گھر والوں کو عید پر سرپرائز دینے کی خواہش رکھنے والا لیفٹنٹ میر بالاچ بگٹی شہادت کا تاج سر پر سجائے سب کو حیران کر گیا


بعض لوگوں کو ہر کام کرنے کی بہت جلدی ہوتی ہے شائد انہیں اس بات کا پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ کاتب تقدیر کوئی کھیل کھیلنے والی ہے-

اس وجہ سے وہ سارے ہی کام جلدی جلدی کر ڈالتے ہیں تاکہ وقت کے کسی بھی وار سے قبل اپنے کاموں سے فارغ ہو جائیں-

ایسا ہی نوجوان میر بالاچ بگٹی بھی تھا وہ پیدائشی ایک فوجی تھا اس کی زندگی کے ڈسپلن نے ہی اس کو کم وقت میں آرمی کا حصہ بنا دیا- کیڈٹ کالچ اسٹیل ٹاؤن سے انٹر کرنے کے بعد اس کا سلیکشن آرمی میں ہو گیا جہاں سے لیفٹنٹ کے عہدے پر فائز تھا اور اگلے مہینے کیپٹن کے عہدے پر فائز ہونے جا رہا تھا-
 


اس کے گھر والے کراچی میں تھے لاک ڈاؤن کے سبب کافی دنوں سے گھر سے دور تھا- اس عید پر گھر والوں کو سرپرائز دینے کے خیال سے کراچی کے لیے اس طیارے میں سوار تھا جس کے سارے مسافروں کو اللہ نے رمضان کے روزوں کے انعام میں شہادت کے رتبے پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا تھا-

اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں میر بالاچ کا یہ کہنا تھا کہ کیسی عیدیں کہاں کی عیدیں دیدار ماں جب ہو جائے گا عید کر لیں گے- اپنی ماں کے دیدار کا یہ خواہشمند نوجوان عید کرنے کی حسرت دل ہی میں لیے سب سے رخصت ہو گیا-

بالاچ کا شمار ان نوجوانوں میں ہوتا تھا جو کہ دوسرے تمام نوجوانوں کے لیے ایک مثال تھے- اسی وجہ سے کاتب تقدیر نے بھی انہیں ایک مثالی زندگی کے ساتھ ساتھ مثالی موت سے بھی ہمکنار کر دیا-
 


اگرچہ سانحہ کراچی کے اس جہاز کے حادثے کے بہت سارے پہلو بہت افسوسناک بھی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ لوگ ان شہدا کی شہادت پر رشک بھی کر رہے ہیں جن کو رمضان کا بابرکت وقت جمعتہ الوداع کی مقدس ساعتیں ، مسافری اور روزے داری کی حالت میں شہادت نصیب ہوئی- مگر یہ گھڑی ان شہدا کے لواحقین کے لیے قیامت کی گھڑی ہے اللہ اس شہید کی ماں کو صبر جمیل عطا فرمائے-

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: