مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

 ماں(ہدایت بیگم) کی محبت میں ڈوب کر لکھی ہوئی ایک تحریر
مجھے مئی2003 ء کی وہ گرم دوپہر نہیں بھولتی جب میں اپنی ماں کی قدم بوسی کے لئے ان کے گھر واقع آبادی قربان لائن پہنچا۔ دروازے پر دستک دی تو یوں محسوس ہوا کہ ماں سمیت سب گھر والے گہری نیند سو رہے ہیں۔ عید میلادالنبیؐ کی وجہ سے اس دن عام تعطیل تھی۔ ماں کی قدم بوسی کا یہ پہلا موقعہ نہیں تھا ہر دوسرے دن ملنے کا حکم ماں نے خود مجھے دے رکھا ہے تاکہ میری جدائی میں ان کا دل بے قرار نہ ہو جو پہلے ہی ایک بیٹے کی جدائی کا زخم سہ کر چکنا چور ہو چکا ہے۔ جب موت کے مہیب سائے بھائی رمضان کو اپنی آغوش میں لینے لگے تو ماں کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی وہ بے بس پنچھی کی طرح تڑپ رہی تھی ۔ اس کا بس چلتا تو وہ ملک الموت سے اپنے بیٹے کو چھین لیتی لیکن وہ اپنی تمام تر کوشش اور جستجو کے باوجود بے بس رہی اور ان کی آنکھوں کے سامنے اس کا سب سے بڑا بیٹا (جسے اس نے 17دنوں کی عمر میں ہجرت پاکستان کے وقت ریل گاڑی کے پہیے کے نیچے سے نکالا تھا) ‘ چپ چاپ قبر میں اتر گیا۔ بہر کیف کچھ دیر دستک دینے کے بعد جب گھر کا دروازہ کھلا تو ماں اس صوفے پر بیٹھی نظر نہ آئی( جو اس کی وجہ سے ہمیشہ مہکتا نظر آتا تھا۔بلکہ ماں کی وہاں موجودگی سے سارا برآمدہ خوشبو سے معطر محسوس ہوتا ہے۔ ان کی عمر رسیدہ آواز سے اس گھر کے ماحول میں کبھی کبھی ارتعاش پیدا ہوتاہے پھر یکدم ماحول پر خاموشی چھا جاتی ہے۔ ماں کے پوتے پوتیوں کی شرارتوں اور چیخ و پکار کی گونج اکثر سنائی دیتی ہے۔ ماں اس صوفے پر بیٹھی ہوئی ان سب سے بھاری اور حاوی نظر آتی ہے۔)

مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ آج ماں کہاں چلی گئی ہے اورصوفہ خالی کیوں ہے؟ یہ بات میری عادت میں شامل ہے کہ میں جب بھی ماں کے گھر میں داخل ہوتا ہوں تو ماں ماں پکارتا ہوا ان کی آغوش میں جا چھپتا ہوں ۔ اکثر و بیشتر حضرت شاہ حسینؒ کی مشہور کافی کے بول میری زبان پر رقص کرتے ہیں
’’مائے نی میں کنو آکھاں، درد وچھوڑے دا حال نی، مائیں نی میں کنو آکھاں‘‘۔

ماں کا گھر ہر گھر کی طرح بے شک اینٹوں اور سیمنٹ سے بنا ہوا تھا لیکن اس گھر کی ایک ایک اینٹ سے بھینی بھینی خوشبو کے ساتھ دیہاتی ماحول کا سماں دکھائی دیتا تھا۔ ماں تندور کی روٹی ، بینگن کا بھرتا ،ٹینڈے، بھنڈیاں، گوشت اور کریلے قیمہ بہت شوق سے کھاتی تھیں۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لئے چند سال پہلے ہی ماں نے ایک تندور اپنے گھر میں لگوایا ۔ یہ کریڈٹ میری سب سے چھوٹی بھابی نسرین ارشد کو جاتا ہے جو بڑی مہارت سے دوپہر اور شام کو تندور جلاتی اور پھر بڑی مہارت کے ساتھ روٹیاں لگاتی تھی۔ دیہاتی اور غریب ماحول میں پلی ہوئی میری اس بھابی کو سگھڑ خاتون اور مجسمہ محبت کہاجاسکتا ہے۔ اس نے میرے چھوٹے بھائی ارشد کو اپنی وفاؤں اور جانفشانی سے جو ذہنی تسکین فراہم کر رکھی ہے وہ اس کے چہرے پر اکثر و بیشتر نظر آتی ہے۔ گلابی اردو اور پنجابی کے منفرد لہجے میں گفتگو کرتا ہوا میرا یہ بھائی ( محمد ارشدلودھی )ہر وقت گھر میں محبتیں بانٹتا نظر آتا ہے۔ ماں سمیت سبھی اس کی بچگانہ حرکتوں سے خوب انجوائے کرتے ہیں۔ ارشد اتنا محنتی اور جفا کش ہے کہ اپنی ملازمت کے علاوہ بہت کچھ کرنے کا ماہر ہے۔ کسی بھی کام کو کرنے میں وہ عار محسوس نہیں کرتا۔ جب وہ پسینے میں شرابور مٹی سے آلودہ پرانے کپڑوں میں اپنی سائیکل پر گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں خوشی کے ستارے ٹمٹانے لگتے ہیں۔ بھاری بھرکم جسم کے مالک اس بھائی کو میں نے کبھی حالات کے ہاتھوں مایوس ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ ہمیشہ ہنستا مسکراتا زندگی کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ ارشد سے بڑا بھائی اشرف اور اس کی بیگم نسرین طفیل (جو میری ماموں زاد بہن بھی ہے) وہ بھی پرخلوص محبت اور اپنی تمام تر صلاحیتیں مکان کو گھر بنانے میں صرف کرتے نظر آتے ہیں۔ اشرف کو ماں کی نظر میں اتنی اہمیت حاصل ہے کہ ماں اس کے لئے مشکل سے مشکل فیصلہ کر سکتی ہے بلکہ ماضی میں کرتی بھی رہی ہے۔ ماں کے گھر میں ابھی تک دیہاتی ماحول کا اثر جابجا دکھائی دیتا ہے ۔گرمیوں کی ہر شام اینٹوں سے بنے ہوئے صحن کو پہلے پانی سے دھویا جاتا ہے پھر جب گرمی کی تپش ختم ہو جاتی ہے تو ماں کے حکم سے پانچ چھ چار پائیاں قطار در قطار بچھا دی جاتی ہیں، ان پر تکیے لگائے جاتے ہیں ، پائنتی کی طرف گدیاں بچھا دی جاتی ہیں اور چارپائیوں کے دونوں جانب پیڈسٹل فین پوری رفتار سے چلنے لگتے ہیں ۔ اگر گرمی زیادہ ہو تو ارشد نے ایک ایسا جہازی سائز کا پنکھا بھی رکھا ہوا ہے جو اس سے پہلے کسی کولر میں نصب تھا وہ جب چلتا ہے تو ہوا کو آندھی بنا دیتا ہے جس سے گرمی کی شدت بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ ماں سمیت گھر کا ہر فرد ان بچھی ہوئی چارپائیوں پر حسب ضرورت بیٹھ اور لیٹ بھی سکتا ہے۔ سارے دن کے تھکے ماندے بچے بھی چارپائی پر بیٹھ کرشرارتوں میں مشغو ل ہوجاتے ہیں پھر میری دونوں چھوٹی بھابھیاں تندور کی پکی ہوئی گرما گرم روٹیاں چنگیروں میں سجائے گوشت بھنڈی ، قیمہ کریلے یا گھر میں پکی ہوئی کوئی بھی سبزی لا کر میز پر سجاتی ہیں۔ یہ میز مجھے اس لئے اچھا لگتا ہے کہ اس میز کو عرصہ دراز سے میر ی ماں اور باپ دونوں کی سنگت حاصل ہے۔ یہ انہی کے دور کی ایک انمول یاد گار ہے۔

ماں کے گھر سرے شام ہی کھانے کا اہتمام ہونے لگتا ہے۔ پھر مغرب کے بعد جونہی ماحول پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو سونے والوں میں پہلے نمبر پر میری ماں ہوتی ہے جس نے اپنے چھوٹے بیٹے کی شادی کے وقت سے ہی یہ عہد کر لیا تھا کہ وہ شادی سے فراغت کے بعد اب چار پانچ بجے ہی سو جایا کریں گی۔ زمانہ بدل گیا ، وقت کے تقاضے بدل گئے لیکن میری ماں اپنے اس عہد پر آج بھی قائم ہے، وہ سرے شام ہی خراٹے مارتی ہوئی بے فکری سے سو جاتی ہے۔ ان کو تنہا ایک کمرے میں لیٹا دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ میری وہ ماں جس نے ساری زندگی ایک چھوٹے سے ریلوے کوارٹر میں گزاردی جس کی آنکھوں کے سامنے شوہر سمیت ان کے پانچ بچے سوتے تھے رات کے کسی بھی پہر وہ ان کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتی تھی ، آج وہ اس لئے اپنے کمرے میں تنہا لیٹی ہوئی ہے کہ اس کے تمام بچوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور وہ سب اپنے اپنے کمروں اورگھروں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش و خرم ہیں، پانچ بچوں کی ماں کو تنہائی کا یہ احساس یقیناً پریشان کرتا ہوگا۔ بچپن میں جو یہ کہہ کر ماں کے سینے سے لگ جاتے کہ مجھے ڈر لگتا ہے لیکن جوان ہونے کے بعد اسی ماں کو سر شام ہی تنہا چھوڑ جاتے ہیں ۔ کیا ہم اپنے بچوں سے اسی سلوک کی توقع کرتے ہیں ہر گز نہیں۔ لیکن آج ہم جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے۔ یقینا کچھ عرصہ بعد ہمارے بچے بھی ہمیں تنہائیوں کا شکار کر کے خود اپنے بچوں کے ساتھ انجوائے کرتے نظر آئیں گے اور بڑے فخر سے یہ بات کہیں گے کہ ہم نے ماں باپ کو روٹی تو کھلا دی ہے اور انہیں کیا چاہئے۔ لیکن یہ بات بڑے دکھ سے کہنی پڑتی ہے کہ بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی اس ماں کو صرف روٹی اور کپڑے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اپنے بچوں سے اسی پیار اور محبت کی طالب گارہے جس کی طلب بچپن میں ہم سب بہن بھائی اپنی ماں سے کیا کرتے تھے۔ کاش ہم بڑے ہو کر بھی اسی طرح شدید محبت اور والہانہ جذبات کا مظاہرہ کرتے۔ بڑھاپے اور بے وسائلی کی دہلیز پر کھڑی ماں کو ایک دوسرے سے بڑھ کر اتنی محبت دیں جس کا ہم بچپن میں ان سے تقاضا کرتے چلے آئے ہیں لیکن اس ترازو میں جب ہم اپنے رویوں اور ماں کی محبت کو تولتے ہیں تو ہمیں اپنا وزن کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ ماں کی محبتوں کا تمام مرکز صرف ہم ہی ہوتے تھے اور ماں ہر بچے کو اس کے حصے کی محبت اور توجہ ازخود دیتی تھی لیکن ہم نے اپنی محبتوں کا رخ ماں کی جانب سے موڑ کراپنی اولاد کی طرف کر لیا ہے جو جوان ہو کر ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو ہم اپنی ماں سے کر رہے ہیں۔

بہر کیف جب ماں میری آواز سن کر چارپائی سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی تو میں یہ سوچ کر پریشان ہو گیاکہ خدانخواستہ میری ماں کی طبیعت تو خراب نہیں ہے ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بجلی کے بورڈ پر نصب سوئچ پر میرا ہاتھ جا پہنچا۔ جونہی لائٹ روشن ہوئی ماں کا پیارا پیارا ہنستا مسکراتا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ پلک جھپکتے میں ، میں نے ایک نیا اور خوبصورت کپڑوں کا سوٹ ماں کے سامنے رکھ دیا۔ اپنے لئے نئے سوٹ کو دیکھ کر ماں کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی اس لمحے ماں کی آانکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے کچھ دیر غور سے کپڑوں کو دیکھنے کے بعد ماں نے کہا کہ کیا میں نے صرف تمہیں ہی جنم دیا ہے۔‘‘ دبے لفظوں میں ماں کا یہ اپنے ان بچوں کے رویوں کے خلاف احتجاج تھا جو ہزاروں روپے اپنی ذات اور بچوں پر تو خرچ کر دیتے ہیں لیکن کبھی ماں کو کچھ دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ماں تو ویسے بھی بہت صبر مند ہوتی ہے۔ اس نے کبھی کسی بچے سے کچھ نہیں مانگا۔ اس کو جو مل جاتا ہے وہ کھا لیتی ہے جوفراہم ہو جاتا ہے وہ پہن لیتی ہے۔ لیکن جب بھی گھر میں قربانی کا وقت آتا ہے تو ماں اپنے پاس کچھ نہ ہونے کے باوجود سب سے پہلے اپنی ذات کی قربانی دیتی ہے۔ بہت دنوں سے ماں کے گلے میں سونے کا لاکٹ نظر نہیں آ رہا تھا جسے میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں۔ پہلے پہل ماں سے پوچھنے کا اس لئے حوصلہ نہ ہواکہ اس طرح ماں کے دل پر لگے ہوئے زخم تازہ نہ ہو جائیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ماں کو سونے کے یہ تعویذ بہت پسند تھے جس کا اظہار وہ اکثر وبیشتر کرتی تھی۔ ماں نے ان تعویذوں کو انتہائی مشکل دنوں میں بھی فروخت نہیں کیا۔ چونکہ سونا اور بچہ ہر عورت کی کمزوری ہوتا ہے۔ پھر میری ماں جیسی عورت کو تو اس لئے بھی سونے کا لاکٹ پیارا تھا کہ عمر کے جس حصے میں وہ تھی اس کو دوبارہ خرید کر پہننے کی توفیق کہاں مل سکتی تھی؟ میں نے ایک دن ہمت کر کے پوچھ ہی لیا تو ماں نے یہ کہہ کر اپنا غم اپنی ذات میں ہی گم کر لیا کہ اسے میں نے فروخت کردیا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں جانتا تھا لیکن میں کسی بھی صورت ماں کے دکھوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا اس لیے خاموش ہوگیا۔

ان دنوں ماں کو میں ایک ایسے بادشاد کے روپ میں دیکھ رہا ہوں جس کی سلطنت اس سے چھین لی گئی ہو۔ ماں نے اپنی زندگی کے 68 سال تک اس گھر پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کی تھی۔ گھر میں وہی ہوتا جو ماں چاہتی۔ بہوؤں اور بیٹوں کو اختلاف کی بہت کم جرأت ہوتی۔ پھر جب ماں کی ذات سے بیٹے یکے بعد دیگرے الگ ہو گئے تو اس نے اپنے دل پر بھاری پتھر رکھ لیا، لیکن ان دنوں ماں کے کرب اور بے چینی میں اس لئے اضافہ ہو گیا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے ماں کی حکمرانی والے گھر میں اس کے ساتھ رہنے والے دونوں چھوٹے بیٹے بھی الگ الگ ہو گئے تھے۔ جہاں ایک چولہا جلتا تھا وہاں اب دو جلنے لگے، جہاں ایک کھانا پکتا تھا وہاں دو پکنے لگے۔ بے شک دونوں بھائی ماں کی رضا مندی سے ہی الگ ہو ئے تھے لیکن ماں کو اس کا شدید دکھ بھی تھا۔ اب جب میں اپنی ماں کے چہرے کو پیار سے دیکھتا ہوں تو اس کے چہرے پر درد و کرب اور اذیت کی لہریں جا بجا نظر آتی ہیں۔ ماں کسی کو کچھ نہیں کہتی ماں کو مجھ سمیت تمام بچوں نے یقین دلایا ہے کہ ان کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا لیکن یہ سب تسلیاں اور سب حوصلے اس کی حکمرانی تو واپس نہیں لا سکتے، ہو سکتا ہے دونوں بھائیوں کی علیحدگی کی عمل میں نہ آتی لیکن بجلی‘ گیس کے بلوں اور گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ذہنوں میں خلیج پیدا کر دی تھی جسے کم سے کم کرنا اسی طرح ممکن تھا کہ دونوں بھائی اضافی اخراجات ماں پر ٹھونسنے کی بجائے خود برداشت کریں ۔حالانکہ مجھے اس گھر سے پہلے سے زیادہ اہتمام سے کھانے کو ملنے لگا تھا لیکن یہ کھانا مجھے وہ اپنائیت نہیں دے سکا جو ماں کی حکمرانی میں پکا ہوا کھانا لذت دیتا تھا۔ میرے نزدیک ماں وہ سایہ دار درخت ہے جو اپنی آغوش میں درجنوں بچوں کو تو راحت فراہم کر سکتا ہے لیکن درجن بھر بچے مل کر بھی ایک ماں کو وہ سکون اور قرار نہیں دے سکتے جس کی ہر ماں کو بڑھاپے میں ضرورت ہوتی ہے ۔ بچے صرف یہ تصور کر کے اپنے معمولات میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ ماں کو دو وقت کی روٹی تو مل رہی ہے۔ انہیں کون سمجھائے کہ ماں صرف روٹی کپڑانہیں مانگتی ،بلکہ اپنی اولاد کی قربت اور ان کا وہ پیار مانگتی ہے جس کا تقاضا بچپن میں اولاد اس سے کرتی تھی۔ جو ہم اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں لیکن ماں کو دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ کاش خالق کائنات اتنی ہی محبت اولاد کے دل میں بھی ڈال دیتا جتنی محبت ماں کے دل میں اولاد کے بارے میں ڈال رکھی ہے۔کسی نے کیاخوب کہا ہے حضرت آدم علیہ السلام کے والدین نہیں تھے اس لیے ان کے دل میں جتنی محبت تھی وہ اپنی اولاد کے لیے ہی تھی ہم بھی اولاد آدم ہیں اور ہماری محبتوں کا رخ والدین کی جانب ہونے کی بجائے اپنے بیوی بچوں کی جانب ہی ہوتاہے ۔

بہرکیف مجھے اپنی ماں کے وہ الفاظ زندگی بھر نہیں بھولتے جو اس نے اپنے ہاتھوں میں کپڑوں کا نیا جوڑا پکڑ کر مجھ سے مخاطب ہو کر کہے تھے کہ ’’کیا میں نے صرف تمہیں ہی جنم دیا ہے۔‘‘

ماں کے یہ الفاظ میرے لئے ایک سند کا درجہ رکھتے ہیں، چونکہ میں ماں کو دنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ پیار کرتا ہوں اس لئے ہر مشکل اور راحت بھری گھڑی میں اﷲ تعالیٰ کے بعد ماں کو ہی یاد کرتا ہوں اور جب میرا دل اداس ہوتا ہے تو بے ساختہ میری زبان سے حضرت شاہ حسین کی کافی کے یہ بول نکلتے ہیں ۔

مائے نی میں کنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حا ل نی
بقیہ صفحہ نمبرتین پر

دھواں دھکھے میرے مرشد والا
جاں پھولاں تے لال نی
سولاں مار دیوانی کیتا
بر ہوں پیا ساڈے خیال نی
دکھاں دی روٹی سولاں دا سالن
آہاں دا بالن بال نی
جنگل بیلے پھرے ڈھڈیندی
اجے ناں پائیو لال نی
رانجھن رانجھن پھراں ڈھوڈیندی
رانجھن میرے نال نی
کہے حسین فقیر نمانا
شوہ ملے تے تھیواں نہال نی
مائے نی میں کنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 575 Articles with 291608 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2020 Views: 397

Comments

آپ کی رائے