کرونا وبا یا سازشوں کا گورکھ دھندا ۔۔۔!! عا لمِ اِنسانیت کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں ۔۔۔!!

(محمد اعظم عظیم اعظم, کراچی)
کروناوبا یا سازشوں کا گورکھ دھندا !!..عالمِ انسانیت کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں..!!
محمداعظم عظیم اعظم [email protected]
دنیا سمیت وطن عزیر میں بھی کرونا وبا کے باعث سازشوں کا گورکھ دھنداآسمان کی بلندیوں کو چھونے کو ہے؛ مگر ایسے میں پھر بھی وزیراعظم نے 9مئی سے سماجی رابطے میں مناسب فاصلے کے ساتھ تمام ترضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ مرحلہ وارلاک ڈاو¿ن کھولنے کا اُصولی فیصلہ کرلیا ہے ۔یقینا اِ س کے بہت جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے ، حکومت نے چھوٹی مارکیٹیں اور دکانوں کو کھولنے کا اعلان کردیاہے۔ جو فجر سے شام پانچ بجے تک کھلا کریں گیں۔ اور ہفتے میں دودن بند ہواکریں گیں۔ اِس سے جہاں چھوٹے کاروباری افراد فائدہ اُٹھاسکیں گے؛ تو وہیں دو ماہ سے پریشان حال خریدار وں کو بھی سُکھ کا سانس نصیب ہوگا ۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اِس فیصلے پر بالخصوص ضدی صوبہ سندھ اور بالعموم دیگر صوبے کتنا عمل کرتے ہیں ؟ایسالگتا ہے کہ وفاق سے لاک ڈاو¿ن میں مرحلہ وار نرمی کے اعلان کے ساتھ ہی سندھ حکومت کے پیٹ میں خودساختہ تحفظات لئے مروڑاٹھ رہے ہیں۔ جس کی آہستہ آہستہ آوازیں آنے شروع ہوگئیں ہیں ۔سندھ حکومت نہیں چاہتی ہے کہ اِس کے کروناوباسے ہونے والے لاک ڈاو¿ن سے سیاسی ،ذاتی ، معاشی اور اقتصادی فائدے حاصل ہونے تک صوبے سے لاک ڈاو¿ن ختم کیا جائے۔ اِس لئے سندھ حکومت کرونا وائرس پر سیاسی پہاڑ کھڑے کرکے اپنا سیاسی قداپنی ایڑیوں پر اُونچاکرناچاہتی ہے، اور اِس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت کی یہی کوشش ہے کہ وفاق کی دی ہوئی کسی بھی گائیڈ لائین پر ہر گز نہ چلا جائے۔ اگریہ اِس پر چل پڑے گی ۔ تو پھر وفاق سے صوبوں کی خود مختاری کا معاملہ کھٹائی میں ہی رہے گا؛اِس بِنا پرسندھ حکومت وفاق کی اچھی بات اور مشورہ ماننے کو کسی بھی صورت میں تیار نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ سندھ حکومت اپنی اَنااور ضدپر قائم رہ کر صوبے کے عوام کا کتنانقصان کرتی ہے ؟ اِس کے لئے سندھ کے عوام اور بالخصوص کراچی کے شہریوں اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو تیار رہنا ہوگا۔اُدھرکرونا آفت کو اپنی سازشوں کے لئے استعمال کرنے والوں امریکا، اسرائیل اور بھارت جیسے سازشی شیطان ممالک نے ایک بار پھر دنیا کو دھمکی آمیزانداز سے ڈرادیاہے کہ ” لاک ڈاو¿ن میں نرمی ، وائرس کی دوسری لہر کتنی سنگین ہوگی؟اِس کے کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے ؟اِس کے لئے بھی لاک ڈاو¿ن میں نرمی کرنے والوں کوضرور سوچناہوگا؟اَب کچھ بھی ہے ہمارے وزیراعظم عمران خان نے آج جب اللہ کا نام لے کر سفیدپوش افراد کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے نو مئی سے لاک ڈاو¿ن میں نرمی کرنے کا اعلان کردیاہے؛ توپھر بس یہ اِس پر قائم رہیں۔ اللہ کی مدد شامل حال رہی گی؛ اور ایسا کچھ نہیں ہوگا جس کا اندرونی اور بیرونی سازشی عناصر دھمکی آمیز انداز سے عندیہ دے رہے ہیں۔
بہر کیف ،ایک طرف دنیا میں کرونا وائرس کا طوفان تباہی مچارہاہے۔ تو وہیں ا موات کانہ رکنے والا سلسلہ بھی عروج پر پہنچ رہا ہے۔ لاک ڈاو¿ں سے بے حال طاقتورترین ممالک کی معیشت بھی زمین کی دھول چانٹنے کو ہے۔جب کہ معاشی اوراقتصادی لحاظ سے دنیا کے پاکستان جیسے دیگر کمزور اوربدحال ممالک کی حالت اور مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد بھی سب کے سامنے ہے۔ایسے میں کروناوائرس کی دواتیارکرنے کے بڑے بڑے دعوے تو سب ہی کررہے ہیں۔ مگرعملی طور پر ابھی تک نتیجہ صفر در صفر ہے۔جب کہ آج جہاں کرونا آفت سے پریشان حال عالمِ اِنسانیت اپنی بقاءاور سلامتی کے لئے پناہ کی تلاش میں ہے؛ تووہیں برطانوی اخبارکی اِس خبر نے بہت سوں کے دماغ پرضرور ہتھوڑے برسادیئے ہوں گے کہ ” امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر پنس برگ میں کروناوائرس کے علاج میں بریک تھروکے قریب پہنچنے کا دعوی کرنے والے چائینز 37برس کے محقق سائنسدان ڈاکٹربِنک لیو کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔جن کی لاش اِن کے گھرسے برآمدہوئی ۔ جن کی ہلاکت سر اور جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی،رپورٹ کے مطابق اِن کے گھرکے قریب سے ایک46سالہ شخص باو¿گو¿کی لاش بھی ملی ہے۔جس کے بارے میں پولیس والوں کا کہنا ہے کہ باو¿گو¿ نے خودکو گولی ماری کر زخمی کردیا ،جس سے اِس کی ہلاکت ہوئی ،ساتھ ہی پولیس کا یہ بھی دعویٰ اپنے اندر بہت سے سوالات کو جنم دے رہاہے کہ” دونوں افرادایک دوسرے کو جانتے تھے۔“نہ صرف یہ بلکہ پولیس کا قوی دعویٰ یہ بھی ہے کہ ”تحقیقات سے ایسالگتاہے کہ جس شخص کی لاش گھر کے باہر سے برآمد ہوئی ،اِس نے چائینزسائنسدان ڈاکٹربِنک لیو کا قتل کرنے کے بعد واپسی پر خودکشی کرلی “ مزیدبراں یہ کہ راس ٹاو¿ن شپ کے تحقیقات کار (ڈیٹیکٹیو)برائن کولپ نے اخبار نوسیوں کو بتایا کہ فی الوقت کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتاہے کہ اِس واقع کے درپردہ کیا عوامل کارفرماتھے “ایسے میں یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ اِس قتل کے پیچھے کون سے عوامل کر فرماہیں؟ اِس کی بھی تحقیقات ضرور کی جانی چاہئے تاکہ عالمِ اِنسانیت کو کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں جکڑنے والے عناصر کا چہرہ بھی بے نقاب کیا جاسکے۔ جو کرونا وائر س کو وباکی شکل دے کردنیا کے اِنسانوں کولاک ڈاو¿ن اور مو ت سے خوفزدہ کرکے اپنے گھناونے مقاصد حاصل کرناچاہتے ہیں ۔آج عالمِ اِنسانیت کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے ۔اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ کروناوبا سے دنیا تاریخ کے نازک ترین دورسے گزررہی ہے ۔ابھی تک اِس وباسے سِوائے احتیاطی تدابیر اور سوشل رابطے سے دوری اختیار کرنے کے کوئی دوسرا علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ یاحیرت انگیزطور پر کوئی اِس کے علاوہ کسی دوا یا ویکسین تیارکرنے کو راضی ہی نہیں ہے۔ اِس کے برعکس دِکھاوے کی کوششیں سب کررہے ہیں۔ مگرسنجیدگی سے کوئی بھی کرونا وائرس کی دوابنانے کو تیار نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اِس وباکے درپردہ عالمی سازشی عناصرہی کاربند ہیں۔ جو ابھی تک یہ نہیں چاہتے ہیں کہ اِس نزلے زکام کھانسی بخارکی معمولی بیماری یا وبا کی فی الفور دوا یا ویکسین تیار کرکے عالم ِ اِنسانیت کوخوف کے عالم سے نکالا جائے اور دنیا میں جاری لاک ڈاو¿ن کے سلسلے کو ختم کیا جائے۔کرونا وائرس کے پیش نظر جتنی کوشش دنیا بھر میں اِس کے پروپیگنڈے کے لئے کی جارہی ہے۔ آج اگر اِس وبا اور آزمائش کے خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں کی جاتیں تو ممکن تھا کہ اَب تک اِس وبا سے چھٹکارہ پایاجاسکتاتھا۔ مگر چوں کہ یہ خود ساختہ پیدا کردہ وباہے۔ جِسے طاقتورترین ممالک کمزورریاستوں کے نظام کو اپنے زیراثرکرنے اور دنیا کا معاشی اقتصادی، سماجی، اخلاقی اور دینی نظام کو اپنی مرضی منشاکے مطابق چلانے کے لئے کرونا وائرس کا شوشہ استعمال کرکے ایسی جدیدٹیکنالوجی متعارف کرناچاہتے ہیں۔ جس سے دنیا کا کوئی فرد نہیں بچ سکے گا ۔دنیا کے طاقتورترین ممالک امریکا، یورپ، اسرائیل اور بھارت جیسے دیگر اِنسانیت بیزاراور اِنسانوں کے دُشمن شیطان کے چیلے چانٹوں کی ایک یہی خواہشِ عظیم ہے کہ کوئی ایسا نظام دنیا میں متعارف کرایاجائے۔ جس سے دنیا پر بوجھ بنے غریبوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاجائے تاکہ دنیا میں امیروں کی حکمرانی اور داداگیری قائم رہے کیادنیاپریک سکہ یک نظام اور ایک حکمرانی کی عالمی سازش ہے ؟ختم شُد)
کروناوبا یا سازشوں کا گورکھ دھندا !!..عالمِ انسانیت کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں..!!
محمداعظم عظیم اعظم [email protected]
دنیا سمیت وطن عزیر میں بھی کرونا وبا کے باعث سازشوں کا گورکھ دھنداآسمان کی بلندیوں کو چھونے کو ہے؛ مگر ایسے میں پھر بھی وزیراعظم نے 9مئی سے سماجی رابطے میں مناسب فاصلے کے ساتھ تمام ترضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ مرحلہ وارلاک ڈاو¿ن کھولنے کا اُصولی فیصلہ کرلیا ہے ۔یقینا اِ س کے بہت جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے ، حکومت نے چھوٹی مارکیٹیں اور دکانوں کو کھولنے کا اعلان کردیاہے۔ جو فجر سے شام پانچ بجے تک کھلا کریں گیں۔ اور ہفتے میں دودن بند ہواکریں گیں۔ اِس سے جہاں چھوٹے کاروباری افراد فائدہ اُٹھاسکیں گے؛ تو وہیں دو ماہ سے پریشان حال خریدار وں کو بھی سُکھ کا سانس نصیب ہوگا ۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اِس فیصلے پر بالخصوص ضدی صوبہ سندھ اور بالعموم دیگر صوبے کتنا عمل کرتے ہیں ؟ایسالگتا ہے کہ وفاق سے لاک ڈاو¿ن میں مرحلہ وار نرمی کے اعلان کے ساتھ ہی سندھ حکومت کے پیٹ میں خودساختہ تحفظات لئے مروڑاٹھ رہے ہیں۔ جس کی آہستہ آہستہ آوازیں آنے شروع ہوگئیں ہیں ۔سندھ حکومت نہیں چاہتی ہے کہ اِس کے کروناوباسے ہونے والے لاک ڈاو¿ن سے سیاسی ،ذاتی ، معاشی اور اقتصادی فائدے حاصل ہونے تک صوبے سے لاک ڈاو¿ن ختم کیا جائے۔ اِس لئے سندھ حکومت کرونا وائرس پر سیاسی پہاڑ کھڑے کرکے اپنا سیاسی قداپنی ایڑیوں پر اُونچاکرناچاہتی ہے، اور اِس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت کی یہی کوشش ہے کہ وفاق کی دی ہوئی کسی بھی گائیڈ لائین پر ہر گز نہ چلا جائے۔ اگریہ اِس پر چل پڑے گی ۔ تو پھر وفاق سے صوبوں کی خود مختاری کا معاملہ کھٹائی میں ہی رہے گا؛اِس بِنا پرسندھ حکومت وفاق کی اچھی بات اور مشورہ ماننے کو کسی بھی صورت میں تیار نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ سندھ حکومت اپنی اَنااور ضدپر قائم رہ کر صوبے کے عوام کا کتنانقصان کرتی ہے ؟ اِس کے لئے سندھ کے عوام اور بالخصوص کراچی کے شہریوں اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو تیار رہنا ہوگا۔اُدھرکرونا آفت کو اپنی سازشوں کے لئے استعمال کرنے والوں امریکا، اسرائیل اور بھارت جیسے سازشی شیطان ممالک نے ایک بار پھر دنیا کو دھمکی آمیزانداز سے ڈرادیاہے کہ ” لاک ڈاو¿ن میں نرمی ، وائرس کی دوسری لہر کتنی سنگین ہوگی؟اِس کے کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے ؟اِس کے لئے بھی لاک ڈاو¿ن میں نرمی کرنے والوں کوضرور سوچناہوگا؟اَب کچھ بھی ہے ہمارے وزیراعظم عمران خان نے آج جب اللہ کا نام لے کر سفیدپوش افراد کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے نو مئی سے لاک ڈاو¿ن میں نرمی کرنے کا اعلان کردیاہے؛ توپھر بس یہ اِس پر قائم رہیں۔ اللہ کی مدد شامل حال رہی گی؛ اور ایسا کچھ نہیں ہوگا جس کا اندرونی اور بیرونی سازشی عناصر دھمکی آمیز انداز سے عندیہ دے رہے ہیں۔
بہر کیف ،ایک طرف دنیا میں کرونا وائرس کا طوفان تباہی مچارہاہے۔ تو وہیں ا موات کانہ رکنے والا سلسلہ بھی عروج پر پہنچ رہا ہے۔ لاک ڈاو¿ں سے بے حال طاقتورترین ممالک کی معیشت بھی زمین کی دھول چانٹنے کو ہے۔جب کہ معاشی اوراقتصادی لحاظ سے دنیا کے پاکستان جیسے دیگر کمزور اوربدحال ممالک کی حالت اور مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد بھی سب کے سامنے ہے۔ایسے میں کروناوائرس کی دواتیارکرنے کے بڑے بڑے دعوے تو سب ہی کررہے ہیں۔ مگرعملی طور پر ابھی تک نتیجہ صفر در صفر ہے۔جب کہ آج جہاں کرونا آفت سے پریشان حال عالمِ اِنسانیت اپنی بقاءاور سلامتی کے لئے پناہ کی تلاش میں ہے؛ تووہیں برطانوی اخبارکی اِس خبر نے بہت سوں کے دماغ پرضرور ہتھوڑے برسادیئے ہوں گے کہ ” امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر پنس برگ میں کروناوائرس کے علاج میں بریک تھروکے قریب پہنچنے کا دعوی کرنے والے چائینز 37برس کے محقق سائنسدان ڈاکٹربِنک لیو کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔جن کی لاش اِن کے گھرسے برآمدہوئی ۔ جن کی ہلاکت سر اور جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی،رپورٹ کے مطابق اِن کے گھرکے قریب سے ایک46سالہ شخص باو¿گو¿کی لاش بھی ملی ہے۔جس کے بارے میں پولیس والوں کا کہنا ہے کہ باو¿گو¿ نے خودکو گولی ماری کر زخمی کردیا ،جس سے اِس کی ہلاکت ہوئی ،ساتھ ہی پولیس کا یہ بھی دعویٰ اپنے اندر بہت سے سوالات کو جنم دے رہاہے کہ” دونوں افرادایک دوسرے کو جانتے تھے۔“نہ صرف یہ بلکہ پولیس کا قوی دعویٰ یہ بھی ہے کہ ”تحقیقات سے ایسالگتاہے کہ جس شخص کی لاش گھر کے باہر سے برآمد ہوئی ،اِس نے چائینزسائنسدان ڈاکٹربِنک لیو کا قتل کرنے کے بعد واپسی پر خودکشی کرلی “ مزیدبراں یہ کہ راس ٹاو¿ن شپ کے تحقیقات کار (ڈیٹیکٹیو)برائن کولپ نے اخبار نوسیوں کو بتایا کہ فی الوقت کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتاہے کہ اِس واقع کے درپردہ کیا عوامل کارفرماتھے “ایسے میں یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ اِس قتل کے پیچھے کون سے عوامل کر فرماہیں؟ اِس کی بھی تحقیقات ضرور کی جانی چاہئے تاکہ عالمِ اِنسانیت کو کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں جکڑنے والے عناصر کا چہرہ بھی بے نقاب کیا جاسکے۔ جو کرونا وائر س کو وباکی شکل دے کردنیا کے اِنسانوں کولاک ڈاو¿ن اور مو ت سے خوفزدہ کرکے اپنے گھناونے مقاصد حاصل کرناچاہتے ہیں ۔آج عالمِ اِنسانیت کرونا وائرس اور عالمی سازشوں کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے ۔اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ کروناوبا سے دنیا تاریخ کے نازک ترین دورسے گزررہی ہے ۔ابھی تک اِس وباسے سِوائے احتیاطی تدابیر اور سوشل رابطے سے دوری اختیار کرنے کے کوئی دوسرا علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ یاحیرت انگیزطور پر کوئی اِس کے علاوہ کسی دوا یا ویکسین تیارکرنے کو راضی ہی نہیں ہے۔ اِس کے برعکس دِکھاوے کی کوششیں سب کررہے ہیں۔ مگرسنجیدگی سے کوئی بھی کرونا وائرس کی دوابنانے کو تیار نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اِس وباکے درپردہ عالمی سازشی عناصرہی کاربند ہیں۔ جو ابھی تک یہ نہیں چاہتے ہیں کہ اِس نزلے زکام کھانسی بخارکی معمولی بیماری یا وبا کی فی الفور دوا یا ویکسین تیار کرکے عالم ِ اِنسانیت کوخوف کے عالم سے نکالا جائے اور دنیا میں جاری لاک ڈاو¿ن کے سلسلے کو ختم کیا جائے۔کرونا وائرس کے پیش نظر جتنی کوشش دنیا بھر میں اِس کے پروپیگنڈے کے لئے کی جارہی ہے۔ آج اگر اِس وبا اور آزمائش کے خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں کی جاتیں تو ممکن تھا کہ اَب تک اِس وبا سے چھٹکارہ پایاجاسکتاتھا۔ مگر چوں کہ یہ خود ساختہ پیدا کردہ وباہے۔ جِسے طاقتورترین ممالک کمزورریاستوں کے نظام کو اپنے زیراثرکرنے اور دنیا کا معاشی اقتصادی، سماجی، اخلاقی اور دینی نظام کو اپنی مرضی منشاکے مطابق چلانے کے لئے کرونا وائرس کا شوشہ استعمال کرکے ایسی جدیدٹیکنالوجی متعارف کرناچاہتے ہیں۔ جس سے دنیا کا کوئی فرد نہیں بچ سکے گا ۔دنیا کے طاقتورترین ممالک امریکا، یورپ، اسرائیل اور بھارت جیسے دیگر اِنسانیت بیزاراور اِنسانوں کے دُشمن شیطان کے چیلے چانٹوں کی ایک یہی خواہشِ عظیم ہے کہ کوئی ایسا نظام دنیا میں متعارف کرایاجائے۔ جس سے دنیا پر بوجھ بنے غریبوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاجائے تاکہ دنیا میں امیروں کی حکمرانی اور داداگیری قائم رہے کیادنیاپریک سکہ یک نظام اور ایک حکمرانی کی عالمی سازش ہے ؟ختم شُد)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 617761 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 May, 2020 Views: 384

Comments

آپ کی رائے