہمیں کیا سمجھ رہے تھے_

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ.....ہم اور ہمارے ایک پہلوان نما دوست ایک اندھیری سڑک پر باتوں میں مگن چلے جا رہے تھے...ان کا بھاری بھرکم ہاتھ ہمارے کاندھے پر براجمان تھا....یوں ہی چلتے چلتے اچانک کتے کے بھونکنے کی آواز آئی...ہم تو کانپ کر رہ گئے...آپ یقیناً ہماری حالت پر مسکرا رہے ہیں...ٹھہرئیے ابھی بات مکمل کہاں ہوئی ہے...دراصل وہ تو ہمارے قوی الجثہ دوست لرز اٹھے تھے اور چونکہ ان کا ہاتھ ہمارے شانے پر پڑا تھا لہٰذا ساتھ ہم بھی لرز اٹھے_

دوسروں کا کیا ذکر ہم نے بھی ایک دن بالآخر مشہور زمانہ حرکت کر ڈالی... ابھی ایک سنسان گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ چند پِلوں کی والدہ محترمہ نے بھونکنا شروع کر دیا گویا ہمیں للکار رہی ہوں:
"ماں ہوں اب سانپ مار سکتی ہوں"

بس پھر کیا تھا ہم شرمندہ و دہشت زدہ ممتا کی ازلی ڈھال کے آگے ڈھ گئے اور راہِ عافیت اختیار کرتے ہوئے گلی بدل لی....بھلا ہم اس جراتِ رندانہ کو کیسے دہرا سکتے تھے کہ جب ایک ساقئ سگ نے پاس سے گزرنے پر ہمیں جامِ بھوں بھوں پلا ڈالا تھا اور ہم بل کھا کر پی گئے تھے_

کچھ عرصہ قبل مصروف ترین شاہراہ پر ایک ایسا تماشہ دیکھا کہ سیر کو سوا سیر والا محاورہ سمجھ میں آ گیا... دو نوجوان ایک جیسا لباس پہنے ہمارے پاس سے بائک پر گزرے تو ایک آوارہ کتا ان پر جھپٹا...دونوں پریشان و شرمندہ کتے سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنے لگے مگر کتے میاں نے قسم کھائ ہوئ تھی گویا اپنی زبانِ دہشتناک میں بھونکے جا رہا ہو...اب بولو بچّو!!!!اب بولو بچّو!!!! اور اسی حالت میں تینوں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے...کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں وہ دونوں نوجوان کون تھے.....وہ دونوں اور کوئ نہیں ہماری اپنی ہی پولیس کے سپاھی تھے_
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yasir Farooq

Read More Articles by Yasir Farooq: 15 Articles with 9191 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2020 Views: 497

Comments

آپ کی رائے