نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کا نسخہ

(Muhammad saleem afaqi, Peshawar)

وہ ہماری بات ہی نہیں سنتے، گھر میں شور شرابہ کرتے ہیں بلکہ معمولی معمو لی باتوں پر ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں کتابوں کو ہاتھ لگانا تو گوارا ہی نہیں کرتے ہر وقت موبائل سے چمٹے رہتے ہیں اور چیٹنگ میں مصروف رہتے ہیں۔شوق رکھتے ہیں تو پتنگیں اڑانے کا،ذوق رکھتے ہیں تو ون ویلنگ کا،لمبے لمبے بال اور ڈیزائنی لباس اور ٹائم ضائع کرنے میں تو ان کا کوئی ثانی ہی نہیں جی ہاں یہ ہیں ہمارے دور جدید کے بچے اور یہ ہے ان کا حدود اربعہ جو ان کے والدین بتاتے ہیں اور ان کے خلاف شکایتیوں کے انبار لگا دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ایک طرف پیسہ کمانے کی ہوس عروج پر ہے تو دوسری طرف اخلاقیات کا جنازہ ہی نکل گیا ہے انٹرنیٹ، نت نئی ٹیکنالوجی اور کراس کلچر کی وجہ سے نوجوان نسل بھی بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے والدین کی لاپرواہی ،معاشی و معاشرتی بدحالی ، میڈیا پر ناچ گانے اور فحاشی کے کلچر نے تو ہماری نوجوان نسل کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی نظام تعلیم کا اولین اور بنیادی مقصد تعمیر سیرت ہوتا ہے وہ حیوان ناطق کی کردار سازی کرتا ہے۔انہیں آداب زندگی سکھاتا ہے۔اچھے اور برے میں تمیز کرنا سکھاتا ہے ۔حرام سے بچا کر حلال کا راستہ دکھاتا ہے۔صراط مستقیم کی شاہراہ پر ڈال کر پھر انہی بچوں کو معاشرے کا مفید شہر ی بناتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اخلاقیات کے زیور سے آراستہ ہو کر ہی ایک بچہ بہترین ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتا ہے۔

قوم کے اس سرمایے کو اگر راہ راست پر لانا ہے تو انہیں قرآن کریم آور اخلاقیات کی تعلیم دینا ہو گی ۔والدین کو اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کر نا ہو گی ۔ انہیں مناسب وقت دینا ہو گا سچ تو یہ ہے کہ سرکار نے تعلیمی اداروں میں قرآن کا ناظرہ اور ترجمہ لازمی کر کے قوم پر احسان کیا ہے صدیق احمد روغانی اور قاری اعجاز عادل جو کریکٹر ایجوکیشن فا ونڈیشن کے روح رواں ہیں ان کے ساتھ ایک نشست ہوئی جو بڑی مفید رہی یہ لوگ ناظرہ قرآن اور ترجمہ سکھانے کا انتظام پورے صوبے میں کر رہے ہیں یقینا لائق تحسین ہے جو وقت کی آواز بھی ہے اور ڈیمانڈ بھی ۔سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ بچوں_کیلئے موجودہ دنیا کے حالات میں اللہ اس کے رسول اور قرآن مجید کے ساتھ تعلق ہی ہم سب کی باحفاظت زندگی کے ضامن ہیں۔دنیا میں آزمائش اور جہنم سے نجات کا ذریعہ قرآن مجید ہی ہے۔آئیے ان مشکل لمحات میں قرآن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اس مقصد کیلئے اس کو احسن انداز میں خود پڑھنا بھی سیکیھیں اور اپنے بچوں کو بھی اس مقدس کام پر لگادیں۔

آپ_کی_سہولت_کیلئے ان شاءاللہ بہت جلد چند ہی دنوں میں عملاً آن لائن قرآن تجوید کیساتھ آسان طریقے سے ممکن ہو گا ٹیچنگ برائے طلبہ وطالبات، اور والدین اور ٹریننگ برائےاساتذہ کرام شروع کررہا ہے جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتےاساتذہ اور طلبہ گھروں میں بیٹھ کر آن لائن کلاسز قرآن ایجوکیشن لیتے رہینگے۔ اس کے لئے ایک ایپ بنائی گئی ہے جو فائدہ مند ہو گی کیریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن نان پر آ فٹ بیس ادارہ ہے۔یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے معاشرے کے بہترین تعلیمی ماہرین کا تعاون حاصل ہے۔.اس کا بنیادی مقصد اسکولوں کے طلبہ کی کردار سازی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارہ جہاں معیاری نصاب کی تشکیل اور اسکولز کو اس کی فراہمی کو یقینی بنا نے پر کام کر رہا ہے ۔وہاں اسکولز کے اساتذہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو اجاگر اور بلند کرنے لے لیے تربیتِ اساتذہ کا اہتمام بھی کر رہا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ طلبہ کی دینی ، سماجی، اخلاقی اور ذہنی تربیت تعلیم کے اہم ترین مقاصد ہیں۔

اس ادارے میں ہمارے پیش ِ نظر شخصیت سازی کا ہمہ گیر اور مکمل تصور ہے کہ ہم کس طرح اپنی نوجوان نسل کو کردار سازی کے مختلف مراحل سے گزار کر معاشرے کے لیے مفید شہر ی بنا سکیں۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اس ادارے نے اب تک تین منصوبے شروع کیے ہیں۔
قرآن ایجوکیشن پروگرام
کریکٹر ایجوکیشن پروگرام اور
کمیونٹی ایجوکیشن پروگرام یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ

اللہ رب العالمین نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ نوجوانوں کی تعداد 60 فیصد سے زائد ہے،بہترین اسٹریٹجک لوکیشن ہونے کی وجہ سیے پاکستان کو دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اس ملک میں چار موسم ہیں، ہر طرح کی زمین و پہاڑ ہیں جن میں قدرت کے بے شمار خزانے دفن ہیں، اہم بندرگاہیں ہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام بیش بہا وسائل کے ہو تے ہوئے بھی پاکستان صفِ اوّل کے ممالک میں شامل کیوں نہیں۔

جب ہم پاکستان کے اہم مسائل بدامنی، لاقانونیت، کرپشن اور فرقہ واریت کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ان تمام مسائل کا تعلق کردار کے بحران سے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی تک ہم وہ ہمہ گیر تربیت نہ کر سکے جو معاشرے کے لیے با مقصد اور مفید شہری فراہم کر سکے۔کردار سازی کو نظام تعلیم کا مر کز و محور بنائے بغیر نہ تو ہم ان مذکورہ مسائل کو حل کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعمیر و ترقی کا سفر ممکن ہے۔
اللہ تعالی نے جتنے بھی انبیا اس کرہ ارض پر بھیجے سب کے پیشِ نظر انسانوں کی زندگیوں کو سنوارنا اور ان کا تزکیہ نفس کرنا رہاہے۔ خود حضور نبی کریمﷺ کے فرائض منصبی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں مختلف مقامات پر جو افعال بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: کہ آپ ﷺ انسانوں پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں یعنی ان کی زندگیوں کو سنوارتے ہیں۔لہذا قرآن وسنت کردار سازی کی تعلیم کی نہ صرف بنیاد فراہم کرتے ہیں بلکہ عملی رہنمائی بھی ہمیں وہیں سے ملتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان کو معاشرے میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو کردار سازی کے نصاب کی بنیاد بنایا جائے۔ پاکستان ن میں 97 فیصد مسلمان ہیں اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اکٹریت بدقسمتی سے اس کے پیغام کو نہیں سمجھتے۔ ایمان لانے کے بعدقرآن کریم کے ہم پر چار حقوق بیان کیے گئے ہیں:
قرآن کی درست تلاوت
قرآن کا فہم
قرآن پر عمل (انفرادی و اجتماعی)
قرآن کا ابلاغ

ہم یہ چاہتے ہیں قرآن فہمی کے نصاب کے ذریعے ہم بچوں کو ان حقوق کی ادائیگی کے لیے تیار کر سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے قرآن مجید کی تعلیم کے لیے ایسا نصاب ترتیب دیا ہے جو بچوں کی تعلیمی نفسیات سے مطابقت بھی رکھتا ہے اور جدید طریقہ ہائے تدریس کو سامنے رکھ کر تیارکیا گیا ہے۔ ہمارے پیش نظر یہ ہے کہ بچہ اسکول میں رہتے ہوئے باقی مضامین کے ساتھ نہ صرف قرآن حکیم کو درست طور پر پڑھ سکے بلکہ اس کو سمجھنے کی استعداد بھی پیدا کرسکے۔ اس طریقہ تدریس کو ڈاکٹر عبدالعزیز عبدالرحیم نے متعارف کروایا جس میں ان کی کی 20 سالہ تحقیق شامل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے ، اور پیشے کے اعتبار سے جیالوجسٹ ہیں۔ انہوں نے قرآن کو آسان کرنے کے لیے زبان کو سیکنڈ لینگویج کے طور پر پڑھائے جانے والے اصولوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ذخیرہ الفاظ کی ترکیب کو قرآن پڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ قرآن میں استعمال ہونے والے الفاظ کی تعداد 78000 ہے ، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن کے صرف 125 ایسے الفاظ ہیں جو قرآن میں تقریباً 40 ہزار مرتبہ استعمال ہوئے ہیں اور یہ الفاظ نماز اور اذکار نماز پر مشتمل ہیں۔ یعنی اگر ہم نماز سمجھ کر پڑھ رہے ہوں تو قرآن کے پچاس فیصد الفاظ کا مفہوم سمجھنے کی استعداد پیدا کر لیتے ہیں۔

اسی طرح قرآنی گرامر کو سمجھانے کے لیے ٹو ٹل فزیکل انٹر یکشن کا استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی بچّہ دیکھ کر، سْن کر، سْوچ کر ، بول کر اور اشارہ کی مددسے سیکھ رہا ہے۔ قرآن کی تجوید اور ناظرہ کو آسان اور دلچسپ کرنے کے لیے ہم نے کورس کو Phonics کو استعمال کرتے ہوئے تیار کیا ہے یعنی حروف کی آوازوں کا تصور اور آوازوں کو ملا کر پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔دلچسپ اور آسان بنانے کے لیے حروف تہجی کی نظم بنائی ہے جو بچے دلچسپی اور آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔ مشکل قواعد کو آسان کہانیوں کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اسکولوںمیں قرآن پڑھانے کے لیے ہم نے کے جی تا جماعت دوئم آئو قرآن پڑھیں کورس ، جماعت سوئم تا پنجم فہم القرآن کورس اور جماعت ششم تا دھم مکمل قرآن مع مختصر تشریح شکیل دیا ہے۔ فہم القرآن کورس میں طالب علم روز مرّہ معمولات یعنی نماز اور مسنون و قرآنی اذکارکے ذریعے قرآن کے 70فیصد ذخیرہ الفاظ سیکھ لیتا ہے۔

جو ادارے ہمارا نصاب اختیار کرتے ہیں ہم ان کے اساتذہ کی تربیت کا مستقل اہتمام بھی کرتے ہیں۔ ابتدائی طور پر ہم نے 104 ماسٹر ٹرینرز تیار کیے، جن کی تعداد 300 تک بڑھانے کا ارادہ ہے۔

اگلے مرحلے میں ہم ٹیکنالوجی کے استعمال پر جانا چاہتے ہیں۔دنیا بھر میں لرننگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے تعلیمی دنیا میں بے شمار مواقع پیدا کیے گئے ہیں اور ہم ان شاء اللہ ان سے بھی استفادہ کریں گے۔
: ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کا مستقبل پاکستان سے اور پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ نوجوان نسل کی کردار سازی کو قومی سطح پر ترجیح اول قرار دیا جانا چاہیے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھے اور ان پر عمل کیے بغیر کردار سازی ممکن نہیں۔ لہذا نوجوانوں کو قرآن سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جو بھی ادارے کام کر رہے ہیں ان سے مشاورت اور اشتراک ہماری خواہش ہے۔ اس تجویز سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پرائمری لیول پر ناظرہ کی درسی کتاب لائی جائے تاک قوم کے بچے اس سے مستفید ہو سکیں۔```
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Afaqi

Read More Articles by Muhammad Saleem Afaqi: 15 Articles with 13026 views »
PhD Scholar in Education
MA International Relations
MA Political Science
MA Islamiyat
.. View More
13 May, 2020 Views: 282

Comments

آپ کی رائے