تعلیم ہماری اولین تر جیح کیوں نہیں؟

(ABDULLAH Butt, )

حیرت ہے کے تعلیم وترقی میں ہے پیچھے
جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔کسی ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کے ذہنی ارتقاء کا اندازہ وہاں کی تعلیمی حالت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے

مذہب اسلام نے جتنا تعلیم پر زور دیا ہے شاید ہی دنیا کے کسی مزہب نے دیا ہو۔خا لقِ کاٸنات اپنے محبوب نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کو پہلی وحی میں اقراء کا حکم رے رہے ہیں اور صرف اِک بار ہی نہیں تین بار تلقین کی گٸی ہے۔اگر خا لقِ کا ٸنات اتنی عظیم ہستی کو اقراء کا حکم دے رہے ہیں جن کے لیے یہ دنیا بناٸی اوربساٸی گٸی تو کیا ہمیں تعلیم کی ضرورت نہیں؟ اور پھر وہی ہستی فر ما رہی ہیں کہ گود سے گور تک علم حا صل کرو۔تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ زندگی سیکھنے کا عمل ہے جو کہ ماں کی گود سے قبر تک جاری رہتا ہے ۔

یہا ں میں قارٸین کی نظرحضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کی زندگی سے ایک واقعہ نظر کرنا چا ہتا ہوں کہ ایک بار حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کسی جگہ تشریف فر ما ہوۓ تو وہاں دو مجلسیں لگی ہوٸی تھیں ایک علم کی،اور دوسری ذکر کی۔حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے دونوں کی تعریف کی اور علم کی مجلس میں جا کر بیٹھ گٸے۔

غزوہ بدر کا ہی واقعہ دیکھ لیں جو کفار قیدی بنے اِن میں سے جو پڑھنا لکھنا جا نتے تھے حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ فدیے کے طور پر مسلمانوں کے دس دس بچوں کو پڑھنا لکھنا سیکھا دیں۔خود اپنے بارے میں حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے کٸی بار فر مایاکہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔کیاہم بھی تعلیم پر اتنی ہی توجہ دے رہے ہیں؟

جو ریاستیں ترقی کرنا چاہتی ہیں یا اپنا مستقبل روشن کرنا چا ہتی ہیں وہ تعلیم کو فروغ دیتی ہیں۔ پا کستان جیسی ریاست کو دیکھ لیں خواندگی کی شرح پہلے ہی بہت کم ہے کروڑوں کی تعداد میں بچے سکول نہیں جا تے اور جو تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں وہ کورونا کی وجہ سے گھر بیٹھے ہیں۔

کورونا کی وجہ سے صرف تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش نہایت ہی افسوس ناک بات ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ منڈیاں، دفاتر،مارکیٹیں اور کاروباری ادارے سب کھول دٸیے گٸے ہیں۔مگر تعلیمی ادارے شروع دن سے ابھی تک بند ہیں۔یہ کیسا واٸرس ہے جس کو شکست دینے کے لیے منڈیاں،مارکیٹیں اور دوکانیں تو کھولی جا رہی ہیں مگر تعلیمی ادارے جہا ں سے قوموں کی تعمیر ہوتی ہے،ایک نٸی نسل پروان چڑھتی ہے انھیں بند کر کے ترقی اور شعور کی بات کی جارہی ہے۔کیا کوروناصرف تعلیمی ادارے کھولنے سے زیادہ پھیلے گا؟کیا منڈیوں اور مارکیٹوں میں لوگوں کی افراتفری اور گہما گہمی اس کو پھیلانے میں مددگار ثابت نہیں ہوگی؟یا صرف تعلیمی اداروں کو بند رکھنے سے ہی اس واٸرس پر کنٹرول کیاجا سکتا ہے؟کیا کورونا صرف پاکستان میں آیا ہے؟ امریکہ اور یورپی ممالک جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں تعلیمی ادارے تو وہاں بھی کھلے ہوۓ ہیں کیونکہ وہ لوگ تعلیم کی قدر جانتے ہیں۔پاکستان جیسے اسلامی جمہوریہ ملک میں جن کا مزہب اور تربیت کی اساس ہی تعلیم پر ہے وہاں تعلیمی ادارے بند کرکے قوم کے بچوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔

میری حکومتِ وقت سے اپیل ہے کہ وہ چند احتیا طی تدابیر کے ساتھ ان تعلیمی اداروں کو کھولیں کیونکہ اگر چند احتیاطی تدابیر اپنا کر اس واٸرس سے بچا جا سکتا ہے تو جہالت جیسے واٸرس سے بچنے کے لیے تعلیمی اداروں کو کھولنا بھی بہت ضروری ہے۔محمد اجمل کی اک نظم قارٸین کی نظر۔۔
تعلیم محبت بھی ہے،عظمت بھی
دکھی لوگوں کی بے لوث خدمت بھی
تعلیم ایمان بھی ہے،نظم و ضبط بھی
کردار بھی، یقین بھی،زندگی کا ربط بھی
تعلیم ہمت بھی ہے، عزم و عمل بھی
بندگی بھی ، رحمت بھی،لطف وفضل بھی
تعلیم تہہِ سمندر بھی ، خلا کی کہکشاں بھی
جو ستاروں سے آگے ہیں وہ جہاں بھی
تعلیم کھوج بھی ہے، فکرِ معاش بھی
زیرِ زمیں دفینوں کی تلاش بھی
تعلیم ہنر بھی ہے، کسب و کمال بھی
صراطِ مستقیم ہو تو رزقِ حلال بھی
تعلیم ناز اِک روشنی ہے نور ہے
ہر منزل اس کے بِنا دُور ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ABDULLAH Butt

Read More Articles by ABDULLAH Butt: 10 Articles with 3061 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2020 Views: 329

Comments

آپ کی رائے