تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اِس سے کیا

(Yasir Farooq, Karachi)

آپ کے علم میں یہ بات یقیناً ہو گی کہ ہماے ہاں لاکھوں لڑکیاں شادی کے انتظار میں بیٹھی رہ گئی ہیں...ایسا کیوں ہوا...کیسے یہ لڑکیاں تنہائ کے گھنے خوفناک جنگل میں گِھر گئیں...چند وجوھات تو زبان زدِ عام ہیں جیسے جہیز کی لعنت، لڑکیوں اور لڑکوں کی بے جا مانگ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی زیادہ تعداد وغیرہ مگر آج میں ایک اور سب سے الگ وجہ پر بات کروں گا جو کہ انسانی رویوں سے متعلق ہے_

ہم یہ جانتے ہیں کہ لڑکیوں کے متفکر والدین اپنے رشتہ دار دوست احباب سے رشتے کی تلاش کا کہتے ہیں...یہ لوگ وقتاً فوقتاً رشتے بتانے بھی لگتے ہیں...اخلاص اپنی جگہ لیکن ان لوگوں کی شدید خواہش اور بعض اوقات ضد ہوتی ہے کہ جو رشتہ بتایا جائے والدین بس ہاں کر دیں...جانے کیوں کفو کے اسلامی تصور کو یکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے...مزید یہ کہ انکار کی معقول وجہ کو بھی ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں_ کچھ ہی دن گزرتے ہیں کہ مزید انکار کے بعد یہی رشتہ دار دوست احباب باتیں بنانا شروع کر دیتے ہیں مثلا لڑکی یا والدین کے بڑے نخرے ہیں ...ان کو تو کوئ پسند ہی نہیں آتا...یہ لوگ تو شادی کرنا ہی نہیں چاھتے ...الم غلم...اور یوں تعلقات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں ...اب یہ گھر گھر گاتے پھرتے ہیں کہ ہم ان کو رشتہ بتاتے ہیں یہ انکار کر دیتے ہیں... اِس طرح دوسرے لوگ جو لڑکی کے رشتے کے سلسلے میں معاون ہو سکتے تھے وہ بھی بدگمان ہو جاتے ہیں اور تعاون کرنے سے کترانے لگتے ہیں... یوں آہستہ آہستہ رشتے آنا بند ہو جاتے ہیں ...بالآخر تماشا بنی یہ غمزدہ لڑکی جوانی کی دہلیز پار کر جاتی ہے اور اپنے والدین سمیت درد و غم اور مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہے_ تنہا لڑکی کو معاشرہ کیسے کیسے تنگ کرتا ہے یہ ایک الگ داستان ہے_

آپ نے دیکھا کیسے اپنے ہی لوگ جانے انجانے میں خوشیاں چھین لیتے ہیں...میرے مشاھدے کے مطابق اب یہ معاملہ صرف لڑکیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ لڑکے بھی اس معاشرتی رویے کا شکار ہونے لگے ہیں... الغرض ہمیں چاھئے کہ جب دوسروں کی طرف دستِ تعاون بڑھائیں تو جلد بازی اور بدگمانی سے بچتے رہیں اور ان کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کریں تا کہ کوئ بھی فرد زندگی کا کٹھن سفر تنہا طے کرنے پر مجبور نہ ہو... شہناز نور کا یہ کرب انگیز شعر شاید ہمیں کوئ سبق دے پائے:

میں اوجھل ہو گئی ماں کی نظر سے
گلی میں آئی جب بارات کوئی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yasir Farooq

Read More Articles by Yasir Farooq: 14 Articles with 8064 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2020 Views: 510

Comments

آپ کی رائے