صحافت ۔۔خیر خواہی وخبرداری

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 قرآن کریم میں ارشاد ہوا’’اور سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور پرندے جمع کیے جاتے پھر ان کی جماعتیں بنائی جاتیں۔یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے،ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو اپنے گھروں میں گھس جاؤ، تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں نہ پیس ڈالیں،اور انہیں خبر بھی نہ ہو (سورہ النمل17+18)بے شک لاکھوں چیونٹی میں سے ایک چیونٹی نے سب کی جان بچانے کیلئے خبردارکردیا چیونٹی کی خبرمکمل اور مصدقہ تھی اسے میلوں دوری سے کیسے خبرملی اورکس نے مطلع کیا؟بے شک اسی پاک ذات نے جس کاعلم کامل ہے وہ جسے چاہے عطافرماتاہے مستقبل کی پیشن گوئی اﷲ تعالیٰ کی عطاکے بغیرممکن نہیں اورایسی خبریں دینے والوں میں انبیاء کرام اوراولیاء اﷲ شامل ہیں۔اچھی طرح یاد ہے مرشِدسرکارسیّدعرفان احمدشاہ نانگامست کی خدمت میں سوال پیش کیاکہ حکومت سے کیسی اُمید رکھنی چاہیے؟قربان جاؤں مرشِدسرکارنے فرمایاجیسی امیدکسی بے وقوف سے رکھی جاسکتی ہے مرشِدسرکارکی پیشن گوئی جوں کی توں سچ ثابت ہورہی ہے۔صحافت کامطلب خبردیناخبردارکرنااورصحافی اسے کہتے ہیں جوکسی بھی خبرکے متعلق جہاں تک ممکن ہوحقائق کی تحقیق و تصدیق کے بعد عوام الناس تک پہنچائے،صحافی اپنی خبر کے خیر وشر کاخودذمہ دارہوتاہے صحافی کافرض ہے کہ خبرعوام الناس تک پہنچانے سے قبل مکمل یاکم ازکم ممکنہ چھان بین ضرورکرے اورانتہائی سادہ الفاظ میں مکمل غیرجانبداری کے ساتھ نشرواشاعت کرے۔صحافت صرف انسانی معاشرے میں نہیں بلکہ جانوروں،پرندوں،حشرات اور دیگرمخلوقات کیلئے بھی بے حداہم کرداراداکرتی ہے فرق اتناہے کہ انسانی معاشرے میں صحافت ذاتی مفادات کی محتاج ہے جبکہ دیگرمخلوقات کیلئے صحافت خالصتاخیرخواہی کانام ہے انسانی معاشرے میں صحافی مخصوص طبقہ ہے جبکہ دیگرمخلوقات میں بوقت ضرورت سب ہی صحافی کاکرداراداکرتے ہیں ہم بچپن میں اکثرکسی کالے رنگ کی چیزکوکھلی جگہ میں لہراکرکووّں کواکٹھاکرکے خوش ہواکرتے تھے آپ آج بھی آزما سکتے ہیں کسی بھی جگہ جہاں اردگردکو ّے موجودہوں کسی کالی چیزکو ہوامیں لہرائیں کو ّے شورمچاتے ہوئے ایک دوسرے کوخبردیں گے اور جلدہی کافی تعدادمیں جمع ہوکرلہرائی جانے والی چیزکوکو ّاسمجھ کرآزادکروانے کی کوشش کریں گے اکثرپرندے اورجانورگروہوں میں رہتے ہیں دوران تلاش رزق سب چوکنے رہتے ہیں کسی بھی قسم کاخطرہ محسوس کرنے والے فورامخصوص شور مچاکرسب کوخبردارکردیتے ہیں یعنی پیشگی اطلاع دے دیتے ہیں راقم کے نزدیک اسی کوصحافت کہتے ہیں جودوسروں کی زندگی بچانے کیلئے بروقت آگاہی فراہم کرتی ہے انسانی معاشرے کی صحافت دیگرمعاملات کی طرح بالکل مختلف ہے جہاں صحافی کاتعلق اچھاہووہاں سیاہ بھی سفیدہوجاتاہے اورجہاں غصے میں آجائے سفیدبھی سیاہ کردیتاہے ہم تویہاں تک سن اوردیکھ چکے ہیں کہ انسانی صحافت جسے انگلش میں جرنلزم یامیڈیاکہتے ہیں حکومتیں بنانے اورگرانے میں اہم ترین کرداراداکرتی ہے سیاستدانوں کی مقبولیت میں اضافے یاکمی میڈیاکی مرہون منت ہوچکی ہے کسی بیماری یاجنگ کاخوف و ہراس پھیلاناہوتومیڈیابہترین جنگی ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجاتاہے یہاں تک کہنے پرمجبورہیں کہ ایٹم بم میزائل ٹینک ہوائی و بحری جنگی جہازوں سمیت دیگرتمام جدیدترین جنگی سازوسامان میڈیاکے مقابلے میں بہت کمزوراورزائد خرچ ثابت ہورہے ہیں۔گزشتہ دنوں محترم جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں صحافیوں کے احتساب کامطالبہ کیا۔احتساب شخصیات یاادارے نہیں بلکہ آئین و قانون کرسکتے ہیں شخصیات ایک دوسرے کیخلاف ذاتی بغض رنجش عداوت سیاسی و کاروباری مخالفت کی حامل ہوتیں ہیں ادارے بھی شخصیات کے زیرسرپرستی ہونے کے باعث زیراثرہوتے ہیں شخصیات کی آپسی محبت رشتہ داری لین دین بھی احتساب عدل و انصاف کے قیام میں رکاوٹ بنتے ہیں شخصیات توآتی جاتی رہتی ہیں یعنی حکمران اور اداروں کے سربراہان تبدیل ہوتے رہتے ہیں لہٰذاکسی شخصیت کے مزاج یامرضی کے مطابق احتساب ممکن ہوتب بھی شخصیت کے عہدے سے فارغ ہوتے ہی دوسری عہدہ سنبھالنے والی شخصیت اپنی مرضی و مزاج نافذکردیتی ہے یعنی احتساب کاتسلسل برقراررہناممکن نہیں جبکہ آئین و قانون کے تحت ہونے والااحتساب اورعدل وانصاف بصورت آئین وقانون پرعمل داری نہ صرف مکمل ہوسکتاہے بلکہ تسلسل کے ساتھ جاری رہنے سے کرپشن اوردیگرجرائم ختم ہوسکتے ہیں بلاامتیازاحتساب ہرادارے کوتمام طرح کی بدعنوانیوں سے پاک کرسکتاہے۔شخصیات کی بجائے آئین وقانون کاطاقتورہونااورتمام سول و عسکری اداروں کاآئین وقانون کے تابع ہوناکسی بھی ریاست اور عوام الناس کی ترقی و خوشحالی کاضامن ہوتاہے سینئرصحافی اینکرپرسن اورکالم نگارجاویدچوہدری نے جہاں میڈیا ہاوسزکی مالک شخصیات کاذکرکیے بغیرفقط صحافیوں کااحتساب کرنے کامطالبہ کیاوہیں یہ بھی سمجھادیاکہ آزادمیڈیاکے بغیرجمہوریت نہیں ہوتی اور جمہوریت کے بغیرآزادمیڈیانہیں ہوتا۔راقم جیسے نیم جاہل پونے پاگل لوگ پورے منافق معاشرے کاحصہ کیاجانے جمہوریت کس چڑیاکانام ہے اورآزادصحافت کس کھیت میں اُگتی ہے ہم توفقط اتناہی جانتے ہیں کہ آزادی صحافت پرشب خون ماراگیا میڈیاکوآزادی اظہاررائے کاحق حاصل نہیں کبھی جمہوریت پرشب خون مارجاتاہے یاپھرہمیشہ جمہوریت ہروقت خطرے میں رہتی ہے بقول جاویدچوہدری جمہوریت و آزادمیڈیاساتھ ساتھ ہوتے ہیں بالکل حقیقت ہے ہم اس حقیقت کااعتراف کرنے کی ہمت کریں توبہت ساری باتوں کی سمجھ آجاتی ہے پرہمیں وہ سب کچھ کہنے لکھنے کی آزادی یاجرات اظہارنہیں جوآزادصحافت اورجمہوریت کی بحالی کیلئے لازم سچ ہیں ۔۔اُمیدہے کہ خاموشی جسے ہم باخوبی سمجھتے ہیں آج بھی سب سمجھ گئے ہوں۔۔یہ سچ ہے کہ ہم سب سمجھ گئے ہیں جب ملک میں جمہوریت ہوگی تب ہی میڈیاآزاداورخوشحال ہوگا تب ہی کوئی سچ بولناچاہے تواسے سچ بولنے کی اجازت ہوگی اورسچ بولنے پراس کے جان ومال بیوی بچے والدین اور بہن بھائیوں کوکسی خطرناک صورتحال کاسامنانہیں کرناپڑے گا۔جاویدچوہدری کے بعدحامدمیرصاحب نے بھی یہ مطالبہ کیاکہ آؤہماراحتساب کروپرسوشل میڈیاپرجھوٹی خبریں مت پھیلاؤ ہم احتساب کیلئے تیار ہیں حامد میرصاحب نے اپنے کالم میں لکھا ’’جن اہلِ صحافت نے ماضی کی حکومتوں سے ناجائز مراعات اور رشوتیں وصول کیں اُنہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اُن کی فہرستیں بھی شائع کی جائیں پرسوشل میڈیا کے ذریعے صحافیوں کے خلاف بے بنیاد الزامات اور گالم گلوچ کا سلسلہ بند کیا جائے حامدمیر نے جاوید چوہدری کے مطالبے کی بھرپور حمایت کی،آج راقم بھی جاویدچوہدری صاحب اور حامدمیرصاحب کے مطالبے میں تھوڑے اضافے کے ساتھ کہ صرف صحافیوں نہیں بلکہ میڈیامالکان کابھی سخت ترین احتساب کیاجائے بھرپورحمایت کرتاہے۔صحافیوں کوتویہاں قتل بھی کردیاجاتاہے احتساب کیاچیزہے ہم ہروقت احتساب کیلئے تیارہیں پرساتھ ہی حکومت کابھی احتساب کیاجائے میڈیاکے نام پرسیکریٹ فنڈکس کیلئے اورکیوں قائم ہے ہمیں بھی بتایاجائے حکومت کسی صحافی کوفنڈکیوں دیتی ہے اوربدلے میں کیالیتی ؟سوشل میڈیایااحتساب کے نام پرتوکیاصحافت توصحافیوں کوقتل کرکے بھی ختم نہیں ہوسکتی مافیانے بہت سارے جعلی لوگوں کومیڈیاہاؤسزکاممبراورمالک بناکراہل صحافت کوبدنام اورکمزورکردیاہے پرآج بھی صحافت اپنی جگہ قائم ودائم ہے اوہمیشہ رہے گی صحافت صرف انسانی معاشرے میں ہوتی تونایاب ہوسکتی تھی اﷲ پاک نے صحافت کوتمام ترمخلوقات میں خیرخواہی وخبرداری کیلئے پیدافرمایاجوقیامت تک چلتی رہے گی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 301004 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2020 Views: 166

Comments

آپ کی رائے