آخری وصیت

(نواب فاتح, KArachi)

اے میری محبوب ملت......یکم اور دومئی کی درمیانی شب ھے وقت 12:45 ھواچاھتاھے
آج میں مررھاھوں اور یہ میری زندگی کی آخری گھڑیاں ھیں جو نہیں معلوم اس وصیت کےاختتام تک باقی رھیں گی یا نہیں؟..لیکن میرادل خوفِ موت سےمضطرب ھونےکی جگہ مطمئن،ھجرِ حیات کےغم سے غمگین ھونےکی جگہ شادماں وفرحاں ھے....اس لئےکہ میں اپنے پیارےدین اورمحبوب ملت کے شرف وعزت کی راہ میں مررھاھوں
امریکی نامردوں نے مجھےورغلاناچاھا..انہوں نےاپنی حالت پرمیرےےدل ودماغ کاقیاس کیااوروہ سمجھےکہ میں موت کی تلخی سےڈرکران کی غلامی اورقید منظورکرلوں گااورانسانیت کی اس انتہائی ذلت وحقارت پرراضی ھوجاؤں گا....مگریہ کیساسخت دھوکاتھاجس میں وہ مبتلاتھے؟
اگروہ خود شرفِ انسانی کےجذبات سےمحروم ھیں،توکیاانھوں نےتاریخ کےصفحوں اورقوموں کی روایتوں میں بھی کبھی انسانیت کی آواز نہیں سنی ھے؟
عنقریب ھی میراخون.... سمندرکےپانی میں ملکرمحوھوجائےگا....اور....لاش گمنامی کی موجوں میں چھپ جائےگی.... میری قبر سمندرکی بڑی بڑی مچھلیوں کاپیٹ ھوگی......خشکی پربسنےوالےاب مجھےکبھی نہ دیکھ سکھیں گے....اور....مٹی کاایک نشان بھی مجھےنصیب نہ ھوگالیکن میں مطمئن ھوں...... ھیلی کاپٹروں اور گولیوں کاشورھے ....مگرمیرےدل میں سکون ھے ...... مجھےیقین ھےکہ عالم انسانیت کاسب سےبڑافرض ادا کررھاھوں..میری روح اپنےخدائے حیّ وقیّوم سے شرمندہ نہیں جو امریکی ھیلی کاپٹروں اور ھماری تڑپتی ھوئی لاشوں، دونوں کودیکھ رھاھے.....

چونکہ ھم رات کے اندھیرے میں دنیاسے رخصت ھورھےھیں اس لئےڈرتےھیں کہ شاید ھمارےبعددشمن ھماری نسبت غلط خبریں مشھورکردےاس لئےاپنی محبوب امت کےنام یہ پیغام چھوڑکرجاتےھیں........ شایدان تک کسی طرح پہنچ جائے،اور ان کو معلوم ھوجائےکہ دنیاکی کوئی دلفریبی اورزندگی کی کوئی دلربائی .....عیش وعشرت .... اور..... کثرتِ دولت ھم کو اپنے مقدس مشن سے دست بردار ھونے پر آمادہ نہ کرسکی..
ھم نےعزت کی موت کوذلت کی زندگی پرترجیح دی،......اورالحمدللہ کہ اپنےآباءواجدادوشھداءکرام کے زمرےمیں شریک ھونے والےھیں
میں یہ خط لکھ رھاھوں اور دشمنوں کی گولیاں چاروں طرف برس رھی ھیں اورخبردیتی ھیں کہ میری زندگی کی آخری ساعات میں اب بہت کم لمحے باقی رہ گئے ھیں
پس .... الوداع! الوداع ! ...اے ملت محبوب اور اے وطن مقدس ......الفراق! الفراق!

2مئی 2011....
بلال ٹاؤن ایبٹ آباد

لیکن آہ! ..شیراسلام ! ..... اےاسلامی شرف وعظمت کےشھید ! .... اےمحبوبیت الہی کےتاجدار ! .... یہ تونے کیاکہہ دیا کہ "میں مررھاھوں"؟
اگرموت تیرے لئےھو،... توپھربتلاکہ دنیامیں ھم زندگی کوکہاں ڈھونڈیں؟........اگریہ موت ھے،توایک ارب مسلمانوں کی زندگیاں اس موت پرقربان،.......اگرتیرےمقدس وجودپرظلم وعصیان سے بھری ھوئی زمین تنگ ھوگئی،تودلگیرمت ھو ھم تیرےمقبرےکواپنےدلوں میں بنائیں گے...... اگرتیرےجنازےکوپھولوں کی چادرنصیب نہیں ھوئی توکیامضائقہ ، .......ھم اپنی آنکھوں کوپھوڑڈالیں گےاگرانہوں نے ھمیشہ اپنےآنسوؤں کی چادریں تیری یادمیں نہ بہائیں
... ھماری آنکھیں ھم پر روئے اگروہ تجھ پرنہیں روتی....

اندھیری رات کی موت؟؟
دن کےاجالےمیں مرنے والوں، عالیشان گنبدوں اورمقبروں میں سونےوالوں کی نشانیاں مٹ جائیں گی،مگرتیری سمندرپربہنے والی لاش کودنیاکبھی نہ بھول سکےگی...
جا ! ......اےپیکرقدس وعظمت جا !
دنیاتیرے رھنے کی جگہ نہ تھی، حیات جاوداں .... دائمی زندگی..... اور خدا کاآغوشِ محبت ھمیشہ کیلئے تجھے مبارک ھو
ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا،بل احیاء عندربھم یرزقون
اللہ کی راہ میں مارےجانےوالوں کو مردہ گمان مت کرو بلکہ وہ زندہ ھیں...
ھاں !ھاں... واقعی شیخ... بےشک تم آج بھی زندہ ھو
#نواب فاتح
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: نواب فاتح

Read More Articles by نواب فاتح: 12 Articles with 14986 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2020 Views: 193

Comments

آپ کی رائے