رمضان اور لیلتہ القدر

(Salman Usmani, )

رمضان کی راتوں میں ایک رات‘ شب ِقدر کہلاتی ہے جو بہت ہی خیر وبرکت والی رات ہے، جس میں عبادت کرنے کو قرآن کریم (سورۃ القدر) میں ہزار مہینوں سے افضل بتلایا گیا ہے۔ ہزار مہینوں کے 83 سال اور 4 ماہ ہوتے ہیں۔ گویا اِس رات کی عبادت پوری زندگی کی عبادت سے زیادہ بہتر ہے۔ اور ہزار مہینوں سے کتنا زیادہ ہے؟ یہ صرف اﷲ ہی کو معلوم ہے۔

نبی اکرم ﷺکے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ لہٰذا اِس آخری عشرہ کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔ پانچوں نمازوں کو جماعت سے پڑھنے کا اہتمام کریں،دن میں روزہ رکھیں، رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزاریں، تراویح اور تہجد کا اہتمام کریں، اﷲ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ اپنے اور امت مسلمہ کے لیے دعائیں کریں۔ قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کریں۔ سورۃ القدر میں شب قدر کا ذکر فرمایا گیا:ترجمہ: بے شک ہم نے قرآن پاک کو شب ِقدر میں اتارا ہے،یعنی قرآن شریف کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اِس رات میں اتارا ہے۔ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے، یعنی اس رات کی بڑائی اور افضیلت کا آپ کو علم بھی ہے، کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں۔

اس کے بعد چند فضائل کا ذکر فرماتے ہیں، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یعنی ہزار مہینوں تک عبادت کرنے کا جتنا ثواب ہے اس سے زیادہ شب ِقدر کی عبادت کا ہے، اور کتنا زیادہ ہے؟ یہ اﷲ ہی کو معلوم ہے۔ اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اترتے ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں۔ اور یہ خیر وبرکت فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔سورۃ العلق کی ابتدائی چند آیات اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق․․․․ سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۃ القدر میں بیان کیا کہ یہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۂ الدخان کی آیت :3:۔انَّا اَنْزَلْنَاہ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃ اور سورٔ البقرہ کی آیت: 185:۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔

شب قدر کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مقصود ہیں۔ ایک یہ کہ یہ وہ رات ہے جس میں تقدیروں کے فیصلے کئے جاتے ہیں جیسا کہ سورۂ الدخان آیت :4:۔ میں ہے: فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ یعنی اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر ومنزلت اور عظمت وشرف رکھنے والی رات ہے۔اس رات میں قرآن کریم کے نازل ہونے کا مطلب لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اترنا ہے یا اس رات میں پورا قرآن کریم حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کیا جانا مراد ہے یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کے نزول کی ابتدا اس رات میں ہوئی اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً 23 سال کے عرصہ میں نبی اکرمﷺپر نازل ہوا۔اس رات کی فضیلت واہمیت کے متعلق متعدد احایث کتب احادیث میں موجود ہیں، یہاں اختصار کی وجہ سے چند احادیث ذکر کررہا ہوں، اﷲ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے والا بنائے، آمین۔

٭رسول اﷲ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص شب ِقدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) کھڑے ہونے کا مطلب: نماز پڑھنا، تلاوتِ قرآن اور ذکر وغیرہ میں مشغول ہونا ہے۔ ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ خالص اﷲ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عمل کرنا ہے٭رسول اﷲ ﷺنے ارشاد فرمایا: تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا سارے ہی خیر سے محروم رہ گیا، اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقا ً محروم ہی ہے (ابن ماجہ)٭رسول اﷲ ﷺنے ارشاد فرمایا: شب ِقدر کو رمضان کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو (بخاری)(مذکورہ حدیث کے مطابق‘ شب قدر کی تلاش 21 ویں، 23 ویں، 25 ویں، 27 ویں، 29ویں راتوں میں کرنی چاہئے)٭حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور اکرمﷺسے پوچھا کہ یا رسول اﷲﷺ اگر مجھے شب قدر کا پتہ چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: پڑھو: ’’اللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘ (اے اﷲ تو بیشک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو، پس مجھے بھی معاف فرمادے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، ترمذی)

شب قدر کی دو اہم علامتیں کتب احادیث میں مذکور ہیں: ایک یہ کہ رات نہ بہت زیادہ گرم اور نہ بہت زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور دوسری علامت یہ ہے کہ شب قدر کے بعد صبح کو سورج کے طلوع ہونے کے وقت سورج کی شعاعیں یعنی کرنیں نہیں ہوتی ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Usmani

Read More Articles by Salman Usmani: 91 Articles with 41175 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2020 Views: 296

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ