کچی مسجد والے کا رستہ چنئے!

(Shahid Mushtaq, Sambrial)

کچھ ذیادہ عرصہ نہیں ہوا ایک خبر نے پاکستان کے ہردردمند دل کو دکھی اور اداس کردیا تھا ہم بڑے کمزور حافظے والی قوم ہیں اب شائد وہ حادثہ کسی کو یاد ہو یا نہ ہو ، کل رات یوٹیوب پہ میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھاجس میں ہمارے مسلمان حکمرانوں کی بے بہا دولت اور ان کی مہنگی ترین عیاشیوں کے تذکرے نے مجھے اچانک وہ حادثہ یاد دلا دیا ، وہ سانحہ( جی ہاں میں اسے سانحہ ہی کہوں گا)لکھنے سے پہلے میں آپ کو ایک حیران کن بات بتاتا ہوں یوں تو ساری مسلم برادری کے حکمران عیاشی اور عوام کا پیسہ برباد کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں لیکن ایک حکمران کے چھوٹے بھائی ایسے بھی ہیں جنہوں نے مسلسل دس سال تک روزانہ ایک سو چھبیس کروڑ روپے خرچ کرنے کا عالمی اور کبھی نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ بنا کر دنیا کو حیران کردیا۔ یہ برونائی کے بادشاہ حسن البولکیہ کے چھوٹے بھائی پرنس جیفری ہیں ۔

اب آتے ہیں اس واقعہ کی طرف جس نے مجھے یہ ساری تمہید باندھنے پہ مجبور کیا " گھر میں بے تحاشہ غربت تھی ، تمام تر کوشش کے باوجود باپ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے میں ناکام ہو رہا تھا، ایک دن مایوسی حد سے بڑھ گئی تو اس نے زہر کے پانچ گلاس تیار کئے اور بچوں کو قسم دی کہ سب ایک ہی بار پئیں گے تاکہ کوئی کسی پہ رونے والا باقی نہ بچے ، سوئے قسمت کے ایک بچہ بچ گیا اور باقی سب غربت و بے بسی کی بھینٹ چڑھ گئے ، بعد میں بچ جانے والے بچے نے یہ ساری کہانی سنائی جس نے پوری انسانیت کا جگر چھلنی چھلنی کردیا، آج بھی یہ قصہ لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہیں۔

آج کل اخبار پڑھنے کو دل نہیں کرتا اکثر خبریں بڑی پریشان کن ہوتی ہیں گزشتہ ہفتے سیالکوٹ شہر میں ایک درندہ صفت باپ نے اپنے تین بچوں کو قتل کردیا، پھر کہیں بھوک سے بلبلاتےبچوں کو ماں نہ دیکھ سکی اور بچوں سمیت اپنی بھی زندگی کا خاتمہ کرلیا اور شائد کل کی خبر تھی ایک گھر میں کھانے پینے کو کچھ نہ تھا بچوں کو پانی سے روزہ افطار کرتے دیکھ کر باپ برداشت نہ کرسکا اور اپنی جان ہی لے بیٹھا ۔

ایسے بہت سارے واقعات آئے روز ہورہے ہیں، ہم روز ایسی خبریں پڑھتے یاسنتے ہیں اور افسوس کئے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں حکمران اصل جوابدہ ہیں لیکن کیا ہماری ایسے لوگوں کے متعلق کوئی ذمہ داری نہیں بنتی ؟ کیا ایسی بے حسی کا مظاہرہ کرکے ہم اپنے معاشرے کو ایک پرسکون فلاحی اور اسلامی اخوت و بھائی چارے والا معاشرہ کہہ سکتے ہیں کیا ساری ذمہ داری صرف حکمرانوں کی ہی بنتی ہے اور کیا ہماری ساری دین داری اور تقوی صرف نماز روزے اور حج یا ذیادہ سے ذیادہ اپنے گھر اور عزیزوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیاہے ؟ اگر ایسا ہے اور یقنا" ایسا ہی ہے تو خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اپنا جائزہ لیں، ایک بھوکے کے لئے اس حاجی نمازی صاحب سے جو اپنے مال پہ سانپ بن کر بیٹھا ہواہے کہیں بہتر وہ چور ہے جو چوری کے مال سے غریبوں کا پیٹ تو بھرتا ہے ۔

ہم نے جب سے طاہر ویلفئیرفاونڈیشن بنائی ہے دکھوں اور مصیبتوں کی ایک ایسی دنیا ہے جس سے ہرروز واسطہ پڑتا ہے دور دور سے لوگ فون کالز پہ اپنی پریشانیاں بتا کر مدد کی درخواست کرتے ہیں ظاہر ہے ہمارے بھی محدود سے اسباب ہیں، لیکن اگر ہر صاحب حیثیت اپنے اردگرد نظر رکھے اور چپکے سے ضرورت مندوں کے کام آنے کی کوشش کرے تو بہت سارے لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔

خدارا صرف نماز روزے اور ظاہری وضع قطع سے لوگوں کو متاثر کرنا چھوڑیں، دکھاوے کے لئےبڑی بڑی عالیشان مساجد بنانا بند کردیں، مہنگے مہنگے خطیب اور نعت خواں بلانا بھی چھوڑیں اور یہ سب پیسہ لوگوں کی خدمت میں لگائیں، میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر خلفاء راشدین کےمبارک دور میں بھی ان کے پہلو میں مسجد کچی ہی تھی لیکن پورے مدینے میں کوئی بھوکا نہیں ملتا تھا ، یہ ہے ہمارے رہنماء صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل سیرت اس پہ عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Mushtaq

Read More Articles by Shahid Mushtaq: 107 Articles with 38856 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 May, 2020 Views: 187

Comments

آپ کی رائے