اسلام کے تشخص کو ہر زمانے میں چند بدبخت مسلمانوں نے ہی نقصان پہنچایا ہے۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد میں کسی حد تک کمی واقع ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ عالمی سطح پر پھیلی اس وبا سے متاثرین کی تعداد 38,47,278سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 2,69,598سے زائد ہے۔ یہ وائرس تقریباً دو سو ممالک کے عوام کو متاثر کرچکا ہے ۔ جانی نقصان کے ساتھ معیشت کو اس وائرس نے شدید متاثر کیا ہے ۔ لاکھوں گناہوں کے اڈے بند ہیں ۔ عبادات کیلئے بھی عام لوگوں کو عبادتگاہوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ حرمین شریفین اور بیت المقدس جیسے مقدس مقامات بھی عام مسلمانوں کیلئے بند کردیئے گئے ہیں۔ کروڑوں مسلمان ماہِ صیام میں اس وباسے بچنے کیلئے دعائیں کررہے ہیں ۔ وائرس کا خوف جس قدر بتایا گیا ہے اور مرنے کے بعد جس طرح تدفین کی جارہی ہے اسے دیکھ کر بھی لوگ خوفزدہ ہیں، بعض مقامات پر تو مرنے کے بعد انہیں قبرستانوں میں تدفین کرنے سے روکا گیا ۔ حالات انتہائی سنگین ہونے کے باوجود آج بھی لوگ معمولی معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے کرتے ہوئے زندگیوں کے دشمن بن رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں حیدرآباد کے ایک محلہ میں چبوترا بیٹھک کے اعتراض پر مسلمانوں میں سخت مارپیٹ ہوئی ، لاٹھیوں اور بیاٹس سے ایکدوسرے کو مارلیا گیا جس کی وجہ سے دونوں جانب کے یعنی چبوترے پر بیٹھنے والے نوجوانوں اور اعتراض کرنے والے شدید زخمی ہوئے ۔ اسی طرح کا خطرناک واقعہ پاکستان پشاور کے نواحی علاقہ متھراکے محلہ صادق آباد میں افطاری کے دوران پیش آیا۔ بتایا جاتا ہیکہ شربت زیادہ میٹھا بنانے پر بھائی نے اپنی ہی سگی بہن اور بھائی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ملزم محمد اسحاق واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ایک اور قتل پنجاب کے ضلع جہلم میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے مقامی رہنما لیاقت گوندل کا قتل ہے جنہیں نماز کی حالت میں یوسف ملک نامی شخص نے قتل کردیا ۔ایسے موقع پر جبکہ انسانیت کورونا وائرس سے خوفزدہ ہے اور مسلمان ماہِ صیام میں اپنے آپ کو گناہوں سے پاک و صاف کرنے کیلئے اﷲ کی عبادات کرتے ہوئے گناہوں سے معافی چاہتے ہیں لیکن بعض گھرانوں کے نام نہاد مسلم نوجوان اپنے ہی گھروالوں یا پڑوسیوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی درندہ صفت مسلم نوجوانوں کی وجہ سے اسلام کے تشخص پر آنچ آتی رہی ہے ۔ ان نوجوانوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ آئندہ دوسرے نوجوان ایسی حرکت کرنے سے بچے رہے۰۰۰

کورونا وائرس کے نام پر مسلم حکمرانوں نے مسلمانوں کو مساجد سے دور کردیا۰۰۰
ایک ایسے وقت جبکہ مساجد روزہ دارمسلمانوں سے کھچا کھچ بھری رہتی تھیں۔ حرمین شریفین میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں فرزندان توحید اﷲ کے گھر کا طواف کرکے اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دے کر روحانی سکون حاصل کرتے تھے انہیں بھی کورونا وائرس کے نام پر ان عظیم الشان مقدس مقامات پر آنے سے روک دیا گیا۔اﷲ کے ان خاص مقدس ترین مقامات پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دعائیں کی جانی چاہیے تھیں وہیں مسلمانوں پر احتیاطی تدابیر کے نام پر روک لگادی گئی۔ یہ کیسے مسلم حکمراں ہیں جن کے دلوں میں ایمان کا وہ جذبہ نہیں جو ایک معمولی جاہل مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔آج مسلم حکمرانوں کا ایمان اتنا پختہ ہونا چاہیے تھاکہ اسے دیکھ کر اقوام عالم کے انسان اس مہلک وبا سے بچنے کے لئے ان سے دعاؤں کی گزارش کرتے ۔حرمین شریفین میں پابندی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے مساجد میں پابندی کے لئے مہر ثبت کردی ہے ۔ مسلمانوں کو مساجد سے دور رکھنے کیلئے یہی کہا جارہا ہے کہ مکہ مدینہ میں پابندی ہے تو یہاں کیوں نہیں؟

مصرکی تاریخی مسجد عمرو بن العاصؓ میں صرف تین نمازیوں کو تروایح کی اجازت
کورونا وائرس نے مصر میں بھی اہم رول ادا کیا ہے ، یہاں کی حکومت نے بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو روکنے کیلئے مصر کی تمام مساجد کو نمازیوں کیلئے بند کردیا ہے۔ مصر کی وزارتِ اوقاف اور مذہبی امور نے قاہرہ کے مشرقی علاقے میں موجود مصر کی تاریخی مسجد عمرو بن العاص میں خصوصی طور پر صرف تین نمازیوں کو تراویح کی اجازت دی ہے۔ تاریخی مسجد کیلئے دی گئی اس اجازت میں امام مسجد کے علاوہ دو ملازم شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہیکہ وزارت مواصلات قرآن کریم ریڈیو کے تعاون سے تراویح براہ راست نشر کررہا ہے۔نمازیوں پر تو پابندی عائد کررکھی ہے لیکن مساجد کی انتظامیہ کو تمام ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی شرط کے ساتھ مساجد میں آنے اور اذان دینے سمیت مساجد کی صفائی ستھرائی اور جراٹیم کش اسپرے کرنے جیسے امور انجام دینے کی اجازت ہے۔

بنگلہ دیش میں مساجد کھول دی گئیں
بنگلہ دیش میں جہاں کورونا وائرس (کووڈ 19) کے 12000مصدقہ کیسز ہیں ۔ اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد200بتائی جارہی ہے ۔ بنگلہ دیش میں اجتماعی نمازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس طرح بنگلہ دیش میں ایک ماہ کے بعد مساجد کھول دی گئیں ہیں۔

دنیا کا مقدس پانی ۰۰۰ زم زم
اب سعودی عرب نے آب زم زم کو معیشت کا ایک ذریعہ بنادیا ہے۔سعودی عرب میں یومیہ کنگ عبداﷲ پروجیکٹ برائے آب زم زم کے 2لاکھ سے زیادہ کین تیار کررہا ہے۔کنگ عبداﷲ پروجیکٹ کے ایگزیکٹیو ڈائر یکٹر انجینئر احمد کعکی نے کہا ہے کہ ادارہ ٹھیکیداروں کے لئے زم زم کے روزانہ دو لاکھ کین تیار کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ادارے کا ایک گودام بھی ہے جہاں 20لاکھ سے زیادہ زم زم کین محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔انجینئر احمد کعکی کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے آب زم زم پروجیکٹ میں زم زم کین کے اجرا کا عمل متاثر ہوا ہے۔ اس کے باوجود آب زم زم پروجیکٹ نے (پانڈا) اور آن لائن ایپ (منصۃ) کے توسط سے 7لاکھ سے زیادہ زم زم کین مارکیٹ کے حوالے کیے ہیں۔زم زم کین کی قیمت کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ منصۃ ایپ کے ذریعہ پانچ لٹر والا کین ساڑھے سات ریال میں مہیا کیا جارہا ہے۔ کین کے علاوہ ہوم ڈلیوری سروس اور کین کو پلاسٹک کور میں محفوظ کرنے کے چارجز شامل ہوتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ منصۃ آن لائن کے ذریعہ زم زم کی فراہمی ابھی مکہ مکرمہ کی حد تک محدود ہے۔ ایک صارف صرف چار کین ہی آن لائن طلب کرسکتا ہے۔پانڈا(مارکیٹ) کی تمام شاخوں میں جو مملکت بھر میں پھیلی ہوئی ہیں ایک کین پانچ ریال میں فراہم کیاجارہا ہے۔ ایک صارف ایک مرتبہ میں زم زم کے دو کین ہی حاصل کرسکتا ہے۔

ان حالات میں بھی جدہ میں سبزی فروخت گرفتار
جدہ میونسپلٹی نے غیر قانونی طور پر ٹھیلے لگانے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سبزی اور پھل ضبط کرلئے ہیں۔ میونسپلٹی عہدیداروں کا کہنا ہیکہ بلد اور ہنداویہ محلوں میں غیر قانونی طور پر سبزیاں فروخت کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔میونسپلٹی عہدیداربتاتے ہیں کہ کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرتے ہوئے گلی محلوں میں ٹھیلے لگانے والوں کی وجہ سے لوگ جمع ہورہے تھے۔اس طرح ٹھیلوں کے گرد بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا انتہائی خطرناک ہے جس سے اہل محلہ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔میونسپلٹی کا کہنا ہیکہ پولیس کی مدد سے منظم کارروائی کی گئی جس کے باعث بڑی مقدار میں سبزیاں اور پھل ضبط ہوئے ہیں، ان میں سے جو چیزیں قابل استعمال ہیں وہ خیراتی تنظیموں کے حوالے کی گئیں۔میونسپلٹی عہدیداروں کے مطابق کارروائی کے دوران 80ریڑھیاں ضبط ہوئی ہیں جنہیں موقع پر تلف کردیا گیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں ، ان حالات میں جدہ میونسپلٹی ان چھوٹے چھوٹے بے پاریوں کو روزگار سے محروم کرنے کی بجائے انہیں احتیاطی تدایبر کے ساتھ سبزی فروخت کرنے کی اجازت دیتی تو بہتر ہوتا، کیونکہ اکثر ان سبزی فروخت بے پاریوں میں غیر ملکی افراد ہوتے ہیں اور وہ اس طرح کی محنت مزدوری کرکے حلال کمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں قرآن مجید کے خطاط۰۰۰ عثمان طحہ
آج دنیا کے بیشتر ممالک میں جو قرآن مجید کے نسخیں پائے جاتے ہیں ان کی کتابت کرنے والے عثمان طحہ خطاط ہیں ۔ سعودی عرب میں کنگ فہد کمپلیکس برائے اشاعت قرآن کریم کے تیار کردہ قرآن کے نسخے دنیا بھر میں رائج ہیں۔ہندوستان،پاکستان اور بنگلہ دیش کی ہزاروں مساجد، گھروں، مدرسوں ،درسگاہوں اور جدید مراکز میں مختلف سائز کے یہ نسخے بڑے مقبول ہیں۔ قرآن مجید کے ان نسخوں کی خوش نویسی کا اعزاز شیخ عثمان طحہ کو حاصل ہے۔عثمان طحہ ملک شام میں پیدا ہوئے ، وہ محض دس روز کے اندر پانچ کلاسوں کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے اپنے اساتذہ کو حیران کردیا تھا، انہوں نے اسلامی علوم میں کمال حاصل کیا اور فراغت کے بعد شام کے مشہور شہر حلب کے ایک اسکول میں پرنسپل کے طور پر تعنیات کردیئے گئے۔عثمان طحہ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران بتاتے ہیں کہ وہ ایک سال حلب کے اسکول میں پرنسپل کے طور پرخدمات انجام دیں اورپھرانہیں دو برس کیلئے فوجی ٹریننگ پر بھیج دیا گیا۔ اسی دوران شام کی وزارت اوقاف نے 1980ء میں انہیں قرآن مجید کی کتابت کا کام سپرد کیا جسے اس وقت کے شامی صدر حافظ الاسد سے منسوب کیا گیا۔ انکے لکھے ہوئے قرآن کے 20ہزار نسخے شائع کئے گئے۔اس کے بعد 1986ء میں عثمان طحہ کو سعودی عرب میں کنگ فہد کمپلیکس برائے اشاعت قرآن کی طرف سے کام کی پیشکش ہوئی۔ جسے انہوں نے نہایت خوشی کے ساتھ قبول کیا، اور پھر وہ مدینہ منورہ میں ممتاز علماء کی نگرانی میں قرآن کے کئی نسخوں کی کتابت کی۔عثمان طحہ بتاتے ہیں کہ جب انہیں خانہ کعبہ کے اندر جانے کی اجازت ملی یہ لمحہ انکے لئے ا یساتھا کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ پاسکے اور زاروقطار رونے لگے۔ اسی گریہ وزاری کے عالم میں انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ قرآن کریم کی ان کی خدمت کو قبولیت کا اعزاز بخش دے۔الحمد ﷲ آج انکے ہاتھ سے لکھے ہوئے لاکھوں نسخے دنیا بھر کے مسلمان تلاوت فرماتے ہیں۔

ایرانی پولیس کی ظالمانہ کارروائی نے 56 افغان پناہ گزین زندہ دریا بْرد
افغانستان میں سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں 23 افغان پناہ گزینوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں ان 56 مقتول پناہ گزینوں میں شامل لوگوں کی ہیں جنہیں چند روز قبل ایرانی بارڈر پولیس نے غیرقانونی طورپرملک میں داخل ہونے کے بعد قتل کردیا تھا اور ان کی لاشیں افغانستان کی طرف بہنے والے دریا ’ھریرود‘ میں بہا دی تھیں۔افغان اخبارہشت صبحکے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی 23 پناہ گزینوں کی لاشوں والی تصویر ان 56 افغان مہاجرین میں شامل لوگوں کی ہے جنہیں ایرانی پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں جبراً دریا میں کودنے پر مجبور کیا گیا تھا۔اخباری رپورٹ کے مطابق ایرانی بارڈر پولیس نے پہلے تو افغان مہاجرین پر فائرنگ کی اور انہیں بارڈر پر روک لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی حالت میں دریا میں پھینک دیا تھا۔یہ تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب ان میں سے بچ جانے والے ایک پناہ گزین شرآقا طاہری نے بتائیں۔شرآقاطاہری نے بتایا کہ یہ پناہ گزین دو روز قبل محنت مزدوری کیلئے ایران جانے کی کوشش کررہے تھے مگر انہیں سرحد پرروکا گیا اور اس کے بعد انہیں مارپیٹ کی گئی اور جبراً دریا برد کردیا گیا۔یہ افغان شہری ایران اور افغانستان کے درمیان ذوالفقار کراسنگ پوائنٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ ان میں سے بیشترکا تعلق ایران کے ہرات اور فاریاب صوبوں سے ہے۔ صوبہ ہرات کے اسپتال کے ایک عہدیدار عارف جلالی نے بتایا کہ اسپتال میں دریا سے نکالی گئی پانچ افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔ہرات صوبے کے ترجمان جیلانی فرہاد نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے اوران کی لاشیں دریا میں پھینکنے کے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں گی۔درایں اثناء ہرات میں ایرانی قونصل خانے نے افغان پناہ گزینوں کو سرحد پر ایرانی پولیس کے ہاتھوں قتل کرکے ان کی لاشیں دریا میں پھینکنے کے واقعے کی سختی سے تردید کی ہے۔قونصل خانے کا کہنا ہے کہ افغان وزارت خارجہ مشہد میں قائم افغان قونصل خانے کے تعاون سے اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔ جلد ہی اس کے نتائج کابل حکومت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
***


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 95454 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2020 Views: 177

Comments

آپ کی رائے